اسلامی تہذیب کی خصوصیات اور مسلمانوں کی موجودہ ضرورت ۔۔۔از:مولانااسرارالحق قاسمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th August 2017, 5:27 PM | اسپیشل رپورٹس |

موجودہ مغربی تہذیب کوئی نوعمر تہذیب نہیں ہے۔دراصل اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی یونانی اور رومی تہذیبوں سے پیوستہ ہیں۔یونانی تہذیب مغربی ذہنیت کا سب سے پہلا اور واضح نمونہ تھی۔یہ پہلا تمدن تھا جو خالص حسی فلسۂ حیات کی بنیاد پر قائم ہوا اور یونانی قوم ایک مخصوص نظریۂ تمدن کے علمبردار کی حیثیت سے دنیاپر چھاگئی۔اس تہذیب کا اصل الاصول انسان کی تمام قوتوں کا ہم آہنگ نشوونما اور سب سے بڑا معیار خوبصورت اور سڈول جسم سمجھا جاتا ہے۔جسمانی تربیت،ورزشی کھیلوں،اوررقص وغیرہ کواس لئے اس میں خاص اہمیت حاصل تھی۔اس میں زیادہ زور محسوسات پر ہے۔اس میں نہ روحانیت کا مغز ہے،نہ باطنیت کا،نہ پیشوایان دین کا طبقہ ہے نہ علم دین کا،یونانیوں کے جانشین رومی ہوئے اورقوت،مملکت کی تنظیم،سلطنت کی وسعت اور عسکری صفات میں ان پر فوقیت لے گئے۔لیکن علم و ادب،تہذیب و شائستگی میں وہ یونانیوں کے درجہ کے کمال تک نہ پہنچ سکے۔اس وجہ سے ان کے ذہنوں پر یونانیوں کی گرفت ہمیشہ مضبوط رہی اور رومی ،یونانی تہذیب سے مغلوب رہے۔پھرایک عرصے کے بعد رومی تہذیب بھی خاتمے کوپہنچ گئی ۔اس کے بعد بھی مختلف تہذیبیں اس دنیامیں نمودار ہوتی رہیں اور ان میں سے سب کی کچھ نہ کچھ خصوصیات تھیں۔تہذیبوں کا اتارچڑھاؤہوتارہتاہے۔تاریخ کے آغازسے ہی یہ عروج و زوال سمیری،کلدانی،اشوری،ہندی،ایرانی،رومی اور اسلامی تہذیبوں کا جزولازم رہاہے۔اس کے نقطۂ عروج سے ہی اسلام نے قدیم اور جدید تہذیبوں کے مابین رابطے کاکام کیاہے۔آج مغربی تہذیب کادورہے۔یہ تہذیب چارسوبرسوں سے زیادہ پر محیط ہے،اس دورمیں سائنس،سیاست اور سماجی حالات میں کافی ترقی ہوئی ہے مگرآج مغرب سخت بحران سے دوچار ہے،اپنے افکاروخیالات اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس پر بحرانی کیفیت طاری ہے۔وہ لوگ جومغرب کی تہذیبی تاریخ،ان کے فلسفہ،سائنس اور نئے خیالات سے واقف ہیں وہ کم و بیش ان کے بحرانی نشانات کو دیکھ سکتے ہیں۔ایک تہذیب کے لئے چار صدی طویل زمانہ ہوتاہے،اگرچہ یہ ممکن ہے کہ ماضی میں کچھ تہذیبیں اس سے بھی زیادہ زمانہ پر محیط رہی ہوں،لیکن سائنس، ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک مواصلات میں جس سرعت کے ساتھ اس دور میں پیش رفت ہورہی ہے،اس سے قبل کسی تہذیب میں نہیں ہوسکی ہے۔البتہ چوں کہ مغرب کے معاشرہ پرتاریخی یا نظریاتی اعتبارسے یونان کی شہری ریاست اور بعدازاں رومن سیاسی نظام کی چھاپ ہے،اس لئے ان دونوں تہذیبوں کی خامیاں اس ایک تہذیب کے اندر پائی جاتی ہیں،سماجی معاملات سے لے کر سیاسی امور تک میں مغرب اور مغربی تہذیب نے پوری دنیاکو اگرچہ اپنے زیر اثرلے رکھاہے مگر افسوس کی بات ہے کہ اس کے اندر کوئی ایسی حقیقی کشش اور کامرانی کی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے بارے میں اطمینان کے ساتھ یہ رائے قائم کی جائے کہ یہ انسانیت کے لئے دوررس نفع کی حامل ہے۔

اس کے برخلاف اسلامی معاشرے کاباقاعدہ تاریخی و نظریاتی آغاز شہرِنبویﷺ سے ہوتاہے۔یثرب کانام بدل کرمدینۃ الرسول رکھنا صرف نام کی تبدیلی نہیں تھی،نہ ہی جاہلیت کے دورسے ایام اللہ میں داخل ہونے میں کوئی منصب بدلناتھا،بلکہ اوائلِ اسلام میں مدینۃ الرسول اورایام اللہ کے رونماہونے کے بعد اسلام کے اخلاقی جغرافیہ اور تاریخ نے نئے نقطۂ نظر،کردار اور تہذیب کو جنم دیا۔یہ تہذیب اپنے منفرداور خاص نقطۂ نظرکے ساتھ،انسان کاوجوداوراس کی ابتداکے بارے میں صدیوں سے ان کے اجتماعی حافظہ اورروح کی گہرائیوں میں بسی ہوئی ہے۔مدینۃ الرسول ہمارے لئے ایک ابدی اخلاقی گھرہے اور ایام اللہ ہماری پوری عملی زندگی میں ایک برق کی ماننددوڑتے رہتے ہیں۔نظریاتی اعتبارسے مسلمانوں کو وحی کے ذریعہ یہ بتایاگیا کہ اسلام صرف دوسری عالمی تہذیبوں کی مانند ایک تہذیب نہیں،بلکہ وہ ایک کامل و مکمل دین ہے۔اس میں زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق واضح ہدایات موجودہیں۔تجارت ہویا زراعت، سیاست ہویاملازمت،انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی،معاشیات ہوںیا معاشرت،تہذیب ہویاتمدن ہر ایک کے متعلق اسلام میں واضح رہنمائی موجود ہے۔دنیاکاکوئی اور مذہب یاتہذیب اسلام کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔اس کی شان یہ ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہے خواہ وہ کسی نسل کاہو،کسی قوم کاہو،کسی رنگ کاہو،جوبھی زبان بولتاہو اس کے لئے اسلام میں رہنمائی و ہدایت موجودہے۔اسلام نے نسل،قوم ،زبان اور رنگ کے تمام بتوں کوپاش پاش کیااوربرتری کا مدارتقویٰ پر رکھا۔دنیاکے تمام انسانوں کے لئے اسلام کایہ نظامِ حیات قیامت تک کے لئے ہے۔حضورﷺکی بعثت سے لے کرقیامت تک کتنی صدیاں بیت جائیں،خواہ کتنے ہی انقلابات آئیں،یہ دین ہر زمانے کے لئے ہے،ہر صدی کے لئے ہے اور تمام حالات کے لئے ہے۔عالم انسانیت کے لئے اسلامی تہذیب کے گیارہ اہم بنیادی عطیات ہیں جو اس طرح ہیں:۱۔صاف اور واضح عقیدۂ توحید۲۔انسانی وحدت و مساوات کا تصور۳۔انسانیت کے شرف اور انسان کی عزت و بلندی کا اعلان۴۔عو رت کی حیثیتِ عرفی کی بحالی اوراس کے حقوق کی بازیابی۵۔ناامیدی اور بدفالی کی تردید،حوصلہ مندی اور اعتماد کی آفرینش۔۶۔دین و دنیاکا اجتماع،حریف و برسرجنگ انسانی طبقات کے درمیان مصالحت پر زور۔۷۔دین اور علم کے درمیان مقدس دائمی رشتے کا قیام و استحکام۔۸۔علم کی تکریم و تعظیم اور اسے مفید،بامقصداور خدارسی کا ذریعہ بنانے کی سعیِ محمود۔۹۔دینی معاملات میں بھی عقل سے کام لینے،فائدہ اٹھانے اور انفس و آفاق میں غوروفکر کی ترغیب۔۱۰۔امت کو دنیاکی نگرانی و رہنمائی،انفرادی و اجتماعی اخلاق و رجحانات کے احتساب،دنیامیں انصاف کے قیام اور شہادتِ حق کی ذمے داری قبول کرنے پر آمادہ کرنا۔۱۱۔عالمگیر اقتصادی و تہذیبی وحدت کا قیام۔ان میں سے ہر عنوان بڑا وسیع اور طویل الذکر ہے۔اگر بعثت محمدی سے پہلے کے جاہلی زمانوں اور تہذیبوں اور ظہورِاسلام کے عہد و تہذیب اور معاشرہ کے درمیان حقیقت پسندانہ موازنہ کرکے دیکھاجائے توان میں سے ہرایک کی اہمیت و حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوکر سامنے آجائے گی۔

اسلامی معاشرہ نہ دوسروں پر تسلط حاصل کرناچاہتاہے اور ناہی کسی دوسرے کے غلبہ کوتسلیم کرتاہے۔وہ دوسری اقوام کے خود فیصلہ کرنے اور ضروری وسائل تک ان کی رسائی کے حق کو ایک باعزت زندگی کے لئے تسلیم کرتاہے۔وہ قرآنی تعلیمات کے مطابق موجودہ تمام تکنیکی ترقی کے ضروری ذرائع ووسائل کے حصول کواپنا حق مانتاہے اور دوسروں کے غلبہ اور ماتحتی کی تردید کرتاہے۔اسلامی معاشرہ قوموں کے تعلقات میں طاقت کے استعمال،منافقت اور دوہرے رویہ کی تردید کرتاہے اوراس کے بدلے میں بین الاقوامی تعلقات میں باہمی عزت و احترام کے اصول اور منطق کواپناتاہے۔اسلام مسلمانوں سے یہ تقاضا نہیں کرتاکہ وہ یکسر دنیاسے لاتعلق ہوجائے اور نہ یہ کہ مسجد میں جابیٹھے اور پھر وہاں سے نہ نکلے،نہ اسلام یہ چاہتاہے کہ انسان غار میں جاکر پناہ گزیں ہوجائے اور پوری زندگی وہیں گزار دے،ہرگزنہیں۔بلکہ مسلمانوں سے اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی بہترین تہذیب اور بے مثال تمدن کوپوری طرح اپنائیں تاکہ مہذب اقوامِ عالم پر سبقت لے جائیں،مال و دولت کے اعتبار سے دنیامیں سب سے زیادہ دولت مندہوں اور علم و حکمت کے لحاظ سے تمام علوم کے سب سے بڑے عالم ہوں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ہمارے تشخص کا ماضی کے ساتھ گہرا ربط ہے۔لیکن اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے ماضی کی طرف لوٹ جائیں۔خداکا پیغام وحی کے ذریعے ہم پر ماضی ہی میں بھیجاگیاتھا۔لیکن وہ کسی ایک زمانے کے لئے نہیں تھا۔ہمیں اپنے ماضی کاحوالہ دیناچاہئے،کیوں کہ ہمارا تشخص ماضی میں ہے،لیکن ہمیں ماضی میں ہی نہیں رہنا چاہئے،وہ تومراجعت ہوجائے گی۔ماضی کی جانب ہم اس لئے دیکھیں کہ ہمیں آگے مستقبل کی طرف چھلانگ لگانے کے لئے تختہ فراہم ہوجائے،مستقبل کی طرف آگے بڑھتے ہوئے ہم آج کی دنیاکو پورے طورپر سمجھیں اور انسانی تمدن اور افکارکی مثبت کامیابیوں سے پوراپورا فائدہ اٹھائیں،وہ خواہ کہیں بھی ہوں،صرف اس طریقۂ کارسے ہی ہم اپنے ماضی کی عظمت اور شان کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔اپنے حال اور مستقبل کوسامنے رکھتے ہوئے زندگی کا ڈول ایسا ڈالاجائے جس میں روحانی صفات اور الہام ہو لیکن اس کے ساتھ انسانی تعقل پسندی اورانسانی حقوق کا پورا احترام کیاجاتاہو۔آج کی رائج مغربی تہذیب اپنی بے پناہ ترقیوں کے باوجودانسانوں کی قلبی و ذہنی آسودگی اور روحانی تسکین کے باب میں جوکہ اس کی اصل اور بنیادی ضرورت ہے،پوری طرح ناکام ہوچکی ہے،اسلام ہی ایک ایسا دین اور اسلامی تہذیب ہی واحد ایسی تہذیب ہے جوانسانوں کی ہر قسم کی ترقیات کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی دلی،ذہنی و روحانی تسکین و کامرانی کا سامان کرسکتاہے،اس کے لئے پہلے خود مسلمانوں کواپنی تہذیب اور دین سے مکمل طورپرجڑناہوگا،اگرمسلمان خودہی اسلامی تہذیب سے دوررہیں تو پھر دوسری قوموں کواسلام کے دامن میں پناہ گزیں ہونے کی دعوت کون دے گا؟ ۔

ایک نظر اس پر بھی

اترکنڑا ضلع میں بندوق برداروں کی تعداد صرف ایک فی صد: لائسنس کی تجدید کو لے کر اکثر بے فکر

اترکنڑا ضلع جغرافیائی وسعت، جنگلات سے گھراہواہے اس کی آبادی میں خاصی ہے لیکن ضلع میں صرف ایک فی صد لوگ ہی بندوق رکھتے ہیں،ضلع میں فصل کی حفاظت کے لئے 8163اور خود کی حفاظت کے لئے 930سمیت کل 9093لوگ ہی لائسنس والی بندوقیں رکھتے ہیں۔

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

یومِ اساتذہ اور ہمارا معاشرہ ؛ (غوروفکر کے چند پہلو) از :ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ،صدر شعبہ اردو؛ گورنمنٹ ڈگری کالج ، سونور ضلع ہاویری

ہمارا معاشرہ سال کے جن ایام کو خصوصی اہمیت دیتاہے ، ان میں سےایک یومِ اساتذہ بھی ہے، جو 5ستمبر کو ہر سال پورے ملک میں منایاجاتاہے۔ اس موقع پر جلسے ، مذاکرے اور اس نوعیت کے مختلف رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کرکے ایک قابل احترام اور مقدس پیشہ میں مصروف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش ...

کیا کابینہ کی توسیع میں آر ایس ایس کا دخل تھا ؟

اتوار کے روزہونے والی کابینی رد وبدل میں محض وزیر اعظم نریند مودی کی ہی مرضی نہیں بلکہ اس میں آر ایس ایس کا بھی دخل برابر کا تھا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس توسیع میں وزیر اعظم کی مرضی اتنی نظر نہیں آئی جتنا سنگھ کا اثر دکھائی دیا۔ توسیع کے کسی بھی فیصلے سے ایسا محسوس نہیں ...

کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے ملی ضمانت کے پس منظر میں ریٹائرآئی جی پی مہاراشٹرا ایس ایم مشرف کے چبھتے ہوئے سوالات

مالیگائوں بم بلاسٹ معاملے میں کرنل پروہت کو ضمانت ملنے پر Who Killed Karkare ? کے رائٹر اورسابق انسپکٹر جنرل آف پولس ایس ایم مشرف نے کچھ چبھتے ہوئے سوالات کے ساتھ سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے، جس کو ایک مرہٹی نیوز چینل نے پیش کیا ہے۔ اُس کا مکمل ترجمہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔