کرناٹک میں ہندوتوا کا جادو چل گیا؛ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کانگریس نے کماراسوامی کو کی وزیراعلیٰ بننے کی پیش کش؛ شام کو گورنر سے ملاقات کا عندیہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2018, 3:46 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بھٹکل 15/مئی (ایس اونیوز) کرناٹک میں وزیراعلیٰ سدرامیا نے کافی ترقیاتی کام کئے تھے، مگر ہندوتوا کے نام پر بھگوا پارٹی اکثریتی عوام کو تقسیم کرنے اور اُنہیں  اپنے قریب کرتے ہوئے  اُن کے ووٹ حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوگئی ہے۔

ابتدائی رحجانات سے ہی پتہ چل رہا تھاکہ بی جے پی تقریبا سو سےزائد اسمبلی حلقوں میں آگے چل رہی ہے، جس سے لگ رہا تھا کہ وہ سوسے زائد سیٹیں حاصل کرتےہوئے اقتدار تک حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، مگر  بی جے پی بھلے ہی   سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہو،  اکثریت کو لے کر  اس کی گردن کہیں پھنستی نظر آرہی ہے۔  ایسے میں حکومت کو تشکیل دینے کے لۓ اسے کسی دوسری پارٹی  کا گٹھ بندھن ضروری ہوگیا ہے۔ مگر ان سب کے درمیان  خبریں آرہی ہیں کہ  کانگریس پارٹی نے بی جے پی کو  اقتدار سے دور رکھنے کےلئے جے ڈی ایس کے سربراہ کماراسوامی کو وزیراعلیٰ کے عہدہ کی پیش کش کی ہے اور جے ڈی ایس کی حمایت حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے  کی حکمت عملی پر غور کیا جارہاہے.

بی جے پی نے جیسے ہی  سو کے ہندسے کو پار کیا،  بنگلور سے لے کر دہلی تک  پارٹی کارکنان  جشن میں مشغول ہوگئے، جملہ 222 سیٹوں میں کانگریس کو 78 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں، بی جے پی کو 104 اور جے ڈی ایس کو 38سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ دو دیگر اُمیدار بھی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کرناٹک انتخابات کے نتائج نے   کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو بھی  بڑا  جھٹکا دیا ہے، ان کی حکمت عملی ایک بار پھر ناکام ہوگئی ہے. حالانکہ بتایا   جارہا ہے  کہ   کانگریس بڑی پارٹی اکثریت حاصل نہ کرپانے کے بائوجود   حکومت تشکیل دینے  نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے. لیکن اگر ایسا  نہیں ہوتا ہے تو کانگریس پارٹی  صرف   پنجاب، پڈوچیری اور میزورم میں محدود ہو کر رہ جائے گی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سدرامیا  بھی خود چامنڈیشوری  سیٹ سے انتخابات  ہار گئے  ہیں. مگر بادامی میں انہیں دو ہزار ووٹوں سے جیت حاصل ہوئی ہے، جس سے انہیں تھوڑی بہت راحت ملی ہے۔ اسی طرح  ان کے بیٹے یتیندرانے ورون  اسمبلی حلقہ  سے جیت حاصل کی ہے.

اب خبریں آرہی ہیں کہ  وزیراعلیٰ   کی رہائش گاہ پر سدارمیا اور کانگریس کے رہنماؤں کے درمیان میٹنگ جاری ہے، کماراسوامی نے وزیراعلیٰ بننے کی پیش کش کو قبول کرلیا ہے ایسے میں ایک دلت لیڈر کو وزیراعلیٰ بنانے کی بات بھی چل رہی ہے۔ شام تک مطلع صاف ہونے کے آثار ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔