سپریم کورٹ نے کہا،جسٹس لویا کی موت کامسئلہ سنگین ، مہاراشٹر حکومت سے مانگا جواب

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th January 2018, 11:06 PM | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍جنوری ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ کی سماعت کررہے خصوصی سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی پراسرار حالات میں موت کوسنگین مسئلہ ماناہے۔جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت سے اس معاملے میں آزاد انکوائری کی مانگ کررہی درخواستوں پرجواب مانگاہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں ایک طرفہ سماعت کے بجائے دو طرفہ سماعت کی ضرورت ہے۔جسٹس ارون مشرا اور جسٹس ایم ایم شانتانگوار کی بینچ نے 15جنوری تک جواب دینے کے لیے مہاراشٹرحکومت کے وکیل نشانت آر کٹنیشورکرسے جواب مانگاہے۔ سماعت کے آغاز میں’’بمبئی لایرس ایسوسی ایشن‘‘کی نمائندگی کررہے سینئر وکیل دشینت دوے نے کہا کہ ہائی کورٹ اس کی سماعت کر رہی ہے۔ایسی صورت میں سپریم کورٹ کودرخواستوں کو نہیں سننا چاہیے۔۔دوے نے کہاکہ بمبئی ہائی کورٹ نے معاملہ کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے اور میرے خیال میں سپریم کورٹ کو یہ معاملہ نہیں سننا چاہئے،اگر عدالت سماعت کررہی ہے تو پھر ہائی کورٹ کے سامنے الجھن ہوسکتی ہے۔درخواست دہندگان اور مہاراشٹر کے صحافی بی بی لون کی جانب سے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ انہیں بمبئی لایرس ایسوسی ایشن کے ذریعہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی طرف سے نہیں سننا چاہئے۔بینچ نے کہا کہ وہ اعتراضات کے ساتھ ساتھ درخواستوں پر غور کرنے پر غور کریں گے۔درخواست دہندہ کانگریس لیڈر تحسین پونہ والا کے وکیل ویرندر کمار شرما نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں یکم دسمبر 2014ایک جج کی پراسرار حالات میں موت ہوگئے جس کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔بنچ کٹنیشورکر نے حکومت سے ہدایت لینے کے ساتھ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور لویا کی موت سے متعلق دستاویزات کو جمع کرنے کو کہا۔بنچ نے 15جنوری کو معاملے کی اگلی سماعت مقرر کی ہے۔آپ کو بتادیں کہ جسٹس لویاکی یکم دسمبر 2014کو ناگپور میں موت ہوگئی تھی۔اس کے بعدسے وہاں ان کی موت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

22جنوری ووٹرلسٹ میں نام درج کرنے یاترمیم و اضافے کی آخری تاریخ 

ضلع پنچایت کے سی ای او مسٹر ایل چندرا شیکھر نے کاروارآکاش وانی کے فون اِن پروگرام میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا 18سال کی عمر کو پہنچنے والے ملک کے ہر باشندے کا یہ حق ہے کہ اس کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو اور اسے حق رائے حاصل ہوجائے۔

اُلائی بیٹو فساد کے تعلق سے وجرے دیہی مٹھ سوامی کو عدالت میں حاضری کا سمن جاری

منگلورو سے قریب اُلائی بیٹو نامی مقام پر9دسمبر 2014کو ہوئے فساد سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران منگلورو کی سیکنڈ جے ایم ایف سی عدالت نے گروپور کے وجرے دیہی مٹھ کے سوامی راج شیکھرا نندا کو شخصی طور پر عدالت میں حاضر رہنے کا سمن جاری کردیا ہے۔

آپ کے20ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ، الیکشن کمیشن نے دیا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے منفعت بخش عہدہ معاملے میں دہلی میں حکمران عام آدمی پارٹی کے 20ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دیا ہے۔کمیشن اپنی رپورٹ صدر رام ناتھ کووند کو بھیجے گا۔اب سب کی نظریں صدر لگی ہوئی ہیں، جو اس معاملے پر حتمی مہر لگائیں گے۔

پروین توگڑیا کاوشوہندوپریشد سے کوئی تعلق نہیں، سنت سمیلن میں رام مندرپر نہیں آئے گی تجویز: سوامی چنمیانند

وی ایچ پی کے صدر پروین توگڑیا کی طرف سے حکومت پر ان کے خلاف سازش کرنے اور انکاؤنٹر کر نے کی سازش جیسے الزامات کے بعد نہ صرف آر ایس ایس بلکہ وی ایچ پی نے بھی پورے تنازعہ سے خود کو الگ کر لیاہے

مہاتما گاندھی کو’’راشٹریہ پتا‘‘ کہناغلط،شنکرآچاریہ سروپانند کی زبان بے لگام 

اپنے متنازع بیانات کے لئے جانے جانے والے شنکرآچاریہ سوامی سوروپانندنے پھر ایک بار متنازعہ بیان دے کر ایک تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔انہوں نے مہاتما گاندھی کو بابائے قوم کہے جانے پراعتراض کیا ہے۔

حج کا معاملہ مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے،صرف حج سبسڈی روکناامتیازی سلوک،امرناتھ اورکیلاش میں بھی دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

مرکزی حکومت کے ذریعہ حج سبسڈی ختم کیے جانے پر، پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی سینٹرل سیکریٹریٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مذہبی معاملات کو ان کے ماننے والوں پر چھوڑ دے اور ملک و بیرون ملک مختلف مذہبی اعمال پر دی جانے والی تمام مراعات کو ختم کرے۔