کرناٹک اسمبلی انتخابات: بی جے پی نے مسلم زیراثر علاقوں میں لگائی نقب ، کانگریس کو اُٹھانا پڑا نقصان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 11:51 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کرناٹک انتخابات میں مسلم اکثریتی 17 نشستوں پر بی جے پی نے اس بار چھ سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ اس سے پہلے 2013 میں اسے صرف 3 نشستیں ملی تھیں۔ اس بار بی جے پی کو 3 مزید نشستوں کا فائدہ ہوا۔ وہیں اس بار کانگریس کے کھاتے میں 10 سیٹیں ہی آئی ہیں۔ جبکہ 2013 میں اسے 11 سیٹیں ملی تھیں یعنی اس بار کانگریس کو 1 سیٹ کا نقصان ہوا۔کانگریس کے بعد مسلمانوں کے لئے متبادل کے طور پر دیکھی جا رہی جے ڈی ایس اس بار صرف ایک ہی سیٹ جیت پائی۔ جبکہ 2013 میں اس کے کھاتے میں 2 نشستیں آئی تھیں، یعنی اس بار جے ڈی ایس کو بھی ایک سیٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ ان سیٹوں پر بقیہ لوگوں کا تو کھاتہ بھی نہیں کھلا جبکہ 2013 میں ان کے حصے میں بھی ایک نشست آئی تھی۔کرناٹک کی ان 17 نشستوں پر مسلم سوسائٹی سے منسلک ووٹر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن اس بار کرناٹک کے انتخابی مساوات کے ساتھ ہندوتو کا بھی مسئلہ چھایا رہا۔ اس کی وجہ سے بی جے پی پولرائزیشن کے سہارے مسلم اثرات والی بہت سی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔کرناٹک کی 18 نشستوں پر مسلم کمیونٹی کے ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 2013 کے اسمبلی الیکشن میں 18 نشستوں میں 11 سیٹوں پر مسلم ووٹرز نے کانگریس امیدواروں کو ہی الیکشن میں جیت دلائی تھی۔ بی جے پی نے بھی 4 نشستوں پر قبضہ کیا تھا۔کانگریس کے بعد مسلمانوں کے لئے متبادل کے طور پر دیکھی جانے والی جے ڈی ایس صرف دو نشستیں ہی جیتنے میں کامیاب رہی۔ اس کے علاوہ ایک سیٹ دوسرے کے کھاتہ میں آئی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔