چھ ہفتے کی بیل پر جیل سے نکلے لالو یادو، یہ بندشیں بھی ہوں گی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 12:50 PM | ملکی خبریں |

رانچی16 مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) بہار کے سابق وزیر اعلی اور آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر بدھ کو رانچی کی دونوں خصوصی سی بی آئی عدالتوں نے علاج کے لئے چھ ہفتے کی عبوری ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد اب بدھ کی شام انہیں رانچی کے برسا منڈا جیل سے رہا کیا جا سکتا ہے۔ عبوری ضمانت ملنے کے بعد لالو شام کی پرواز سے پٹنہ کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ادھر عدالت نے ضمانت کے ساتھ ہی لالو یادو پر بہت بندشیں بھی لگائی ہیں۔ اس میں میڈیا سے بات نہ کرنا، سیاسی پروگراموں میں شامل نہ ہونا بھی شامل ہے۔اس سے پہلے بدھ کو ہائی کورٹ سے لالو کے علاج کے لئے عبوری ضمانت کا حکم سی بی آئی کی خصوصی عدالتوں تک پہنچ گیا اور دونوں خصوصی عدالتوں نے ان کی ضمانتیں منظور کر لیں۔ لالو کے وکیل بدھ کو خصوصی سی بی آئی عدالت پہنچے جہاں چارہ گھوٹالے سے منسلک تینوں کیس میں ضمانتی رقم کی ادئیگی کا عمل مکمل کیا گیا ۔ آر جے ڈی صدر کے خلاف دو مقدمات میں خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج شو پال سنگھ نے اور ایک معاملے میں آر آر پرساد کی عدالت نے سزا سنائی تھی۔ لہٰذا ان تینوں کیس میں انہیں ضمانت داروں کے ساتھ بیل بانڈ بھی بھرنا پڑ ے گا۔ لالو پر عدالتوں نے کئی پابندی لگائے ہیں۔ بندشوں کے علاوہ لالو کو اپنے علاج کی تفصیلات بھی عدالت کوفراہم کر نا ہوگا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق لالو کو بدھ سے 42 دن بعد اپنی سزا پوری کرنے کے لئے جیل واپس لوٹنا ہے۔ لالو کے وکیل نے بتایا کہ عدالتوں کے ضمانت پر رہائی کے احکامات برسا منڈا جیل بھیج دیے گئے ہیں اور بدھ کی شام کو کسی بھی وقت لالو وہاں سے رہا ہو جائیں گے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔