بھٹکل میں ایسا بھی ہوتا ہے : ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے             از:قادر میراں پٹیل

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 13th January 2017, 2:41 AM | اسپیشل رپورٹس |

 میں کسی کام سے باہر تھا گھر لوٹتےہوئے شمس الدین سرکل سے آٹو میں سوار ہوکر گھرپہنچا ۔ گھر پہنچنے کے بعد آٹو ڈرائیور سے کرایہ کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے 40روپئے بتایاتو میں نے اس سے پوچھا کہ ابھی آدھ گھنٹہ پہلے یہاں سے وہیں گیا جہاں سے تمہارا رکشا میں نے پکڑا ہے ، اس آٹووالے نے 30روپئے لئے، ایک ہی فاصلہ ہے مگر 10روپئے زیادہ کیوں ؟ تو اس نے کہاکہ جناب ! جس طرف وہ جارہاتھا اس کو وہیں کا کرایہ مل گیا اسی لئے اس نے 30روپئے لئے، لیکن مجھے یہاں سے واپس جانا ہے راستے میں مسافر ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں ، اب اگر آپ بھی وہیں واپس جائیں گے تو میں آپ سے 30روپئے ہی لوں گا۔ ڈرائیور کی دلیل معقول لگی اور اس کے سمجھانے کا انداز بھی نرم ساتھا۔ بہر حال میں نے 40روپئے دے دئیے ۔ پھر اس سے پوچھا کہ یہ رکشا تمہارا خود کاہے؟ نہیں۔۔۔۔ دوسرے کا ہے۔ایک رقم پر ہمارا معاہدہ ہے، اس سے زیادہ کرایہ مل گیا تو میر اہے……………!

میں نے اس سے پوچھا، خرچہ کیسے Manageہوتاہے، نقصان نہیں ہوتاہے۔۔۔۔۔۔۔ کم زیادہ ہوجاتاہے ، بھگوان کی کرپا ہے۔ میں نے اس سے دوبارہ پوچھا ، گھر میں کون کون ہیں؟ تمہاری شادی ہوئی ہے؟اس نے کہانہیں ، گھر میں والد، والدہ اور دو بہنیں ہیں ، ان کی شادی کے لئے پیسے جمع کررہے ہیں، والد بھی کام پر جاتے ہیں، دونوں بہنیں الگ جاب کرتی ہیں۔ میں نےکہابہت اچھا ہے، ماں باپ کا خیال رکھو۔ نوجوان بہت خوش ہوا۔ کیونکہ میں نے اس کی نجی زندگی اور خاندان کے بارے میں پوچھا اور ہربار اس کو ’’تَماّ‘‘(چھوٹابھائی ) کہہ کے مخاطب ہوا۔ اسے بڑی خوشی ہوئی ۔۔۔۔میری باتوں سے متاثر ہوکر مجھ سے مخاطب ہوکر کہا تم نے یہ سب کیوں پوچھا؟۔میں نے کہاتم میرے چھوٹے بھائی کے برابر ہو ، اس گاؤں میں تم اپنے خاندان کے ساتھ خوش وخرم زندگی گذار رہے ہو تو ہمارے لئے بھی خوشی کا سبب بنتاہے۔ اتناسننے کے بعد اس نے جو بات کہی وہ میرے دل کو چھو گئی ۔۔۔۔ اس نے کہاکہ’’ پی یو سی سیکنڈ کے بعد تقریبا ً  8 سال سے بھٹکل میں رکشا چلا رہوں، میری قوم کے لوگوں میں اور نہ تمہاری قوم کے لوگوں میں سے کسی نے بھی اب تک مجھ سے میرے بارے میں تفصیل سے پوچھا نہیں ہے ، آپ اکیلے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے بڑ ی خوشی ہوئی ، رکشا سے اترکر احتراماً اس نے مجھ سے ہاتھ ملا کر چلا گیا۔

اسی طرح شہر میں میرے ساتھ ایک اور واقعہ پیش آیا جو بڑا ہی دل کو نرم کرنے والاہے۔ میں پھول بازار میں ترکاری اور سبزی والی عورت سے اکثر سبزی لیتاتھا، قیمت کے لئے کسی بھی قسم کی بحث وتکرار نہیں کرتاتھا، جو رقم وہ بولتی ، میں اسے دے کر سبزی وغیرہ لے جاتاتھا۔ علالت کے دوران کئی دنوں تک نظر نہیں آیا تو اس نے میرے بیٹے سے پوچھا، تمہارے والد نظر نہیں آرہے ہیں کہاں ہیں؟ بیٹے نے کہاکہ بیمار ہیں ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد میں آپریشن کے بعد بھٹکل آیا تو اس نے پھر پوچھا کہ والد صاحب کیسے ہیں؟بیٹے نے کہاکہ آپریشن کرکے اب گھرمیں آگئے ہیں، اچھے ہیں ۔ وہ ہندو عورت میرا گھر ڈھونڈتے ہوئے اپنے ساتھ تین ناریل اور کچھ ککڑیاں لے کر میرے گھر عیادت کے لئے آگئی ۔ اس ہندو عورت اور مجھ میں کیا رشتہ ؟ بس میں اس کے پاس سے سبزیاں وغیرہ لیتاتھا۔۔۔۔۔

اب تھوڑا بھٹکل سے باہر چلتےہیں۔ راقم الحروف کا ایک میجر سرجری کےلئے منگلورو کے اے جے اسپتال میں 13دن کا قیام رہا، علاج معیاری ہے، نرسیں ان کو دی گئی ہدایات کے مطابق انجکشن دیتی ہیں، بلڈ لیتی ہیں، دوائیاں دیتی ہیں۔ بعض مریض اور ان کے رشتہ دار ان پر برستے رہتے ہیں۔۔۔۔ کتنی دوائیاں ؟ کتنے بلڈ ٹیسٹ؟نرسوں کا موڈ خراب رہتاہے۔

میں نے ہردن ان کو اپنی مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا۔ نرسیں کہنے لگیں کہ اس وارڈ کا میں واحد مریض ہوں جو ہمارا مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتاہے ورنہ تمام مریض اور ان کے رشتے دار ہمارے آتے ہی ہم پر برستے ہیں، کتنا بلڈ نکالتے ہیں؟ کتنا انجکشن دیتےہیں ؟ وغیرہ وغیرہ ، ہم تو ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق کرتے ہیں۔ میں نے نرسوں کو مزید سمجھایا کہ آپ لوگ انسانیت کی خدمت کرتی ہیں، ورنہ ہمارا اور تمہارا کیا رشتہ ؟انسانیت سب سے عظیم رشتہ ہے، ورنہ میں مسلمان ہوں، آپ لوگ ہندو اور کرسچین ہیں ، لیکن ہم سب انسان ہیں، انسانی رشتہ سے ہم بہن بھائی ہیں۔ آپ اپنی خدمت کا معاوضہ لیتی ہیں دوسری بات، بہر حال ان کے پیشے کا تقدس ان پر ظاہر کرتےہوئے مخلصانہ طورپر اپنا کام کرنے کی تلقین کرتارہا۔ انسانی رشتے کی اہمیت کے بارے میں ان کو نصیحت کرتارہا۔ یہ وہی وقت تھا جب کہ ہندوستان بھرمیں جماعت اسلامی ہند کی امن وانسانیت کی مہم تیزی سے جاری تھی۔ میں نے اس کا بھی حوالہ ان کو دیا۔ بڑی مطمئن نظر آرہی تھیں۔ ان کی ہیڈ نرس نے کہاکہ بھار ت میں آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔

الحمد للہ انسانیت کے رشتہ کا تقدس اب بھی باقی ہے، چاہے لاکھ انسانی رشتوں کی خون سے ہولی کھیلی جائے مگر ہندوستان میں اب بھی بہت بڑی تعدادہے لوگوں کی جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس سرزمین پر اپنے تشخص کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنے علاوہ کسی دوسرے کو یہاں برداشت نہیں کرتے ، وہ تعداد میں بالکل قلیل ہیں، گو ان کے ہاتھ میں اقتدارکی باگیں ہیں، لیکن انشاء اللہ جیت انہی کی ہوگی جو اس سرزمین پر سب کے ساتھ مل کررہنا چاہتے ہیں ۔ ہندوستان سب کا ہے۔

ہم اگر ماحول کو خوش گوار بناناچاہتے ہیں تو ہم اس کو اس طرح برادران وطن کے نوجوانوں سے خصوصاً رکشا ڈرائیوروں سے محبت سے بات کرنا ہے ، عمر رسیدہ آدمی ہے تو ’’  اَناّ‘‘(بڑابھائی )اور چھوٹا ہے تو تَماّ کہہ کر مخاطب کرناہے۔ اس کے ذہن میں ہمارے خلاف کتنا بھی غبار بھرا ہوا ہو، اس طرح کے دو تین مواقع میسر آجائیں تو اس کے دل کی حالت بدل سکتی ہے۔ دل میں مسلمانوں کے خلاف بھرا ہوا غبار صاف ہوسکتاہے۔ بھٹکل کے ماحول کو بدلنے میں ہمارا اس طرح کا یہ رویہ بہت کا رآمد ہوسکتاہے۔

دعوتی اعتبار سے ہمارا رویہ بڑا فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ہمارے لوگ جو رکشا سے اکثر آتے جاتےہیں، کرائے کے لئے توتو میں میں ہوتی ہے، بجا طورپر ، بے جاطورپر باتیں بڑھتی بھی ہیں۔ ہم کو ا س کے بارے میں محتاط رہنا ہے۔ ہر ہندو ہمار ا دشمن نہیں ہے، ایک خاص طبقہ دوسروں کو استعمال کرکے ماحول کو کشیدہ رکھنا ان کی پالیسی ہے۔ اس کا مقابلہ ہمیں محبت سے کرناہے، ماحول پر اس کا اچھا اثر ہوگا، جلد ہی حالات بدل سکتے ہیں، غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں، چین و سکون دونوں برادریوں کو مل سکتاہے۔ اللہ اس کی ہمیں توفیق دے ۔

(ساحل آن لائن)

ایک نظر اس پر بھی

اترکنڑا ضلع میں بندوق برداروں کی تعداد صرف ایک فی صد: لائسنس کی تجدید کو لے کر اکثر بے فکر

اترکنڑا ضلع جغرافیائی وسعت، جنگلات سے گھراہواہے اس کی آبادی میں خاصی ہے لیکن ضلع میں صرف ایک فی صد لوگ ہی بندوق رکھتے ہیں،ضلع میں فصل کی حفاظت کے لئے 8163اور خود کی حفاظت کے لئے 930سمیت کل 9093لوگ ہی لائسنس والی بندوقیں رکھتے ہیں۔

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

یومِ اساتذہ اور ہمارا معاشرہ ؛ (غوروفکر کے چند پہلو) از :ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ،صدر شعبہ اردو؛ گورنمنٹ ڈگری کالج ، سونور ضلع ہاویری

ہمارا معاشرہ سال کے جن ایام کو خصوصی اہمیت دیتاہے ، ان میں سےایک یومِ اساتذہ بھی ہے، جو 5ستمبر کو ہر سال پورے ملک میں منایاجاتاہے۔ اس موقع پر جلسے ، مذاکرے اور اس نوعیت کے مختلف رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کرکے ایک قابل احترام اور مقدس پیشہ میں مصروف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش ...

کیا کابینہ کی توسیع میں آر ایس ایس کا دخل تھا ؟

اتوار کے روزہونے والی کابینی رد وبدل میں محض وزیر اعظم نریند مودی کی ہی مرضی نہیں بلکہ اس میں آر ایس ایس کا بھی دخل برابر کا تھا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس توسیع میں وزیر اعظم کی مرضی اتنی نظر نہیں آئی جتنا سنگھ کا اثر دکھائی دیا۔ توسیع کے کسی بھی فیصلے سے ایسا محسوس نہیں ...

کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے ملی ضمانت کے پس منظر میں ریٹائرآئی جی پی مہاراشٹرا ایس ایم مشرف کے چبھتے ہوئے سوالات

مالیگائوں بم بلاسٹ معاملے میں کرنل پروہت کو ضمانت ملنے پر Who Killed Karkare ? کے رائٹر اورسابق انسپکٹر جنرل آف پولس ایس ایم مشرف نے کچھ چبھتے ہوئے سوالات کے ساتھ سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے، جس کو ایک مرہٹی نیوز چینل نے پیش کیا ہے۔ اُس کا مکمل ترجمہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔