کرناٹک انتخابات : کانگریس کے 218 امیدواروں کی فہرست جاری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th April 2018, 11:34 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15 اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے /12 مئی کو منعقد ہونے والے کرناٹک اسمبلی انتخابات کیلئے 218 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے ۔ چیف منسٹر سدارامیا اور پارٹی کے ریاستی صدر پرمیشورا کے نام بھی شامل ہیں ۔ سدارامیا چامینڈیشوری اسمبلی حلقہ اور کورٹاگری سے ہی مقابلہ کریں گے ۔ پارٹی نے ایک خاندان ایک ٹکٹ کے فارمولے کو لاگو نہیں کیا ہے بلکہ پارٹی نے چیف منسٹر اور ان کے فرزند کو وزیر داخلہ اور ان کی دختر وزیر قانون اور ان کے فرزند کو ٹکٹ دیا ہے ۔ کانگریس نے گزشتہ سال پنجاب انتخابات کیلئے اس فارمولے کو اختیار کیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ کانگریس نے موجودہ 12 ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیاالبتہ تمام وزراء کوٹکٹ دیا ہے ۔ پہلی فہرست میں 15 خاتون امیدوار شامل ہیں ۔ ملکارجن کھرگے کے فرزند پرینکا کھرگے کو ضلع گلبرگہ کی چیتاپور نشست (محفوظ) کو ٹکٹ دیا ہے ۔ بی جے پی کے سابق ارکان اسمبلی ناگیندر اور آنند سنگھ کے علاوہ جنتادل ایس چھوڑکر کانگریس میں شامل ہونے والے ضمیر احمد خان ، اقبال انصاری کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ قمر الاسلام کی اہلیہ کنیز فاطمہ کا نام بھی شامل ہے ۔ کنیز فاطمہ گلبرگہ سے بھی مقابلہ کریں گی ۔ کانگریس نے سیندگی ، کتور ، ناگھٹنا ، ملی کوٹے ، رائچور اور شانتی نگر اسمبلی حلقوں کیلئے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے فرزند ایتیندرا کو میسور کے ورونا اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ جبکہ وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی بی ٹی ایم لے آؤٹ سے اور ان کی دختر سمیہ بنگلور اسمبلی حلقہ جیانگرا سے مقابلہ کریں گی۔ 

 

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملہ،زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی کا سلسلہ جاری، ڈاکٹر سعید فیضی نے گواہی بھتہ پبلک ویلفئر فنڈ میں عطیہ کردیا

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی بددستور جاری ہے جس کے دوران آج مالیگاؤں کے مشہور و سینئر ڈاکٹر سعید فیضی کی گواہی عمل میں آئی

دواؤں کا معیار اور نوجوانوں کو روزگار انتہائی اہم مسئلہ: پروفیسر عبداللطیف، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (اسٹوڈنٹس وِنگ) کی تشکیل

آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی ایک میٹنگ آج ابن سینا اکیڈمی، دودھ پور، علی گڑھ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت پروفیسر عبداللطیف (قومی نائب صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، اکیڈمک وِنگ) نے کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سنبل رحمن (قومی صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، خواتین ...

سکھ فسادات: میرے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر اور نہ ہی چارج شیٹ، کمل ناتھ نے کہا،بی جے پی جھوٹ پھیلارہی ہے

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے 1984 کے سکھ فسادات پر اٹھ رہے سوالوں پر جواب دیاہے۔کمل ناتھ نے کہاہے کہ 1984 کے سکھ فسادات میں ان کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر یا چارج شیٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلے کواٹھانے کے پیچھے صرف سیاست ہے۔انہوں نے کہاکہ جس وقت میں کانگریس کا جنرل ...

بریلی: ایک ساتھ 58 ہندو، مسلم اور سکھ لڑکیوں کی شادی

اجتماعی شادیوں کے بارے میں تو آپ بہت سن لیں گے لیکن یوپی کے بریلی میں ایک منفرد شادی دیکھنے کوملی ہے۔بریلی میں منعقد ایک پروگرام میں ایک ساتھ ہندو، مسلم اور سکھ کمیونٹی کی غریب لڑکیوں کی شادی کرائی گئی۔ایک ساتھ جب گھوڑی پر بیٹھ کر 58 دولہا نکلے تو ہر کوئی اس منفرد بارات کو ...

1984-1993-2002فسادات: اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں سیاسی رہنماؤں اور پولیس کی ملی بھگت تھی : ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے 1984سکھ مخالف فسادات معاملے کے فیصلے میں دوسرے فسادات کولے کر بھی بے حد سخت تبصرہ کیاہے ۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود کوئل کی بنچ نے پیر کو سجن کمار کو فسادات پھیلانے اور سازش رچنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ۔ کورٹ نے کہا کہ سال 1984 میں نومبر کے ...