مخلوط حکومت کو گرانا بی جے پی کا خواب خرگوش، عوام کی حمایت سے ہی میں دوبارہ وزیراعلیٰ بنوں گا: سدرامیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th August 2018, 9:18 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،29؍اگست(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے کی جو خواہش انہوں نے ظاہر کی ہے وہ صرف ریاستی عوام کی مرضی کے مطابق ہوگی، ان کے اس بیان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کو گراکر وہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام نے اگر ساتھ دیاتو وہ وزیر اعلیٰ بنیں گے، لیکن مخلوط حکومت کو کوئی خطرہ ان کی وجہ سے نہیں پہنچے گا۔ حکومت کی طرف سے جو بھی فیصلہ لیاجائے گا وہ صرف عوام کے مفاد میں ہوگا۔

ہبلی میں سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ کئی وزراء اور اراکین اسمبلی نے بھی وزیر اعلیٰ بننے ان کی خواہش کی حمایت کی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس مخلوط حکومت کوگرانا چاہتی ہے۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے بی جے پی کا دعویٰ یہ ہے کہ مخلوط حکومت انتشار کا شکار بن چکی ہے، بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست کے اقتدار پر قبضہ کرنے بی جے پی جو منصوبہ بنارہی ہے وہ محض خواب خرگوش ہے جو کبھی پورا نہیں ہوپائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگلے انتخابات میں پارٹی اگر اقتدار پر آئے تو اس وقت وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ضرور بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے کچھ لیڈر دن میں تارے دیکھنے لگے ہیں کہ کانگریس جنتادل (ایس) مخلوط حکومت کو گرادیں گے اور اقتدار پر آسانی سے قبضہ کرلیں گے، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

مخلوط حکومت مضبوط ہے اور عوام کی امنگوں کے مطابق بہترین انتظامیہ فراہم کررہی ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ مخلوط حکومت کے تعلق سے جو بھی فیصلہ ہو گا وہ صرف رابطہ کمیٹی میں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مخلوط حکومت کے فیصلوں میں انہیں نظر انداز کئے جانے کے متعلق جو خبریں عام کی جارہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں نے مل کر انہیں حکمران اتحاد رابطہ کمیٹی کا چیرمین مقرر کیا ہے، اس سے بڑھ کر اعتماد انہیں اور کیا چاہئے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت کے فیصلوں میں انہیں خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے۔ کانگریس کے بعض اراکین اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت کے متعلق خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ بی جے پی کسی نہ کسی طرح ریاست کے اقتدار پرقبضہ کرنے کی دوڑ میں اندھی ہوچکی ہے۔ اسی لئے عوام میں حکومت کے تعلق سے یہ رائے عام کرنے کے لئے کہ یہ حکومت غیر مستحکم ہوچکی ہے، وقتاً فوقتاً ایسی خبریں اڑاتی رہتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان کی پچھلی حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جو منصوبے مرتب کئے تھے ان تمام کو کمار سوامی حکومت نے برقراررکھا ہے۔ اور ان منصوبوں کے لئے گرانٹس بھی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر گرانٹ کی فراہمی میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ خود کمار سوامی سے بات چیت کریں گے۔

جنتادل (ایس) کے اراکین اسمبلی اور قائدین کی طرف سے کانگریس اراکین اسمبلی کے رویے سے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری وینو گوپال کو مکتوب لکھنے کی خبر کو بھی جھوٹی قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ایسا کوئی مکتوب لکھا گیا ہے اور نہ ہی ایسے کسی امر سے وہ واقف ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

خاتون کانگریس کارکنوں پر ڈریس کوڈ لاگو کرنے کی کوشش، مہیلا کانگریس صدر کی ہدایت پر دیگر کانگریس کارکنوں میں ناراضگی

ملک کے مختلف علاقوں میں اہم شخصیات کے متعلق بارہا می ٹو مہم کے تحت لگنے والے الزامات کو دیکھتے ہوئے کرناٹک پردیش مہیلا کانگریس کمیٹی صدر ڈاکٹر پشپاامرناتھ نے خاتون کانگریس کارکنوں پر ڈریس کوڈ لاگو کرنے کی پہل کی ہے۔

جناردھن ریڈی کی یڈیورپا سے ملاقات کے بعد سیاسی چہ میگوئیاں تیز، ریاستی بی جے پی صدارت بدلنے کی تیاریوں سے یڈیورپا ناخوش

سابق ریاستی وزیر اور بلاری کے کان مالک جناردھن ریڈی کی ریاستی بی جے پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا سے خفیہ ملاقات سیاسی حلقوں خاص طور پر بی جے پی کے حلقوں میں زبردست بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔