ریاستی پولیس میں خواتین کی تعداد 20فیصد تک بڑھانے پر غور: پرمیشور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th September 2018, 10:03 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،7؍ستمبر(ایس او نیوز) نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ریاستی پولیس میں خواتین کی تعداد کو 20فیصد تک بڑھانے پر غور کیا جارہاہے۔ٹمکور میں 120 ویمنس پولیس ٹرینس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حالیہ چند برسوں میں محکمۂ پولیس میں خواتین کی بھرتیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں برسر خدمت 250آئی پی ایس افسروں میں 20خواتین ہیں۔ پولیس کانسٹبلوں کی مجموعی تعداد میں6 فیصد خواتین ہیں۔ ریاستی حکومت کا منصوبہ ہے کہ اس اوسط کو بڑھاکر 20فیصد تک لے جایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے محکمۂ پولیس کی طرف رغبت کا رجحان خوش آئند ہے، اگر تعلیم یافتہ نوجوان اس محکمے میں شامل ہونے پر توجہ دیں گے تو اس سے پولیس فورس کے معیار کو بھی بلند کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ آج پاس ہونے والی 121ٹرینس میں 16 پوسٹ گریجویٹ ہیں اور 96 گریجویٹ ، محکمے کے لئے اس سے خوش آئند بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایاکہ پولیس جوانوں کے لئے رہائش کی بہتر سہولت مہیاکرانے پر محکمہ پابندی سے کام کررہا ہے۔ ریاست کے مختلف تعلقہ جات میں 250 کوارٹروں پر مشتمل رہائشی کامپلکس کی تعمیر یقینی بنائی جائے گی۔

ریاستی پولیس فورس میں شامل جوانوں کی تنخواہ میں اضافے کے مطالبے پر وزیر داخلہ نے کہاکہ اس سلسلے میں ایک تجویز چھٹویں پے کمیشن کو روانہ کردی گئی ہے۔ اس تجویز کو منظور کئے جانے کے ساتھ ہی تنخواہوں میں اضافہ از خود لاگو کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ چھٹویں پے کمیشن کی طرف سے وضع کردہ تمام سہولتیں بھی پولیس جوانوں اور افسروں کو مہیا کرانے کے لئے ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے دیگر سرکاری شعبوں کے ملازمین کو چھٹویں پے کمیشن کے تحت جو بھی سہولت مہیا کرائی جارہی ہے وہ تمام پولیس فورس کے لئے بھی روبہ عمل لائے جائیں گے۔

ریاست بھر میں آئے دن سڑک حادثوں اور دن بدن ان کی تعداد میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت ایسے علاقوں کی نشاندہی کرے گی جو حادثوں کا مرکز رہے ہیں۔ ان علاقوں میں گاڑیوں کی رفتار کو 35 کلومیٹر تک محدود کیا جائے گا۔ان سڑ کوں پر ہائی وے پیٹرولنگ بڑھادی جائے گی تاکہ شاہراہوں پر تیز رفتار گاڑی چلانے والوں کو پکڑ کر ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں بھڑتے ہوئے سڑک حادثوں پر روک لگانے کے مقصد سے شاہراہوں پر پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے گا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

بنگلور سے شموگہ اور بھدراوتی لے جانے کے دوران دوکروڑ کی رقم ضبط؛ گاڑی کے ایک ٹائر میں چھپا کر رکھی گئی تھی رقم

الیکشن کا ضابطہ اخلاق لاگو ہونے کے بعد انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے دستے نے کرناٹکا میں اب تک غیر محسوب رقم اور دیگر اشیاء جو ضبط کی ہے اس کی مالیت کا اندزاہ 83کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں سخت نگرانی میں اسٹرانگ رومس منتقل

جنوبی کرناٹک کے 14 پارلیمانی حلقوں میں کل پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران ڈالے گئے ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں قید ہیں ، اور ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو مرکزی دستوں کی سیکورٹی کے تحت اسٹارنگ رومس میں قید کردیا گیا ہے۔

ملک میں بی جے پی کی لہر اور جال بالکل نہیں ہے مودی انتظامیہ کارپورٹ کارڈ فیل ہوگیا : دنیش گنڈو راؤ

ملک کے کسی بھی علاقہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوئی لہر بالکل نہیں ہے ۔مودی لہر کا جھانسہ دے کر عوام کو جال میں پھانسنے کی کوشش بی جے پی کر رہی ہے ۔یہ باتیں کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہی ہیں ۔آ

میں عہدۂ وزیر اعلیٰ کا دعویدار ضرور ہوں ، لیکن اب نہیں : سدرامیا

 سابق وزیر اعلیٰ اور ریاست میں حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے متعلق ا پنے بیان کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ وہ سرگرم سیاست کا حصہ ہیں کوئی سنیاسی نہیں۔ سیاسی امنگوں کا اظہار کرنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔