کرناٹک میں بی جے پی کی جیت آسان نہیں ہے راہل گاندھی، سدارامیا کی زیر قیادت کانگریس کاسامنا مشکل ہے: پرکاش جاویڈکر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2018, 11:55 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍فروری(ایس او نیوز) باپ دادا اور خاندانی دولت و ثروت میں کانگریس پارٹی تیر رہی ہے ، موروثی مال ودولت میں کانگریس مست ہے ، کانگریس پارٹی میں نہرو کنبہ کے علاوہ کوئی بھی شخص کانگریس کا قومی صدر نہیں بن سکتا ، یہ ممکن نہیں کہ دوسرا کوئی صدر بنے ، اس لئے راہل گاندھی کو آل انڈیا کا نگریس کمیٹی ( اے آئی سی سی ) کا صدر بنایا گیا ہے ،ان تنقیدی خیالات کااظہار مرکزی وزیر اور ریاستی انتخابی نگراں کار پرکاش جاویڈکر نے کیا شہر کے ایک ہوٹل میں منعقدہ ریاستی بی جے پی میڈیا ورکشاپ کاافتتاح کرتے ہوئے جاویڈ کر نے کہا کہ کانگریس میں گاندھی پر یوار کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو پارٹی صدر بنانا ممکن نہیں ہے ، جبکہ بی جے پی میں ایک چائے بیچنے والاآدمی بھی وزیر اعظم کی گدی پر بیٹھ سکتا ہے ، ایک معمولی کسان کابیٹا صدر جمہوریہ ہند کے عہدے پر فائزہ ہوجاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ بی جے پی پارٹی میں بہت کشادگی ہے ، بی جے پی میں اگرمحنت ،مشقت کی جائے تو کسی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ عہدے پر براجمان ہوناممکن ہے ۔ اس کی زندہ مثالیں نریندر مودی ، صدر ہند رام ناتھ کوند اور نائب صدر وینکیا نائیڈو ہیں ۔ کانگریس تقریباً تمام ریاستوں سے بے دخل ہوگئی ہے ، کانگریس کے پاس ون کرناٹک اور نارتھ ایسٹ ریاستیں رہ گئی ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس اپنے اقتدار کی بر قراری کیلئے سر توڑ کوششیں کررہی ہے،لیکن کرناٹک بی جے پی کے لئے بھی آسان لقمہ نہیں ہے۔ یہاں بی جے پی کی جیت اتنی آسان بھی نہیں ہے ، تاہم اگر ہم جدوجہد کریں ، ریاست میں بی جے پی کو بر سر اقتدار لایاجاسکتا ہے، انہوں نے اس موقع پر کانگریس مکت کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں آئندہ کے وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا ہوں گے۔بی جے پی نگراں کار اور قومی پارٹی کے چیف سکریٹری پی مرلی دھرراؤ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک وریاست میں اب انتخابی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے ، پارٹی میں موجودسپاہیوں کو انتخابی تشہیر کیلئے تیار کرنا ضروری ہے ۔ دن کے 24گھنٹہ بھی ہوشیار اور الرٹ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کو بر سراقتدار لانے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال کے دوران جہاں جہاں انتخابات ہوئے وہاں بی جے پی پارٹی نے کانگریس کے خلاف جیت درج کی ہے ، لیکن کرناٹک کے حالات الگ ہیں ، یہاں بر سر اقتدار کانگریس سے لوہا لیتے ہوئے جیتناہے ،کرناٹک میں سدارامیا اور راہل گاندھی کی زیر قیادت کانگریس کا سامنا کرناہے ، سدارامیا حکومت نے ،مٹھ ،مندروں کیلئے جاری سرکاری سپردگی کا پروانہ واپس لے لیا ہے۔ تو دوسری طرف راہل گاندھی دورہ کرناٹک کے موقع پر مٹھ مندروں کی زیارت کررہے ہیں ،ووٹ کیلئے وہ یہ سب کررہے ہیں،اس موقع پر سندیپ پاترا ، جی فی ایل نرسمہاشاستری ، رامن چاریہ ، شانتا رام ودیگر شریک رہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

کرناٹک سیاسی بحران: یہ آئین اور دستور کی جیت ہے :ملی کونسل

کرناٹک میں جاری سیاسی ہنگامہ آرائی پر آج پہلی مرتبہ ملک کی معروف تنظیم آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے ردعمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت نے وہاں دستور کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی تھی

کرناٹک کے عوام نے تینوں پارٹیوں کو خوش کردیا

تمام ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے بعد کرناٹک کی سیاست ایک اطمینان بخش مرحلہ تک پہنچ گئی ہے ۔ ایڈی یورپا نے استعفیٰ دے دیا ، جے ڈی ایس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کا بننا تقریباًطے ہے۔

بی جے پی کی حکومت گرنے کے بعد اب کمارا سوامی ہوں گے نئے وزیراعلیٰ، چہارشنبہ کو لیں گے حلف

بی جے پی رہنما بی ایس ایڈی یورپا کے استعفیٰ کے ساتھ ہی جے ڈی ایس کے ریاستی سربراہ ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت میں کرناٹک میں تین دن پرانی بی ایس ایڈی یورپا حکومت بلاخر آج ختم ہوگئی جب چیف منسٹر ایڈی یورپا نے اعلان کیا کہ وہ ایوان میں اکثریت کے امتحان میں سامنا نہیں کرگے بلکہ اس سے ...

ہندوستانی سیاست کے لئے تاریخی دن: سدارمیا، چندرابابو نائیڈو، ممتابنرجی اوردیگر لیڈروں نے جمہوریت کی جیت قرار دیا

کرناٹک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے بی جے پی لیڈر یدی یورپا نے وزیراعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ یدی یورپا کے استعفیٰ پر تمام لیڈروں نے ردعمل ظاہر کیا۔