کرناٹک انتخابات : کمار سوامی کا بی جے پی پر الزام ، ممبران اسمبلی کو دیا 100- 100 کروڑ روپے کا آفر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th May 2018, 11:05 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اب وہاں کے سیاسی حالات کافی دلچسپ بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔سبھی پارٹیاں حکومت سازی کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اپنی اپنی حکومت بنانے کا دعوی کررہی ہیں ۔ اسی سلسلہ میں آج جے ڈی ایس ممبران اسمبلی کی میٹنگ ہوئی ، جس میں ایچ ڈی کمار سوامی کو ایوان کا لیڈر منتخب کیا گیا ۔

میٹنگ کے بعد انہوں نے میڈیا سے بھی گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کرکے 104 سیٹیں حاصل کی ہیں ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر بھی نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں ہے ، ایسے میں وزیر اعظم مودی کو ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا کہ بی جے پی حکومت بنائے گی ۔

کمار سوامی نے بی جے پر الزام لگایا کہ جے ڈی ایس کے ممبران اسمبلی کو خریدنے کیلئے انہیں 100-100 کروڑ روپے تک کا آفر کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کالے دھن کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں اور ان کی ہی پارٹی بی جے پی ہمارے کچھ ممبران اسمبلی کو سو کروڑ روپے اور کابینی وزیر کا عہدہ دینے کا آفر دے کر خریدنے کی کوشش کرتی ہے ۔ یہ 100 کروڑ روپے بلیک کا ہوگا یا وہائٹ کا ؟۔ان کے پاس ممبران اسمبلی کو دینے کیلئے پیسے ہیں ، لیکن لوگوں کو وعدے کے مطابق دینے کیلئے 15 لاکھ نہیں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس تشہیری کمیٹی کے نئے صدر ایچ کے پاٹل نے عہدہ کا جائزہ لے لیا ملک کواچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار پرآئی بی جے پی کے لیڈروں نے ملک کوبے روزگاروں کا مرکز بنا دیاہے:وینو گوپال

سابق ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل نے آج کرناٹک پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے عہدہ کاجائزہ لے لیا ۔

بی جے پی کوابھیشک منوسنگھوی نے کہا ، کرناٹک میں کھلواڑہوتاتوقانونی منصوبہ تیارتھا

کرناٹک کے تازہ سیاسی واقعات کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو کہا کہ اگر بی جے پی ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنے ’آپریشن لوٹس‘پر آگے بڑھتی تو اس کومنہ توڑجواب دینے کے لیے کانگریس نے منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔