یدیو رپا نے ایک ہفتہ مانگا،گورنر نے د ئے 15دن،سپریم کورٹ میں کانگریس نے رکھے یہ دلائل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 8:12 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،17؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )کرناٹک میں کس کی حکومت بنے گی اسے لیکر سیاسی رسہ کشی میں تیزی سے تبدیلی ہو رہی ہے۔بدھ کو کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا نے بی ایس یدیو رپا کی قیادت میں بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دی ۔جس کے بعد یدیو رپا کے نئے سی ایم بننے کا راستہ صاف ہو گیا۔جمعرات کو صبح 9:30 بجے یدیو رپا سی ایم عہدے کا حلف لیںے والے ہیں۔اسمبلی میں اکثرہت ثابت کرنے کیلئے انہوں نے 7 دن کا وقت مانگا تھا ،لیکن حیران کنبات یہ ہے کہ گورنر نییدیو رپا کو 'فلور ٹیسٹ 'یعنی اکثریت ثابت کرنے کیلئے 15 دن کا وقت دیا ہے۔

وہیں کانگریس گورنر کے فیصلے کے خلاف اور یدیو رپا کے حلف لینے پر روک لگانے کیلئے بدھ کو دیر رات سپریم کورٹ پہنچ گئی۔سپریم کورٹ کیتین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

کانگریس کی جانب سے ابھیشیک منو سنگھوی نے اپنا حق رکھا۔جبکہ ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل تشار مہتا مرکزی حکومت یعنی گورنر کے حق سے کورٹ موجود ہیں۔وہیں بی جے پی کی جانب سے مکل روہتگی بو ل رہے ہیں۔کانگریس نے گورنر کے فیصلے کو غیر آئینی بتاتے ہوئے یدیو رپا کے حلف لینے پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔لیکن سپریم کورٹ کی بنچ نے حلف لینے پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔بنچ نے کہا کہ ہم گورنر کا فیصلہ نہیں پلٹ سکتے۔کورٹ نے کہا کہ اس عرضی پر آگے سموت ہوگی۔

اس سے پہلے کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈران نے گورنر وجوبھائی والا سے ملاقات کی ۔جے ڈی ایس اور کانگریس نے گورنر کو 117 ارکان اسمبلی کی حمایت کا خط سونپا۔اس میں 78 کانگریس ،37 جے ڈی ایس ایک بی ایس پی اور ایک آزاد رکن اسمبلی کے دستخط ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

پانچ حلقوں کے لئے آج نامزدگیوں کی جانچ ہوگی

ریاست کے تین لوک سبھا اور دو اسمبلی حلقوں کے لئے ضمنی انتخابات کے لئے آج نامزدگیو ں کے داخلوں کی تکمیل کے ساتھ ہی تینوں اہم سیاسی جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے آگئے ہیں۔

حکومت گر جانے کے متعلق یڈیورپا کے بیان پر سدر امیا کا طنز، اقتدار کی حوس میں سابق وزیراعلیٰ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں: سدرامیا

سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کا یہ دعویٰ کہ آج دوپہر تین بجے تک ریاست کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی ہونے والی ہے ایک بار پھر جھوٹا ثابت ہوا۔