فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والوں کے خلاف قانون ضروری شوبھاکرندلاجے اورنلین کمار کوگرفتار کرنے یس ڈی پی آئی کامطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th July 2017, 10:46 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍جولائی(ایس او نیوز)  سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (یس ڈی پی آئی) کے ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ساحلی کرناٹک میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے والے بی جے پی رکن پارلیمان شوبھاکرند لاجے اور نلین کمار کو فوری طور پر گرفتارکیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے ساحلی کرناٹک میں فرقہ وارانہ بدامنی کا ماحول ہے جس کی وجہ سے 2معصوم نوجوانوں کا قتل اور 7افراد پر جان لیوا حملے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں منگلور میں شرتھ مڈیوالا کے قتل کی مذمت کی آڑ میں شوبھا اور نلین کمار نے اشتعال انگیزی سے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اس تعلق سے ان کے خلاف بنٹوال پولیس اسٹیشن میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر نے مزید کہا ہے کہ پولیس کو گمراہ کرنے اور معصوموں کو اس معاملے میں ملوث قرار دینے کے لیے ایس ڈی پی آئی اور پاپولرفرنٹ کو اس قتل سے جوڑنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس سے قبل بھی سنگھ پریوار کے فرقہ پرست عناصر نے کارتھک اور شیموگہ کے ایک فرد کے قتل معاملہ میں اسی طرح کا جھوٹا الزام لگایا تھا ۔لیکن تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ یہ قتل ان کے خاندانی اختلاف کی وجہ سے ہوئے تھے۔ شرتھ کمار کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کے اراکین پارلیمان کو ایک ذمہ دار عوامی نمائندوں کی طرح اس معاملہ کی منصفانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا لیکن اس کے برعکس وہ غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات دیکر جنوبی کنڑا علاقے میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شوبھا اور نلین نے 2سنگھ پریوار کارکنوں کے قتل معاملے میں مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ کو لکھے گئے مکتوب میں اپیل کی ہے کہ ان قتل معاملات کی تحقیقات کو ین آئی اے کو سونپا جائے۔ شرم کی بات ہے کہ انہوں نے اپنے مکتوب میں ان قتل معاملات کو بھی شامل کیا ہے جو ذاتی اور خاندانی دشمنی کی وجہ سے ہوئی ہیں اور قابل مذمت بات ہے کہ بی جے پی لیڈروں نے اپنے مکتوب میں ان معصوم افراد کے قتل جیسے ہریش پجاری، پروین پجاری،کرشنیا وٹالی، ونے کمار بالیگا، مصطفے کاوؤر، اشرف کلائی،جلیل کروپاڈی، سفوان پاٹلہ، ناصر سجیپے، کا ذکر نہیں کیا ہے جن کو سنگھ پریوار کے غنڈوں نے قتل کیا ہے۔ اس سے ان کے نسلی رجحان، روایتی ہندوتو ا چہرہ اور غیر جمہوری موقف کا ثبوت ملتا ہے۔ گزشتہ 4سال سے آر ایس ایس اور بی جے پی سرکاری ملازمین کی خودکشی اور اموات کو فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ دیتے آرہے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس طرح کی فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے سیاسی لیڈروں کے خلاف جب تک قانونی کارروائی نہیں ہوگی- امن و امان قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے اخباری اعلامیہ میں لوک سبھا اسپیکر اور الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ شوبھا اور نلین کمار کی لوک سبھا رکنیت کو معطل کریں ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست میں فرقہ وارانہ بدامنی اور انتشار پھیلانے والے بی جے پی اراکین پارلیمان، ارکین اسمبلی، بی جے پی لیڈران کلاڈکا پربھاکربھٹ، شرن پمپویل، جگدیش شیناؤ،کو گرفتار کرکے انہیں جیل بھیجا جائے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت پر کیا تیکھا وار، کہا ، مرکزی حکومت بلاری کے لٹیروں کو بچانے میں سرگرم

مرکز کی مودی حکومت نے کرناٹک میں دن دھاڑے خام لوہے کی لوٹ مچانے والے بلاری مافیا کو بچانے کے لئے سی بی آئی کا غلط استعمال کیا ہے، یہ الزام آج اے آئی سی سی کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے لگایا۔