ریاست میں سیلاب کی تباہی سے نپٹنے امداد کا مطالبہ، کمار سوامی کی قیادت میں ریاستی وفد کی مودی سے ملاقات

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th September 2018, 9:11 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،10؍ستمبر(ایس اونیوز) وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت میں آج ریاست کے ایک وفد نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ریاست میں بارش اور سیلاب کی تباہی سے نپٹنے کے لئے فوری طور پر 1199 کروڑ روپیوں کی رقم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وفد نے جس میں سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا، نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور، وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے، وزیر دیہی ترقیات کرشنابائرے گوڈا، وزیر تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا اور وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار شامل تھے۔

وزیراعظم کوسیلاب کی تباہی کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں اور بتایاکہ طوفانی بارش اور سیلاب کی وجہ سے ریاست میں کس حد تک تباہی مچی ہوئی ہے، اور متاثرین کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔ وزیراعظم کو بتایاگیا کہ ریاست کے 30 میں سے 17 اضلاع میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ حالانکہ اس وفد کے ساتھ شامل ہونے کے لئے ریاستی بی جے پی قائدین کو بھی مدعو کیاگیا تھا لیکن ان تمام نے وفد میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے بتایاکہ ریاست کے ساحلی اور ملناڈ علاقوں پر مشتمل سات اضلاع میں طوفانی بارش اور سیلاب کے ساتھ زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ سے بھاری جانی ومالی نقصان ہوا ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور ہزاروں ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ ان اضلاع کا بنیادی ڈھانچہ سیلاب کی وجہ سے تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ان تمام کی بحالی کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے جدوجہد کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ سے ریاست کو مجموعی طور پر 3705 کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے ہنگامی طور پر ریاستی آفات رسپانس فنڈ سے 49کروڑ روپیوں کے ساتھ ریاست کے ریلیف فنڈ سے دو سو کروڑ روپے متاثرہ اضلاع کو فراہم کئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعلیٰ نے حال ہی میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے ریاست میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے مچی تباہی کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں اور مرکزی ٹیم روانہ کرنے کی بھی گزارش کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست کے جن اضلاع میں سیلاب سے تباہی مچی وہاں راحت کاری کے لئے قدم اٹھائے جارہے ہیں تو بقیہ 17 اضلاع میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس موقع پر موجود وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے بتایاکہ شمالی اور اندرونی کرناٹک کے حصوں میں آنے والے 17 اضلاع خشک سالی سے متاثر ہوچکے ہیں ان علاقوں میں پانی اور چارے کی قلت سے نپٹنے کے لئے ضروری قدم اٹھائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان اضلاع میں آنے والے تمام تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کے سلسلے میں جلد فیصلہ لیا جائے گا۔ کل اس سلسلے میں ریاستی کابینہ کی ذیلی کمیٹی میٹنگ ہوگی، جس میں حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد خشک سالی سے نپٹنے کے لئے مرکزی حکومت سے امداد کی مانگ کے لئے میمورنڈم تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں 8؍ ہزار کروڑ روپیوں کی فصلوں کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ریاست میں جملہ 74.69 لاکھ ہیکٹر زمین پر خریف بوئی گئی تھی اس میں سے 62.88 لاکھ ہیکٹر زمین پر کاشتکاری بارش کی کمی کے سبب نہ ہوسکی۔

مسٹر دیش پانڈے نے بتایاکہ ریاست کو اس بار دو الگ الگ قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے، آدھی ریاست پانی کی کثرت سے تباہ ہوئی ہے تو آدھی ریاست پانی کی قلت سے بدحال ہے۔اگست کے دوسرے ہفتے کے دوران ریاست کے جنوبی اور ساحلی علاقوں میں جو بارش ہوئی ہے وہ محکمۂ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 118 سال کی سب سے بڑی بارش ہے۔ اس وجہ سے ان علاقوں کے آبی ذخائر نہ صرف پر ہوئے بلکہ افزود باہر کی طرف بہانا پڑا۔ ایسی صورتحال اب تک پیدا نہیں ہوئی تھی۔بارش کی کثرت کے سبب ان علاقوں میں زرعی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔خاص طور پر زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ سے ملناڈ علاقہ جو ریاست کا زر خیز علاقہ مانا جاتا ہے پوری طرح تباہ ہوچکا ہے، زمین کھسکنے کی وجہ سے یہاں اب کاشتکاری کے لئے زمین مہیا نہیں ہے۔

کورگ میں کافی کی فصلوں کی تباہی کے سبب ملک میں سب سے زیادہ کافی کی کاشت کرنے والا علاقہ تاراج ہوچکا ہے، کورگ میں اگائی جانے والی کافی کا 90فیصد حصہ ایکسپورٹ ہوتاہے، لیکن اس بار ضلع میں 95 فیصد سے زیادہ کافی کی فصل ختم ہوچکی ہے۔طوفانی بارش اور سیلاب کی وجہ سے تین قومی شاہراہیں 275 ، 75،اور 234 کورگ کی طرف متاثر ہوئی ہیں تو میسور ضلع میں کیرلا کی طرف جانے والی212بھی متاثر ہوئی ہے۔ان شاہراہوں پر آنے والے گھاٹ سیکشن میں زمین کھسکنے کی وجہ سے گھاٹ کی کئی سڑکیں غائب ہوچکی ہیں، ان کو جنگی پیمانے پر بحال کیا جارہاہے۔ حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے مرکزی حکومت فوراً مداخلت کرے۔

دوسری طرف ریاست کے 17 اضلاع خشک سالی کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ ریاست کے جملہ 176تعلقہ جات میں سے صرف 23ایسے تعلقہ جات ہیں جہاں پربارش معمول سے زیادہ ہوئی ہے۔64 تعلقہ جات میں بارش معمول کے مطابق ہوئی ہے اور89 تعلقہ جات میں بارش معمول کے مقابل کافی کم ہوئی ہے۔ 2؍ ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے 104تعلقہ جات میں گزشتہ تین ہفتوں سے بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ابتدائی اندازے کے مطابق 15لاکھ ہیکٹر زمین پر زراعت اور باغبانی متاثر ہوئی ہے، اس سے ہونے والا خسارہ آٹھ ہزار کروڑ روپیوں سے متجاوز ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مفرورمنصورخان کاایک اورویڈیو 24 گھنٹے میں ہندوستان واپسی کاوعدہ!

لوگوں کو کروڑوں روپئے کا دھوکہ دینے والی پونزی کمپنی آئی ایم اے کے بانی وایم ڈی محمد منصور خان کیا واقعی 24 گھنٹوں میں ہندوستان واپس لوٹ آئیں گے؟ جبکہ اس گھپلے کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ منورخان کا پاسپورٹ انٹرپول کے ذریعہ کالعدم قرار دیا گیا ہے -