ڈیجیٹل دور میں عدالتی عمل دباؤ میں ہے: جسٹس اے کے سیکری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th February 2019, 1:52 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 10فروری ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )جسٹس اے کے سیکری نے اتوار کو کہا کہ عدالتی عمل دباؤ میں ہے اور کسی معاملے پر سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی لوگ بحث کرنے لگ جاتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کیا آنا چاہئے؟ اس کا ججوں پر اثر پڑتا ہے۔

جسٹس سیکری نے’ لاء شیا‘کی پہلی کانفرنس میں’ڈیجیٹل دور میں پریس کی آزادی‘موضوع پر مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریس کی آزادی شہری اور انسانی حقوق کے خاکے اور کسوٹی کو تبدیل کررہی ہے اور میڈیا ٹرائل کا موجودہ رجحان اس کی ایک’ مثال‘ ہے۔

جسٹس سیکری نے کہا کہ میڈیا ٹرائل پہلے بھی ہوتے تھے، لیکن آج جو ہو رہا ہے وہ یہ کہ جیسے کوئی مسئلہ اٹھایاجاتا ہے، ایک درخواست دائر کی جاتی ہے ، اس (درخواست) پر سماعت شروع ہونے سے قبل ہی لوگ یہ بحث شروع کر دیتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کیا ہونا چاہئے۔ اور میرا تجربہ ہے کہ جج کس طرح کسی معاملہ کا فیصلہ کرتا ہے، اس کا اس پر اثر پڑتا ہے۔

جسٹس سیکری نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیادہ نہیں ہے کیونکہ جب تک وہ (جج) سپریم کورٹ میں پہنچتے ہیں وہ کافی بالغ نظر ہو جاتے ہیں اور وہ اس کا شعور رکھتے ہیں کہ میڈیا میں خواہ جو بھی ہو رہا ہے، لیکن قانون کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ :’آج عدالتی عمل دباؤ میں ہے،انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے یہ خیال تھا کہ چاہے سپریم کورٹ ہو، ہائی کورٹ ہوں یا کوئی نچلی عدالت، ایک بار عدالت نے فیصلہ سنا دیا تو آپ کو فیصلے پر تنقید کرنے کا مکمل حق ہے۔ اب جو جج فیصلہ سناتے ہیں، ان کو بھی بدنام کیا جاتا ہے یا ان کے خلاف ہتک آمیز تقریر و بیانات کئے جاتے ہیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

اکھلیش یادو ’ٹائیگر بام‘ کی طرح ہیں : مایاوتی 

اتر پردیش کی سیاست کے دو بڑے قد آور ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی جب دہائیوں پرانی دشمنی بھلا کر مین پوری کی ریلی میں ایک ہی مشترکہ اسٹیج پر آئے تو ان کی تصاویر خوب وائرل ہوئیں دیکھی گئیں۔ دشمنی بھلا کر دونوں رہنماؤں نے اب اتر پردیش میں بی جے پی کو روکنے کی کوشش کرنے کی ایک طرح سے ...

نریندر مودی کی سیکورٹی کے پیش نظر وارانسی سیٹ پر بدلی گئی امیدواروں کی نامزدگی کی جگہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکوریٹی کے پیش نظر وارانسی پارلیمانی سیٹ کے انتخابات کیلئے نامزدگی مقام میں تبدیلی کی گئی ہے۔پہلے ضلع انتظامیہ نے ایڈمرل کورٹ میں نامزدگی کا اہتمام کیا تھا، لیکن اتوار کو نامزدگی مقام بدل کر کلکٹریٹ واقع رائفل کر دیا گیا۔انتظامیہ کے فیصلے کے بعد اب ...

ایس پی ۔ بی ایس پی کے پاس کانگریس کے ساتھ اتحاد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں:سلمان خورشید

کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنی پارٹی کے ایس پی۔بی ایس پی۔آر ایل ڈی کے ساتھ اتحاد ہونے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد اتر پردیش کے اس اتحاد کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔اتر پردیش کی کانگریس یونٹ کے دو بار چیف رہ ...

آئی این ایل ڈی کے سابق ممبر اسمبلی راؤ بہادر نے تھاما کانگریس کا دامن، دپیندر ہڈا کی نامزدگی میں ہوں گے شامل

جنوبی ہریانہ کے قدآور لیڈر اور انیلو کے سابق ممبر اسمبلی راؤ بہادر سنگھ نے اتوار کو کانگریس پارٹی کا دامن تھام لیا۔راؤ بہادر سنگھ نے آج بتایا کہ 22 اپریل کو روہتک میں ایم پی دپیندر ہڈا کی نامزدگی کے موقع پر وہ اپنے 5000 حامیوں کے ساتھ موجود رہیں گے۔کانگریس صدر راہل گاندھی اور ...