جے این یو اور ’اسلامی دہشت گردی‘ کا نصاب .........از: فیصل فاروق

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 26th May 2018, 6:09 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

دائیں بازو کی آنکھوں میں کھٹکنے والی عالمی شہرت یافتہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ’اسلامی دہشت گردی‘ پر مبنی مضمون شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جسے لے کر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں جے این یو کی ۱۴۵/ویں اکیڈ مک کونسل کی میٹنگ کے دوران نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کی ایک تجویز کو منظوری دی ہے جس کے تحت نکسل واد، سائبر کرائم کے ساتھ ہی ساتھ نام نہاد اسلامی دہشت گردی پر مبنی مضمون بھی شروع کیا جائے گا۔

تعلیمی تناظر میں اس مضمون کی حیثیت اسلاموفوبیا سے زیادہ کی نہیں ہے۔ جے این یو طلبہ یونین نے اس کی مخالفت کی ہے۔ مذہبِ اسلام امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا ایک گھناؤنی سازش اور مذہب اسلام کی توہین ہے جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

ہندوستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے جہاں تمام عقائد کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ لیکن دہشت گردی کو ابھی تک واضح نہیں کیا جا سکا ہے، یہاں تک کہ اقوام متحدہ بھی دہشت گردی کی کسی بھی تعریف پر متفق نہیں ہے۔

خوش آئند پہلو یہ ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن نے بغیر وقت برباد کئے اکیڈمک کونسل کو نوٹس بھیج کر پوچھا کہ کیا اس نے اس کورس کو شروع کرنے کے ممکنہ مضمرات کا جائزہ لیا ہے؟ اس کے تحت کیا مضامین پڑھائیں جائیں گے؟ اس کا متن کیا ہو گا؟ اسے کون لوگ پڑھائیں گے؟ اس کے ماہرین کون ہوں گے؟ دہلی اقلیتی کمیشن سربراہ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ یہ فیصلہ اکیڈیمک نہیں، سیاسی ہے۔ اگر اسلام کو دہشت گردی سے جوڑیں گے تو جے این یو سے اس طرح کی تعلیم سے بچے کیا سیکھ کر باہر آئیں گے۔ اس سے سیدھے طور پر اقلیتوں کی شبیہ اور ان کے مفاد کو نقصان پہنچے گا۔

اس ضمن میں معروف عالم دین و کشن گنج سے ایم پی مولانا اسرارالحق قاسمی کا بیان بہت اہم ہے کہ جواہرلال یونیورسٹی ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں معیاری تعلیم و ریسرچ اوراپنی مخصوص سیکولر شناخت کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے جہاں دنیا بھر کے مختلف مذاہب کے ماننے والے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے ۔ ایسے میں اگر وہاں 'اسلامی دہشت گردی' کے نام سے کوئی مخصوص نصاب تیار کیا جاتا ہے تو اس سے مسلم طلبہ کو نفسیاتی طور پر شدید چوٹ پہنچے گی اور وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگیں گے۔

جس طرح سے ملک کے معروف تعلیمی اداروں جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی وغیرہ پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اس پر دانشور طبقہ کو آواز بلند کرنی چاہئے، ظلم و زیادتی کے خلاف خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔ پروفیسر حضرات حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ایسے کسی بھی کورس شروع کرنے کی تجویز کو واپس لے جس سے ملک کی اتحاد اور سالمیت کو سنگین نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...

بھٹکل میں کل بدھ کو ہوگا تنطیم میڈیا ورکشاپ کا عظیم الشان اختتامی اجلاس؛ بنگلور اور حیدرآباد سے میڈیا ماہرین کریں گے خطاب

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے پانچ روزہ ورکشاپ کا اختتامی اجلاس کل بدھ 17/اکتوبر کو  منعقد ہوگا جس میں سنئیر جرنلسٹ اور کرناٹکا کے سابق  وزیراعلیٰ سدرامیا کے خصوصی میڈیا مشیر مسٹر دنیش امین مٹّو مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گے۔

ریاستی وزارت سے مہیش کا استعفیٰ منظور

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش ناکام ہوجانے کے نتیجے میں ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بی ایس پی کے وزیر این مہیش کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے میں جے ڈی ایس قیادت کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے مہیش کا ...