کٹھوعہ آبروریزی کیس میں ڈاکٹروں کی رپورٹ عدالت میں پیش، آبروریزی اور گھٹن سے ہوئی تھی بچی کی موت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th September 2018, 12:33 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،10؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بدنام زمانہ کٹھوعہ آبروریزی وقتل معاملہ کی پٹھان کوٹ ضلع سیشن کورٹ میں یومیہ بنیادوں پر ٹرائل جاری ہے۔ اب تک 54گواہان کی جرح کا عمل مکمل کیاجاچکاہے۔اس بیچ کٹھوعہ آبروریزی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس سے استغاثہ کا کیس کافی مضبوط ہوگیاہے۔ ذرائع نے بتایاکہ میڈیکل کالج جموں کی ڈاکٹروں کی ٹیم نے رپورٹ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر تیجوندر کی عدالت میں پیش کیاگیا، جس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کٹھوعہ کی 8سالہ بچی عصمت دری اور گھٹن کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔

میڈیکل بورڈ پولیس کی درخواست پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے تشکیل دیاتھا۔ کٹھوعہ اسپتال کی میڈیکل آفیسر، جومیڈیکل بورڈ کی تین نفری ٹیم میں شامل تھی، اس کیس کی کلیدی گواہ ہے۔ ان کے ساتھ جو دیگر دو ڈاکٹران میں ڈاکٹر مدھو ڈینگر اور ڈاکٹر مکل ابوٹ شامل ہیں۔ میڈیکل بورڈ میں شامل تینوں ڈاکٹروں نے اس معاملہ کی نسبت جو طبی رپورٹ تیار کی، اس سے گزشتہ روز عدالت میں پیش کیاگیا، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ مذکورہ بچی کی موت عصمت ریزی کے دوران گھٹن کی وجہ سے ہوئی۔

ریاستی پولیس کے کرائم برانچ نے پہلے ہی فارنیسک جانچ کے ذریعہ رپورٹ تیار کی تھی، جس میں یہ کچھ بتایاگیاتھا اور یہ رپورٹ بھی عدالت میں پہلے ہی پیش کی گئی۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر جے کے چوپڑہ نے یو این آئی کو بتایاکہ ڈاکٹروں کے بیان نے استغاثہ کے کیس کو مزید مضبوط کر دیا ہے اور وہ کرائم برانچ کی طرف سے پیش کئے گئے ثبوت وشواہد سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ جن ڈاکٹروں نے بچی کا پوسٹ مارٹم کیاتھا، انہوں نے حالیہ دنوں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کورٹ کے سامنے بیان قلمبند کرایا ہے۔ذرائع نے یو این آئی کو بتایاکہ 54گواہان کی جرح ہوچکی ہے اور مزید 30سے35اہم گواہان کی جرح مکمل کرنے کے بعد جج اس پر فیصلہ سنا سکتا ہے۔اگر چہ گواہان کی تعداد350سے زائد ہے لیکن اس میں زیادہ اہم صرف 70سے85تک ہی ہیں جن کی جرح کے بعد جج فیصلہ سنانے کا مجاز ہے اور متوقع ہے کہ ایسا ہی ہو۔

ایک نظر اس پر بھی

اکھلیش یادو ’ٹائیگر بام‘ کی طرح ہیں : مایاوتی 

اتر پردیش کی سیاست کے دو بڑے قد آور ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی جب دہائیوں پرانی دشمنی بھلا کر مین پوری کی ریلی میں ایک ہی مشترکہ اسٹیج پر آئے تو ان کی تصاویر خوب وائرل ہوئیں دیکھی گئیں۔ دشمنی بھلا کر دونوں رہنماؤں نے اب اتر پردیش میں بی جے پی کو روکنے کی کوشش کرنے کی ایک طرح سے ...

نریندر مودی کی سیکورٹی کے پیش نظر وارانسی سیٹ پر بدلی گئی امیدواروں کی نامزدگی کی جگہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکوریٹی کے پیش نظر وارانسی پارلیمانی سیٹ کے انتخابات کیلئے نامزدگی مقام میں تبدیلی کی گئی ہے۔پہلے ضلع انتظامیہ نے ایڈمرل کورٹ میں نامزدگی کا اہتمام کیا تھا، لیکن اتوار کو نامزدگی مقام بدل کر کلکٹریٹ واقع رائفل کر دیا گیا۔انتظامیہ کے فیصلے کے بعد اب ...

ایس پی ۔ بی ایس پی کے پاس کانگریس کے ساتھ اتحاد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں:سلمان خورشید

کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنی پارٹی کے ایس پی۔بی ایس پی۔آر ایل ڈی کے ساتھ اتحاد ہونے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد اتر پردیش کے اس اتحاد کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔اتر پردیش کی کانگریس یونٹ کے دو بار چیف رہ ...

آئی این ایل ڈی کے سابق ممبر اسمبلی راؤ بہادر نے تھاما کانگریس کا دامن، دپیندر ہڈا کی نامزدگی میں ہوں گے شامل

جنوبی ہریانہ کے قدآور لیڈر اور انیلو کے سابق ممبر اسمبلی راؤ بہادر سنگھ نے اتوار کو کانگریس پارٹی کا دامن تھام لیا۔راؤ بہادر سنگھ نے آج بتایا کہ 22 اپریل کو روہتک میں ایم پی دپیندر ہڈا کی نامزدگی کے موقع پر وہ اپنے 5000 حامیوں کے ساتھ موجود رہیں گے۔کانگریس صدر راہل گاندھی اور ...