منگلورو میں کانگریس پارٹی کا اجلاس۔ کینراپارلیمانی سیٹ پر امیدواری کے لئے دیشپانڈے کا نام سب سے آگے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th February 2019, 6:47 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو10؍فروری (ایس او نیوز) آئندہ چند مہینوں میں درپیش پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں متوقع امیدواراں کے نام پر غور کرنے کے لئے منگلورو ضلع کانگریس دفتر میں منعقد کیے گئے کانگریس پارٹی کے اجلاس میں ضلع شمالی کینرا کی سیٹ پر ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے کو امیدوار بنانے کی حمایت کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ نظر آئی۔

کانگریسی پارٹی انتخابی معاملات کے ریاستی انچارج کانگریس جنرل سیکریٹری منیکم ٹاکور، سی پی وشواناتھ اور یوگیش گوڈاکی موجودگی میں منعقدہ اجلاس میں ضلع شمالی کینراسے جن پارٹی لیڈروں نے شرکت کی تھی ان میں زیادہ تعداد دیشپانڈے حامیوں کی دکھائی دی اور انہوں نے پارٹی کے اعلیٰ لیڈروں کے سامنے انہیں کا نام تجویز کیا۔کچھ لوگوں نے پرشانت دیشپانڈے اور بی کے ہری پرساد کا نام بھی پیش کیا۔اس کے علاوہ کچھ کانگریسی کارکنان نے سابق ایم ایل اے ستیش سائیل کا نام بھی لیا۔ جبکہ کانگریس سیوا دل کے آر ایچ نائک نے خود امیدوار بننے کی خواہش بھی جتائی۔

اس اجلاس میں یلاپور حلقے کے بلاک صدر ڈی ایس گاؤنکراور منڈگوڈ علاقے کے بلاک صدرروی کانت پاٹل غیر حاضر رہے۔اس سے ایک نتیجہ یہ نکالا جارہا ہے کہ یہ یلاپور کانگریسی اسمبلی رکن شیورام ہیبار کے حمایتی حلقے کی غیر حاضری ہے۔البتہ بنواسی کے بلاک صدرسی ایف نائک میٹنگ میں موجود رہے۔ منگلورو کے اس اجلاس میں کانگریس پارٹی سے چنے گئے ضلع پنچایت، تعلقہ پنچایت، ٹاؤن پنچایت اور دیگر بلدیاتی اداروں کے لئے منتخب شدہ اراکین ، بلاک اور ضلع کانگریس کمیٹیوں کے صدور اور سابقہ و موجودہ اراکین اسمبلی کو شرکت کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ بتایاجاتا ہے کہ ضلع شمالی کینرا سے 50سے زیادہ نمائندوں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایک موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ضلع شمالی کینرا سے کسی نامدھاری امیدوار کو ہی ٹکٹ دیا جانا چاہیے۔

شرکائے اجلاس نے مرکزی نمائندوں پر واضح کیا کہ اگر ٹکٹ آر وی دیشپانڈے کو دی جاتی ہے تو سب سے اچھی بات ہے ، ورنہ بصورت دیگر امیدوار نامدھاری طبقے سے ہی ہونا چاہیے۔البتہ میٹنگ حاضر کچھ لیڈروں کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا گیا کہ دیشپانڈے کے نام پر غور کرنے کے بجائے براہ راست نامدھاری امیدوار کو ہی میدان میں اتارنا بہتر رہے گا۔

میٹنگ میں ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، ضلع کانگریس صدر بھیمنّا نائک، سابق رکن اسمبلی ستیش سائیل، شاردا شیٹی اور دیگر کانگریسی لیڈران موجودتھے۔

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات؛ بھٹکل میں سبھی پولنگ بوتھوں کے اطراف امتناعی احکامات نافذ؛ ہوٹلوں پر ہوگی نگاہ، انتخابی پرچار پر پابندی

اپریل 23 کو ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر  بھٹکل ودھان سبھا حلقہ کے 248 پولنگ بوتھوں کے اطراف  پروٹوکول کے تحت انتخابات شروع ہونے کے 48 گھنٹے پہلے سے ہی امتناعی احکامات نافذ کردئے  گئے ہیں۔ جس کے تحت پولنگ بوتھ کے اطراف چار سے زائد لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی رہے گی اس بات ...

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

ہلیال میں جے ڈی ایس لیڈر کے گھر پر انتخابی افسران کا چھاپہ ۔تلاشی کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹے افسران؛ کیا بی جےپی کو شکست کا خوف ہے؟

پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر چیک پوسٹس پر تلاشی مہم کے علاوہ ہلیال شہر کے گوداموں، شراب کی دکانوں، موٹر گاڑیوں کی بھی مسلسل تلاشیاں لے رہے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...