بلدی انتخابات میں کانگریس کسی سے اتحادنہیں کرے گی، سدرامیا اور پرمیشور کے متفقہ بیانات

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th August 2018, 11:56 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،9؍اگست(ایس او نیوز) رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے بلدی انتخابات میں کانگریس کسی بھی سیاسی پارٹی سے مفاہمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے ٹمکور میں اور سابق وزیراعلیٰ سدرامیا نے ہبلی میں الگ الگ بیانات دیتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ کانگریس بلدی انتخابات میں جنتادل (ایس) کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔ ٹمکور ضلع کانگریس کمیٹی دفتر میں ’’ہندوستان چھوڑو ‘‘ تحریک کی سالگرہ تقریبات میں حصہ لیتے ہوئے نائب وزیراعلیٰ نے کہاکہ بلدی انتخابات میں کانگریس تنہا مقابلہ کرے گی۔ پارٹی نے تمام وارڈوں کے لئے امیدواروں کے انتخاب کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی نے بلدی انتخابات سے زیادہ آنے والے لوک سبھا انتخابات کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر لیا ہے، اس کے لئے سبھی قائدین اور کارکنوں کو ابھی سے مستعد رہنے کی ہدایت دی جاچکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست میں گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے نتیجے میں مخلوط حکومت صرف اس منشاء کے ساتھ قائم ہوئی کہ فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ مخلوط حکومت پچھلی سدرامیا حکومت کے جاری کردہ تمام منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

کانگریس اور مہاتماگاندھی کے متعلق بی جے پی اور آر ایس ایس قائدین کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے پرمیشور نے کہاکہ جہد آزادی سے جن کا کچھ لینا دینا نہیں ہے، وہ کانگریس اور گاندھی جی کے تعلق سے کچھ نہ کہیں تو بہتر ہے۔ اخلاقی طور پر سنگھ پریوار اور بی جے پی کو یہ حق نہیں ہے کہ جہد آزادی کے بارے میں کچھ بولیں۔اس دوران ریاست میں مخلوط حکومت کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سابق وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ انتخابات کے لئے حالانکہ کانگریس اور جنتادل (ایس) نے باضابطہ کوئی مفاہمت نہیں کی ہے ، لیکن مقامی تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پارٹی کی مقامی قیادت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جہاں بھی ضرورت پڑے ہم خیال سیاسی جماعتوں سے اتفاق کرلے۔

انہوں نے کہاکہ لوک سبھا انتخابات میں جنتادل (ایس) کانگریس مفاہمت کے متعلق قطعی فیصلہ ابھی نہیں کیاگیا ہے ، رابطہ کمیٹی میٹنگ میں اس پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا اور ایک تجویز پارٹی اعلیٰ کمان کو روانہ کی جائے گی۔ اعلیٰ کمان کی ہدایت کے مطابق آنے والے لوک سبھا انتخابات میں مقابلے کی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس جنتادل (ایس) مخلوط حکومت مستحکم ہے۔ اس حکومت کے استحکام کا انحصار دونوں پارٹیوں کے قائدین میں بہتر تال میل کی بنیاد پر ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے شادی بھاگیہ اسکیم کے لئے مختص رقم میں بھاری کٹوتی پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیرعلیٰ نے کہاکہ یہ معاملہ رابطہ کمیٹی میٹنگ میں اٹھایا جائے گا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

پانچ حلقوں کے لئے آج نامزدگیوں کی جانچ ہوگی

ریاست کے تین لوک سبھا اور دو اسمبلی حلقوں کے لئے ضمنی انتخابات کے لئے آج نامزدگیو ں کے داخلوں کی تکمیل کے ساتھ ہی تینوں اہم سیاسی جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے آگئے ہیں۔

حکومت گر جانے کے متعلق یڈیورپا کے بیان پر سدر امیا کا طنز، اقتدار کی حوس میں سابق وزیراعلیٰ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں: سدرامیا

سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کا یہ دعویٰ کہ آج دوپہر تین بجے تک ریاست کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی ہونے والی ہے ایک بار پھر جھوٹا ثابت ہوا۔