کنڑا زبان سے ناواقف ہوتو پھر کرناٹکا میں وکالت کیوں کرتے ہو!۔ ایک وکیل کو کرناٹکا ہائی کورٹ کی پھٹکار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th February 2018, 8:23 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 19؍فروری(ایس او نیوز) کرناٹکا ہائی کورٹ میں جب ایک وکیل نے کنڑا زبان میں لکھے گئے دستاویزات پڑھنے میں دقت محسوس کی تو جسٹس روی مولی مٹھ اور جسٹس کے سوم شیکھر کی ڈیویژن بینچ نے پھٹکار سناتے ہوئے کہا کہ جب کنڑا زبان سے واقف نہیں ہوتو پھر کرناٹکا میں وکالت کیوں کرتے ہو۔تم کوفوجداری معاملات میں وکالت نامے داخل کرنا بندکرنا چاہیے۔

ہائی کورٹ کی مذکورہ بینچ نے یہ ریمارکس ایک ایسے معاملے کے دوران سنائے جس میں کیشو نامی شخص نے اسے اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں سیشنس کورٹ سے سنائی گئی عمر قید رد کرنے کی کریمنل اپیل داخل کی تھی اور اس اپیل پر فیصلہ آنے تک عمر قید کی سزا معطل کرنے کے احکام جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ سیشنس کورٹ میں جو معاملہ پیش ہواتھا اس کے مطابق سن 2013میں کیشو نے اپنی بیوی کا قتل کرنے کے بعد خوداپنا گلا کاٹ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس معاملے کی سماعت کے بعد سیشنس کورٹ نے کیشو کو عمر قید کی سنائی جس کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے ملزم کیشو نے یہ موقف رکھا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کاقتل نہیں کیا تھا بلکہ جس شخص کے ساتھ اس کی بیوی کے ناجائز تعلقات تھے اسی نے قتل کیا تھا۔اور سیشنس کورٹ نے جو سزا اسے سنائی ہے وہ غلط ہے۔

اس تعلق سے ہائی کورٹ بیچ نے کیشو کے وکیلوں کو گواہوں کے بیانات پڑھنے کے لئے دئے۔ لیکن ان میں سے ایک وکیل کنڑا میں درج ان بیانات کو پڑھنے میں دشواری محسوس کررہاتھااور بعض الفاظ غلط ڈھنگ سے پڑھنے لگاتو جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ گواہوں کے بیانات کنڑا میں درج ہوتے ہیں اور جب تمہیں کنڑا پڑھنانہیں آتا تو پھر تم کرناٹکا میں وکالت کیوں کرتے ہو؟ اس کے علاوہ کریمنل کیسس میں کسی انسان کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہوسکتا ہے ۔ ایسی صورت میں گواہوں کے بیانات کو پڑھے اور سمجھے بغیر تم اپنے مؤکل کو کس طرح انصاف دلاسکتے ہو۔ لہٰذا اگر تمہیں کنڑا زبان معلوم نہیں ہے تو پھر کل سے تم کو کریمنل معاملات میں کسی کی پیروی کے لئے وکالت نامہ داخل نہیں کرنا چاہیے۔

سرکاری وکیل کا موقف سننے کے بعد ہائی کورٹ نے سیشنس کورٹ کی طرف سے دی گئی سزا کو معطل کرکے سماعت اگلی تاریخ کے لئے ملتوی کردی ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

کرناٹک سیاسی بحران: یہ آئین اور دستور کی جیت ہے :ملی کونسل

کرناٹک میں جاری سیاسی ہنگامہ آرائی پر آج پہلی مرتبہ ملک کی معروف تنظیم آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے ردعمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت نے وہاں دستور کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی تھی

کرناٹک کے عوام نے تینوں پارٹیوں کو خوش کردیا

تمام ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے بعد کرناٹک کی سیاست ایک اطمینان بخش مرحلہ تک پہنچ گئی ہے ۔ ایڈی یورپا نے استعفیٰ دے دیا ، جے ڈی ایس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کا بننا تقریباًطے ہے۔

بی جے پی کی حکومت گرنے کے بعد اب کمارا سوامی ہوں گے نئے وزیراعلیٰ، چہارشنبہ کو لیں گے حلف

بی جے پی رہنما بی ایس ایڈی یورپا کے استعفیٰ کے ساتھ ہی جے ڈی ایس کے ریاستی سربراہ ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت میں کرناٹک میں تین دن پرانی بی ایس ایڈی یورپا حکومت بلاخر آج ختم ہوگئی جب چیف منسٹر ایڈی یورپا نے اعلان کیا کہ وہ ایوان میں اکثریت کے امتحان میں سامنا نہیں کرگے بلکہ اس سے ...

ہندوستانی سیاست کے لئے تاریخی دن: سدارمیا، چندرابابو نائیڈو، ممتابنرجی اوردیگر لیڈروں نے جمہوریت کی جیت قرار دیا

کرناٹک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے بی جے پی لیڈر یدی یورپا نے وزیراعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ یدی یورپا کے استعفیٰ پر تمام لیڈروں نے ردعمل ظاہر کیا۔