ضلع شمالی کینرا میں جے ڈی ایس کا وجود نہیں ہے۔ آئندہ لوک سبھا میں کانگریس کا ہی امیدوار ہوگا۔ دیشپانڈے کا بیان

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 22nd October 2018, 6:17 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

سرسی 22؍اکتوبر(ایس او نیوز) ریوینیو اور ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نے کہا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں جنتا دل ایس کا کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ کانگریس پارٹی ضلع میں پوری طرح مستحکم ہے۔ اس لئے آئندہ لوک سبھا انتخاب میں یہاں سے کانگریس کا امیدوار ہی میدان میں اتارا جائے گا۔

خیال رہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس اور جے ڈ ی ایس مشترکہ طور پر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے امکانات پر بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ اس پس منظر میں ظاہر ہے کہ سیٹوں کا بٹوارہ پارٹی پوزیشن دیکھ کر ہی کیا جائے گا۔ ایسے میں سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ جے ڈی ایس لیڈر اور سابق وزیر آنند اسنوٹیکر جو ضلع شمالی کینرا سے جے ڈی ایس امیدوار بننے کا  جو خواب دیکھ رہے ہیں ، ان کے لئے دیشپانڈے نے اپنے بیان سے ایک تازہ جھٹکا دیا ہے۔

آر وی دیشپانڈے نے سرسی میں ایک نجی پروگرام میں شرکت کے موقع پراخباری نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی ایس کے امیدوار کے بطور اگر آنند اسنوٹیکر میدان میں مقابلے کے لئے اترنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے ، مگر اس سے قبل ریاست کی سیاسی پوزیشن سمجھ لینا ضروری ہے۔ضلع میں چونکہ کانگریس طاقتور اور مستحکم ہے اس لئے یہاں سے کانگریسی امیدوار انتخاب لڑے گا تو جے ڈی ایس کو اس کی حمایت کرنی ہوگی۔ضلع شمالی کینرا میں کانگریس جیسا استحکام جے ڈی ایس کو حاصل نہیں ہے۔اس لئے یہاں سے کانگریس امیدوار کو ہی انتخاب میں اتارا جانا چاہیے۔اس طرح کی بہت ساری باتیں ہیں جسے آننداسنوٹیکر کو سمجھ لینا چاہیے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

ای وی ایم تنازعہ: کپل سبل نے کہا 'ذاتی حیثیت سے گیا تھا لندن، کانگریس کا کوئی لینا دینا نہیں'۔

  کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی)کےلیڈر اوروزیرقانون روی شنکر پرساد کےان الزامات کو منگل کو پوری طرح سے بے بنیاد بتاکہ لندن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم )سے متعلق پریس کانفرنس کا اہتمام کانگریس نے کیاتھا اورواضح کیاکہ وہ اس میں ذاتی حیثیت ...

مدارس کو اگربند نہیں کیا گیا توآئی ایس آئی ایس حامی ہوجائیں گے مسلم بچے، وسیم رضوی نے وزیراعظم کو خط لکھ کرکیا مطالبہ

اپنے متنازعہ بیانات  کے سبب اکثرسرخیوں میں رہنے والے اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے وزیراعظم نریندرمودی کوخط لکھ کربنیادی سطح تک کے سبھی مدارس کوبند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اپنے کسی بھی ممبر اسمبلی کو لوک سبھا انتخابات میں نہیں اتارے گی عام آدمی پارٹی

عام آدمی پارٹی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپنے موجودہ  ممبراسمبلی اور وزرا کو ٹکٹ نہیں دے گی۔ عآپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے منگل کو یہ جانکاری دی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر رائے نے ساتھ ہی کہا کہ انتخابات کی اطلاع جاری ہونے سے کافی پہلےہی دہلی م پنجاب اور ہریانہ ...

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر چندرابابوکوشبہات

الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمس)کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے پی کے وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندرابابونائیڈو نے کہا کہ ان مشینوں میں الٹ پھیر کے کئی ثبوت پائے گئے ہیں

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔