کشمیر میں طاقت کے استعمال سے کبھی مثبت نتائج پیدا نہیں ہوں گے:پروفیسرسیف الدین سوز

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th January 2019, 10:12 PM | ملکی خبریں |

جموں14جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز، نے آج میڈیا کے نام مندرجہ بیان جاری کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہاہے کہ’’ گورنر ستیہ پال مالک نے عہدہ سنبھالتے ہی دعوی کیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ براہ راست گفتگو کاراستہ کھولیں گے۔مگرابھی تک وہ ایسا نہیں کر سکے !اب گورنر صاحب کشمیر میں طاقت استعمال کرنے کے حق میں ہیں اور آے دن طاقت کے استعمال کو ہی صحیح مانتے ہیں۔

سابق مرکزی وزیرنے کہاکہ میرے خیال میں گورنر صاحب کو سوچنا چاہیے کہ کیا حکومت ہندکے لیے یہ بات فائدہ مند ہوسکتی ہے کہ وہ ناراض کشمیریوں کو لگاتار دہشت گرد قرار دیتے رہیں گے؟ خود ہندستان کی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی راے عامہ کشمیریوں کو دہشت گرد نہیں مان سکتی؟

سابق سینیر (Senior) آرمی افسروں اور آج کے کمانڈروں نے ہندوستان کے اعلے ایوانوں تک اپنی یہ راے پہنچائی ہے کہ کشمیر میں سیاسی مسئلہ حل کرنے کے لیے صرف سیاسی ڈایئلاگ ہی کار آمد ہتھیار ہے۔

پروفیسرسیف الدین سوزنے کہاہے کہ میں لگاتاراس راے کا برملا اظہار کرتا رہا ہوں کہ متحدہ مزاحمتی قیادت (JRL) کے ساتھ جتنا جلد حکومت ہندڈایئلاگ شروع کرے گی اتناہی اس کے لیے بہترہوگا۔یہ قیادت جوبھی حقیقت رکھتی ہے اسی کے ذریعے کشمیر میں گفتگوکاراستہ کھولاجاسکتاہے۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

 گجرات:  ٹھاکر کمیونٹی کادقیانوسی قانون،لڑکیوں کے موبائل کے استعما ل پر مکمل پابندی، بھاگ کر شادی کرنے پر اہل خانہ کو بھرنا ہوگا جرمانہ 

گجرات کے بناس کا ٹھا میں ٹھا کر کمیونٹی کی طرف سے 12 دیہات میں عجیب و غریب اور دقیانوسی قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس میں ایک اصول ایسا ہے کہ لڑکیاں اپنے پاس موبائل نہیں رکھ پائیں گی۔

 اب تمام علاقائی زبانوں میں ہون گے ڈاک محکمہ کے امتحانات، راجیہ سبھا میں ہنگامہ کے بعد حکومت نے منسوخ کیا پیپر 

ڈاک محکمہ کی گزشتہ ہفتے ہوئے ایک امتحان کا ذریعہ صرف ہندی اور انگریزی رکھنے کی مخالفت میں منگل کو راجیہ سبھا میں کئی جماعتوں کے ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے کاروائی کئی بار روکنا پڑی۔

پاکستانی جیل میں قید سابق ہندوستانی افسر کلبھوشن پر بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ آج

پاکستان کی جیل میں بند ہندوستانی بحریہ کے سابق فوجی افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے میں بدھ کو ہیگ واقع بین الاقوامی عدالت (آئی سی جے) اپنا فیصلہ سنائے گی۔ ’دی ہیگ‘ کے پیس پیلس میں 17 جولائی کو ہندوستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے کھلی سماعت ہوگی جس کے بعد چیف جسٹس عبدالقوی ...