کرناٹکا میں حق اطلاعات کے ذریعے پوچھے گئے سوال کا جواب نہ دینا کلبرگی ایس پی کو پڑ گیا مہنگا؛ کمیشن نے عائد کیا جرمانہ؛اعلیٰ آفسر پر جرمانہ عائد کرنے کا پہلا واقعہ

Source: S.O. News Service | Published on 11th October 2018, 5:32 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بنگلور:10/اکتوبر(ایس اؤ نیوز) ریاست کے حق اطلاعات قانون کی تاریخ میں پہلی بار ضلع کے ایس پی کو جرمانہ عائد کرکے  ریاستی حق اطلاعات کمیشن نے  پولس محکمہ کو  زبردست جھٹکا دیا ہے۔ خیال رہے کہ  عام طورپر آرٹی آئی کے تحت جانکاری نہ  دینے والے افسران پر جرمانہ عائد کیا جاتاہے۔ لیکن اس معاملےمیں اعلیٰ افسر بالخصوص ضلع کے سپرنٹنڈینٹ آف پولس  پر ہی جرمانہ عائد کرتے ہوئے ریاستی حق اطلاعات کمیشن نے محکمہ پولس کو دھچکا دیا ہے۔

اطلاع کے مطابق کلبرگی کے ایس پی ،این ششی کمار پر 10ہزارروپیوں کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے اطلاعاتی کمیشن نے اعلیٰ حکام   کو خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت پر اگر اعلیٰ حکام بھی آر ٹی آئی کے تحت جواب نہیں دیتے  تو اُنہیں بھی بخشا نہیں جائے گا۔ 

دراصل اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس(اے پی سی آر) کرناٹک چاپٹر کے کوآرڈی نیٹر شیخ شفیع احمد نے آرٹی آئی کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ عوامی ملکیت  اور قانونی نظام کی حفاظت میں پولس کا تعاون کرنے کےلئے محلہ کمیٹی ، امن کمیٹی ، پاس پڑوس نگراں کار کمیٹی کی تشکیل کے متعلق  معلومات فراہم کریں، مگر ضلع کے ایس پی  معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے بعد میں وہ  کمیشن کے حکم کا بھی جواب نہ دے سکے، جس  کی وجہ سے یہ جرمانہ عائد کیاگیا ہے۔

معاملہ کیا ہے؟:اے پی سی آر کرناٹک کوآرڈینٹر  شیخ  شفیع احمد نے  آر ٹی آئی کی 4 (1)کے مطابق سن 2015 میں عرضی سونپتے ہوئے  سوال کیا تھاکہ ضلع میں کن کن مقامات پر محلہ کمیٹی ، امن کمیٹی ، پاس پڑوس نگراں کارکمیٹی ہے، اُس کے تعلق سے جانکاری فراہم کی جائے۔ انہوں نے آر ٹی آئی کے ذریعے  کمیٹی کے ممبران کے نام، منعقدہ میٹنگوں کی تفصیل کی نقل دینے  کے لئے بھی کہا تھا۔ اس وقت امیت سنگھ ایس پی کے عہدے پر فائز تھے۔ حق اطلاع کے افسر نے جب مکمل جانکاری نہیں دی تو درخواست گزار نے اعلیٰ افسر ایس پی کو رٹ روانہ کی۔ایس پی نے جب  صرف محلہ کمیٹی کی تشکیل کی جانکاری دی  تو شفیع صاحب نے   جانکاری ادھوری ہونے پر پھر ایک بار عرضی روانہ کی۔

آرٹی آئی 2005قانون کے مطابق 10اور13کے تحت رٹ کی جانکاری دینے کے لئے کمیشن نے ایس پی ششی کمار کو 2018 فروری میں نوٹس جاری کرتےہوئے 6مارچ کو خود ایس پی یا ان کے  مصدقہ نمائندے کو حاضر ہونے کا حکم دیا تھا، جس کے تحت انسپکٹر اسلم خان حاضر ہوئے۔ معاملے کی سنوائی ہوئی ۔2005قانون 7(1)کے تحت متعینہ مدت میں اطلاع نہ  دینے اور مناسب جواب نہ  دینےکی وجہ سے قانون کی دفعہ 20(1)کے تحت 25ہزارروپئے جرمانہ عائد کئے جانے کے متعلق شوکاز نوٹس جاری کی گئی اور ساتھ ہی تاکید کی گئی کہ  اگلی سنوائی کے دوران تحریری جواب کے ساتھ خود حاضر ہوجائیں۔ بعد میں   حاضر نہ ہونے پر ویسے تو  کچھ کہا نہیں گیا،  مگر  معاملہ کافیصلہ کئے جانے کی تاکید کی گئی۔ مگر اُس کا بھی جواب نہیں دیاگیا۔

جرمانہ کیوں عائد کیاگیا ؟:ایس پی، اطلاعات عامہ کے افسر اور ایس پی دفتر کا انتظامی افسر کمیشن کی سنوائی میں لگاتار بغیر کسی وجہ کے غیر حاضر رہنے ، درخواست گزار کو متعینہ وقت پر اطلاع نہ  دینے اور 28مئی 2018کو کمیشن کی تحریری نوٹس کا جواب بھی نہ  دینے کی بنا پر کمیشن نے ایس پی اور ان کے ساتھ اطلاعات عامہ کے افسر کو 10ہزاروپیوں کاجرمانہ عائد کیا ہے۔

جرمانہ کی رقم ماہانہ اُن  تنخواہ میں سے پانچ پانچ ہزار روپئے کٹوتی کرکے کل 10ہزارروپئے سرکاری حساب کتاب کے پینالٹی انڈر دی ایکٹ انڈر اے نیو میانر ریسپٹ انڈر دی آر ٹی آئی ایکٹ کو ادا کرنے ریاستی اطلاعاتی کمیشن کے  ایس  پی رمیش نے 19جولائی کو کھلی عدالت میں فیصلہ سنایا ہے۔

امیت سنگھ بچ گئے ،ششی کمار پھنس گئے:  آرٹی آئی کے تحت جانکاری نہ  دینے پر جرمانہ عائد کرنا قانون میں درج ہے۔ مگر اس معاملے میں فطری سوال یہ  پیدا ہوتاہے کہ  اعلیٰ افسر ایس پی پر کیوں جرمانہ عائد کیاگیا ۔  کمیشن کے فیصلے میں جیسا کہ  کہاگیا ہے کہ محلہ، امن اور دیگر کمیٹیوں کی تشکیل کرنا ایس پی کی ذمہ داری ہے جس کو نہیں کیاگیا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ کمیشن کی نوٹسوں کا جواب بھی نہیں دیاگیا ہے۔ اسی غلطی پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ جب امیت سنگھ ایس پی تھے تو ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ کمیٹیوں کی تشکیل کریں، انہوں نے کمیٹیاں تشکیل نہیں دی  تو جرمانہ بھی انہی پر عائد کیا جانا چاہئے تھا۔ لیکن اب ششی کمار عہدے پر فائز ہیں  اسی لئے ششی کمار اس میں پھنس گئے اور  جرمانہ بھی انہیں ہی ادا کرنے کے لئے کہاگیا ہے۔

اے پی سی آر ریاستی کوآرڈی نیٹر اور ریاست کے معروف آرٹی آئی کارکن شیخ شفیع احمد نے اس  فیصلہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ  امن و امان کو بحال رکھنے کے لئے محکمہ پولس کو محلہ کمیٹی اور  امن کمیٹیوں کو تشکیل دینا  ضروری ہے۔ اس سلسلے میں جانکاری حاصل کرنے کے لئے انہوں نے  کلبرگی کے ایس پی کو آرٹی آئی کے تحت معلومات طلب کی  تھی، مگر انہوں نے جواب نہیں دیا جس کے خلاف اطلاعاتی  کمیشن میں رٹ داخل کی  تو اُدھر سے بھی جواب نہیں ملا، جس  پر کمیشن نے ضلع کے ایس پی پر ہی 10 ہزار روپئے جرمانہ عائد کردیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار:انکولہ ۔ہبلی ریلوے لائن کی سدراہ بنے ماحولیاتی این جی اوز کو ملنے والی مالی امداد کی جانچ کریں : رکن اسمبلی روپالی نائک کامرکزی ریلوے وزیر سے مطالبہ

ریاست کے ساحلی علاقے سے شمالی کرناٹک  کو جوڑنے والی ’قسمت کی ریکھا‘ انکولہ ۔ ہبلی ریلوے لائن کی تعمیرمیں جو ماحولیاتی اداروں ، این جی اوزاور ماہرین سدراہ بنے ہوئے ہیں دراصل یہ تمام  بیرونی ممالک کی  کروڑوں دولت کے تعاون سے بےبنیاد چیخ وپکار کررہے ہیں کاروار انکولہ کی رکن ...

کاروار میں انکولہ ۔ہبلی ریلوے لائن منصوبےکو جاری کرنےعوامی احتجاج : قومی شاہراہ بند کرنے پر احتجاجی پولس کی تحویل میں

انکولہ۔ ہبلی ریلوے لائن منصوبہ، سرحد علاقہ کاروار میں صنعتوں کا قیام سمیت مختلف مانگوں کو لے کر لندن برج پر قومی شاہراہ کو بند کرتے ہوئے احتجاج کی تیاری میں مصروف کنڑا چلولی واٹال پارٹی کے واٹال ناگراج سمیت 21جہدکاروں کو پولس نے گرفتار کرنے کے بعد رہاکردیا۔

لوک سبھاانتخابات کی تیاری میں مصروف الیکشن کمشن :اتراکنڑا  ضلع میں 11.40 لاکھ رائے دہندگان : 14ہزار ووٹرس آؤٹ تو 12ہزار ووٹرس اِن

الیکشن کمیشن  آئندہ ہونےو الے لوک سبھا انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے۔اندراج و اخراج   اور ترمیم کے بعد تشکیل دی گئی  رائے دہندگان کی  فہرست کے مطابق ضلع کے 6ودھان سبھا حلقہ جات میں کل 11،40،316 ووٹر ہیں۔ چونکہ انتخابات کے قریب تک ووٹروں کے اندراج کے لئے موقع دیا گیا ہے تو رائے ...

شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر ہزاروں عوام  شاہراہ روک کیا  احتجاج : مجموعی استعفیٰ کا انتباہ اور الیکشن بائیکاٹ کا اعلان

تعلقہ کے شرالی میں دن بدن قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر معاملہ گرم ہوتا جارہاہے۔ شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع 45میٹر سے کم کرکے 30میٹر کئے جانےکی مخالفت کرتے ہوئے جمعرات کو ہزاروں لوگو ں نے قومی شاہراہ روک کر سخت احتجاج درج کیا۔ اس دوران عوامی مانگوں کو منظوری نہیں دی گئی تو ...

کانگریس تشہیری کمیٹی کے نئے صدر ایچ کے پاٹل نے عہدہ کا جائزہ لے لیا ملک کواچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار پرآئی بی جے پی کے لیڈروں نے ملک کوبے روزگاروں کا مرکز بنا دیاہے:وینو گوپال

سابق ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل نے آج کرناٹک پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے عہدہ کاجائزہ لے لیا ۔

بی جے پی کوابھیشک منوسنگھوی نے کہا ، کرناٹک میں کھلواڑہوتاتوقانونی منصوبہ تیارتھا

کرناٹک کے تازہ سیاسی واقعات کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو کہا کہ اگر بی جے پی ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنے ’آپریشن لوٹس‘پر آگے بڑھتی تو اس کومنہ توڑجواب دینے کے لیے کانگریس نے منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔