مسلمانوں کی آبادی میں زبردست اضافہ، 2050 تک دنیا میں ہوگی سب سے زیادہ آبادی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th February 2019, 1:05 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی)دنیا میں فی الحال عیسائی مذہب کو ماننے والے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، لیکن 2050 تک دنیا کے نقشے پرکافی کچھ تبدیل ہوسکتا ہے۔ عالمی ریلیجن ڈیٹا بیس اورپیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2050 تک مذہب اسلام کوماننے والی عوامی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

ورلڈ ریلیجن ڈیٹا بیس نے1910 سے 2010 کے درمیان پوری دنیا میں مقیم مذہبی لوگوں کی آبادی کی تحقیق کی بنیاد پربتایا ہے کہ ان 100 سالوں میں اسلام سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے جبکہ اس کے بعد سب سے تیزی سے ملحد (کسی بھی مذہب کونہ ماننے والے) لوگوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 2050 تک ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ یہاں ہندوہی اکثریت میں رہیں گے، لیکن دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہندوستان میں ہوگی۔ واضح رہے کہ فی الحال انڈونیشیا کے بعد ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔

کیا کہتا ہے ورلڈ رلیجن ڈیٹا بیس؟:ورلڈ ریلیجن ڈیٹا بیس کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سال 1910 میں کل آبادی کے 34.8 فیصد لوگ عیسائی تھے جو 2010 میں گھٹ کر32.8 فیصد رہ گئے ہیں جبکہ مسلمانوں کی بات کریں تو1910 میں ان کی آبادی 12.6 فیصد تھی جو2010 میں بڑھ کر22.5 فیصد ہوگئی ہے۔

دنیا میں مختلف مذاہب کی آبادی: ہندوؤں کی بات کریں توان کی آبادی میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہندو آبادی پوری دنیا میں 1910 میں12.7 فیصد تھی جواب بڑھ کر13.8 فیصد ہوگئی ہے۔ ملحدوں کی بات کریں توان کی آبادی پہلے صرف 0.2 فیصد تھی جوغیرمتوقع طورپربڑھ کر9.8 فیصد ہوگئی ہے۔ چینی لوک دھرم ماننے والے لوگوں کی آبادی میں گراوٹ درج کی گئی ہے، یہ 22.2 فیصد سے گھٹ کرصرف 6.3 فیصد رہ گئے ہیں۔

سب سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں مسلمان:رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں مسلمانوں کی آبادی میں سب سے تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ نہ ہوکرقدرتی وجہ ہی ہے۔ رپورٹ نے 2010 سے 2015 کے درمیان مسلم طبقے میں بچوں کی پیدائش اورانتقال کے اعدادوشمارکی تحقیق میں پایا ہے کہ اس دوران پوری دنیا میں 21.3 کروڑبچے پیدا ہوئے، لیکن صرف 6.1 کروڑ لوگوں کی موت ہوئی جبکہ عیسائیوں کی بات کریں تو22.3 کروڑبچے پیدا ہوئے، لیکن مرنے والوں کی تعداد بھی 10.7 کروڑ سے زیادہ رہی۔

یوروپ میں عیسائی مذہب کے لوگوں کی عوامی آبادی میں سب سے زیادہ کمی دیکھی جارہی ہے۔ یہ ان 5 سالوں میں تقریباً 56 لاکھ سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

مسلمان 2050 تک ہوں گے سب سے زیادہ: اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں اگرایسے ہی اضافہ ہوتا رہا تویہ سال 2050 تک عوامی آبادی کے معاملے میں دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا جبکہ عیسائی مذہب کے ماننے والے دوسرے نمبرپرکھسک جائیں گے۔ خاص طورپریوروپ میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ کر10 فیصد سے زیادہ ہوجائے گی۔ ہندوستان کی بات کریں توہندوہی اکثریت میں رہیں گے، لیکن پوری دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہندوستان میں رہ رہی ہوگی اور ہندوستان مسلم آبادی کے معاملے میں انڈونیشیا کوپیچھے چھوڑدے گا۔

مسلمانوں کی آبادی میں کیوں ہورہا ہے اضافہ؟:مسلمانوں کے تعلق سے عام طورپرایسا کہا جاتا ہے کہ مذہب کی تبدیلی پوری دنیا میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ ہے، لیکن پیوریسرچ اس سے واضح طورپرانکار کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں مسلمانوں کی عوامی آبادی میں ہوئے اضافہ کے پیچھے مذہب کی تبدیلی کا تعاون صرف 0.3 فیصد ہی ہے، یعنی ان پانچ سالوں کے دوران 5لاکھ لوگوں نے ہی کسی مذہب کو چھوڑکراسلام اپنایا ہے، مسلم آبادی میں اضافہ کے پیچھے بڑی وجہ بچوں کی پیدائش کا تناسب ہی ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں پیدائش کا تناسب بھی پوری دنیا میں دوسرے مذاہب سے زیادہ ہے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔