اسرائیلی پارلیمان میں اللہ اکبر کی صدا از:شمس تبریز قاسمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th November 2016, 1:14 PM | اسپیشل رپورٹس |

دنیا کے کسی مسلم ملک کی پارلیمنٹ میں آج تک اللہ اکبر کی صدابلندنہیں ہوئی،کسی مسلم پارلیمان میں اذان نہیں پڑھی گئی،انٹرنیٹ پر ہم نے بہت سرچ کیا ،لیکن کہیں بھی یہ معلومات نہیں مل سکی کہ کسی مسلم ملک کی پارلیمنٹ میں کبھی اذان دی گئی ہو ،نہ ہی یوٹیوب پر کوئی ایسی ویڈیو دستیاب ہوسکی جس میں یہ دیکھاگیا ہوکہ پارلیمنٹ میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہورہی ہے ؛لیکن ہاں !ایک مسلم دشمن ملک کی پارلیمنٹ میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوگئی ،اسرائیل پارلیمنٹ میں مسلم ممبر پارلیمنٹ طالب ابوعرارنے اذان پر مخالفت کی بات سن کر پارلیمنٹ میں ہی اذان دینی شروع کردی اوریوں ایمانی جوش و ولولہ کی ایک نئی تاریخ مرتب کرکے ظالم طاقتوں سے خائف مسلمانوں کو حوصلہ ،ہمت ،جرات ،بیباکی جیسی دولت سے سرفراز کردیا۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہٰ الا اللہ

اسرائیل اس خطے کا نام ہے جہاں عربوں اور مسلمانوں کو دربدرکرکے دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسایاگیا ،اقوا م متحدہ نے اپنے قیام کے فورا بعد1948 میں فلسطین کے بیشتر علاقے پر قبضہ کرکے امریکی چھاؤنی ’’اسرائیل اسٹیٹ ‘‘کے قیام کا اعلان کردیا۔اس اسرائیل سے مسلمانوں کی مذہبی ،ثقاقتی ،سماجی ،ملی ،سیاسی اور تاریخ کا گہرارشتہ ہے ،یہاں مسلمانوں کا تیسراسب سے مبارک اور مقدس شہر یروشلم واقع ہے ،اسی سرزمین میں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصی بھی ہے ،اس کی حصول کی جدوجہد کرنا اور یہودیوں کے پنجہ استبداد سے آزاد کرانے کی فکرنا ہمارے ایمان کا لازمی ہے ۔

اسرائیل نے گذشتہ دنوں مسجدوں میں مائک سے اذان دینے پر پابندی عائدکرنے کیلئے پارلیمنٹ سے ایک قانون بنانے کافیصلہ کیا،اسرائیلی کابینہ کی طرف سے لاوڈ ا سپیکروں پر اذان دینے پر پابندی کا قانون منظور کیے جانے کے بعد اسے پارلیمنٹ میں رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا، اسرائیلی پارلیمنٹ کے مسلمان رکن احمد التیبی نے حکومت کی جانب سے اذان پر پابندی کے مجوزہ بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہودی لابی اسلام فوبیا کا شکار ہے، بل کی منظوری اسرائیلی فاشسٹ معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔اس دوران ایک اور مسلم رکن طالب ابو عرار نے پارلیمنٹ میں اللہ اکبر کی صدابلند کرتے ہوئے اذان دینا شروع کر دیا،اذان کی آوازسن کر یہودی اراکین پارلیمنٹ آگ بگولہ ہوگئے ،انہوں نے روکنے کے لئے شور شرابہ شروع کر دیا لیکن عزم وہمت کے جواں پیکر ابوعرار نے کچھ سنے بغیر اذان کا سلسلہ جاری رکھا ،تمام کلمات کہنے کے بعد انہوں نے اذان کے بعد کی دعاء مسنون پڑھی اور اسلام دشمن ملک کی پارلیمنٹ یہ نظارہ دیکھتی کی دیکھتی ہی رہ گئی۔

اسرائیل میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت میں ہیں، 17 فیصد سے زائد مسلمان وہاںآباد ہیں،مسجدیں اور دیگر مذہبی ادارے قائم ہیں ،سیاست میں بھی مسلمانوں کا عمل دخل ہے ،7 مسلمان ممبران پارلیمنٹ کی حیثیت سے مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرتے ہیں جن میں ایک خاتو ن محترمہ حنیز ذوبی بھی شامل ہیں،آئین کی روسے انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن یہودی قوم اپنی پرانی سرشت کے پیش نظر موقع بہ موقع مسلمانوں کو پریشان کرتی رہتی ہے ،لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے پر پابندی بھی اسی سازش کی ایک کڑی ہے تاہم ایک عربی اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ اسرائیلی وزیر داخلہ پابندی کے خلاف تھے انہوں نے پارلیمان میں کہاتھاکہ اگر فلسطین کی مساجد میں لاوڈ سپیکروں پر اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی تو اس کے نتیجے میں یہودیوں کے مذہبی شعائر بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور ہفتے کے روز ہونے والے یہودی مذہبی عبادات بھی اس قانون کی زد میں آ سکتے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور لاؤڈاسپیکر سے اذان ممنوع قراردیئے جانے والے بل پر رائے شماری نہیں ہوسکی ہے ،اس دوران مسلم رکن پارلیمنٹ طالب ابوعرار کے جرات ایمانی کو دنیا بھر میں سلام کیا جارہاہے ،اذان کی ویڈو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے ،دنیا بھر کے مسلمان فیس بک اور ٹوئٹر پر یہ لکھ کر شیئر کررہے ہیں کہ اللہ اکبر کی صدالگانے والے ہی اس سرزمین کے اصلی حقدا ر ہیں اور ہم بہت جلد انہیں فلک شگاف نعروں کے ساتھ اپنی یہ زمین واپس لیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...