شیو سینا اور بجرنگ دل کارکنوں کی تاریخی لال چوک میں ترنگا لہرانے کی کوشش ناکام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th December 2017, 11:53 PM | ملکی خبریں |

سری نگر، 6؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں وکشمیرکی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے تجارتی مرکز میں واقع تاریخی گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کے لیے آنے والے شیوسینااور بجرنگ دل کے کارکنوں کو بدھ کی صبح یہاں ریاستی پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ ترنگا لہرانے کی غرض سے آنے والے یہ شیو سینا اور بجرنگ دل کے کارکن ٹولیوں کی شکل میں تاریخی لال چوک پہنچے۔ شیو سینا کے جموں یونٹ نے اعلان کر رکھا تھا کہ پارٹی سے وابستہ کارکن تاریخی لال چوک جاکر وہاں ترنگا لہرائیں گے۔شیو سینا نے لال چوک میں ترنگا لہرانے کا فیصلہ نیشنل کانفرنس صدر کے بیان کہ ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر پر ہاتھ ڈالنے سے قبل لال چوک میں ترنگا لہراکر دکھاوے‘ کو چیلنج کے طور پر لیتے ہوئے لیا تھا۔ انہوں نے بتایا ’لوگوں کے غیض وغضب سے بچنے کے لئے ٹیم میں شامل اراکین بدھ کی علی الصباح ریگل چوک میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) ہیڈکوارٹرس کے باہر نمودار ہوئے اور شیو سینا زندہ باد، ہندوستان زندہ باد، بھارت ماتا کی جے اوروندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے تاریخی لال چوک پہنچ گئے‘۔ ذرائع نے بتایا کہ ’ شیو سینا کے کارکنوں نے ترنگا لہرانے کی کوشش صبح سویرے اس وقت کی جب اس تجارتی مرکز میں کسی دوکاندار نے اپنی دکان کھولی تھی نہ عام شہریوں کی کوئی نقل وحرکت نظر آرہی تھی‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نقص امن کے خدشے کے پیش نظر شیو سینا کارکنوں کو ترنگا لہرانے سے قبل ہی حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔انہوں نے بتایا ’چونکہ شیوسینا نے اپنا منصوبہ پہلے ہی منکشف کیا تھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے تاریخی لال چوک میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بدھ کی علی الصبح ہی عمل میں لائی گئی تھی۔ ہم امن وامان میں خلل ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے ہیں‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شیو سینا کارکنوں جن کی تعداد 9 تھی، کو تاریخی گھنٹہ گھر کے بالکل نذدیک حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ انہوں نے بتایا ’کارکنوں کو حفاظتی تحویل میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا گیا تھا‘۔گرفتاری سے قبل شیو سیناکے ایک کارکن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ’ہم ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نصیحت دیتے ہیں کہ وہ حریت اور دیگر علیحدگی پسندوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ انہیں یہ چیزیں شوبہ نہیں دیتیں۔ اگر وہ اقتدار میں واپس آناچاہتے ہیں، انہیں یہاں کے نوجوانوں کو روزگار دینا ہوگا۔ انہیں یہاں امن کی بحالی کے لئے کام کرنا ہوگا‘۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے ایک گروپ نے بھی ترنگا لہرانے کی کوشش کی، تاہم ریاستی پولیس نے اس گروپ میں شامل کارکنوں کو تاریخی گھنٹہ گھر کے نزدیک پہنچنے سے قبل ہی حفاظتی تحویل میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔اس دوران بی جے پی کے ایک ترجمان نے شیو سینا کارکنوں کی حراست کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ لال چوک انڈیا ہے اور کارکنوں کو ترنگا لہرانے کی اجازت دی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا لہرانے کو لاء اینڈ آڈرکے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’ترنگا لہرانے والوں کی گرفتاری بدقسمتی ہے‘۔قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت میں شامل بی جے پی نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی بار تاریخی لال چوک میں ترنگا لہرانے کی کوششیں کیں تاہم کشمیر انتظامیہ نے ہر بار امن وامان کے مسئلے کو وجہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے ایسا کرنے کی اجازت نہ دی۔ 2015 ء4 کے مئی میں ایک غیر معروف سماجی تنظیم ’یوتھ فار نیشن‘ نے کشمیری علیحدگی پسندوں جماعتوں کی ریلیوں میں پاکستانی جھنڈے لہرانے کے پس منظر میں لال چوک میں 16 مئی کو ترنگا لہرانے کا اعلان کر رکھا تھا۔ لیکن پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت نے مذکورہ تنظیم کو اس کی اجازت نہیں دی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کوپاکستان جیسے بیانات دینے پربہارمیں نقصان ہوچکاہے:اسدالدین اویسی

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔