کیا حقیقتًا اسلام عورتوں کا دشمن ہے ؟؟؟مدہوبنی  سے محمد ولی اللہ ابن محمد زبیر قاسمی کی خصوصی رپورٹ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 26th October 2016, 5:42 AM | اسپیشل رپورٹس |

عصر حاضر کے ہر کس و ناکس خواہ وہ پانچ دس سال کا معصوم بچہ کیوں نہ ہو یہ بات انکو بخوبی معلوم ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے اور عورت ذات کو ایک حقیر سی شئی تصور کی جاتی تھی تاریخ کے اوراق ،زمین کی پستی و آسمان کی بلندی پر  کی ہر شئی عینی شاہد ہیکہ قبل اسلام یہودیوں کے یہاں کافی عرصہ تک اس بارے میں اختلاف رہا ہے کہ عورت انسان ہے یا نہیں ؟ بہت سے یہودیوں کا یہی خیال تھا کہ وہ انسان نہیں ؛بلکہ مردوں کی خدمت کے لئے انسان نما حیوان ہے لہذا اسے ہنسنے ،بولنے کا کوئی حق نہیں، بعض یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ عورت شیطان کی سواری اور بچھو ہے جو ہر انسان کو ہروقت ڈنک مارنے کی فکر میں رہتی ہے 

عیسائیوں کا ابتدائی نطریہ یہ تھا کہ عورت ہونا گناہ کی اماں اور بدی کی جڑ ہے ، 582 ھ میں کلیسا کی ایک مجلس میں یہ فتوی صادر کیا گیا کہ عورتیں روح نہیں رکھتیں۔ ہندؤوں کے یہاں سب مکرم اور قابل فخر عورت وہی سمجھی جاتی تھی جو شوہر کہ چتا پر جل کر مر جائے   لیکن اسلام نے آتے ہی ان ساری برائیوں کا خاتمہ کر دیا عورت کو عزت کے مقام پر فائز کیا اور بیٹی باپ کے لئے رحمت بھائی کے لئے نعمت  شوہر کے لئے سکون اولاد کیلئے جنت قرار دیا۔

ذات باری نے عورتوں کے حقوق کے متعلق باضابطہ طور پر "سورہ نساء" نازل فرما دیا اس میں عورتوں کے میراث کے متعلق کھل کر بتا دیا اسی طرح عورت کو ایک عزت کا مقام دیا لیکن فرعون وقت بدنام زمانہ ظالم ہند نریندر مودی نے اپنی سیاسی روٹی سیکنے کے لئے بھولی بھالی "مسلم عورتوں "کا سہارا لیکر "تین طلاق کا بہانہ بنا کراسلامی قوانین میں دخل اندازی کی کوشش کی ہے جو مسلمانوں کے دین  میں دست درازی ہے ۔

جس ظالم نے گجرات کی مسلم عورتوں کی عزت نیلام کروائی اور مسلم عورتوں کو زندہ جلا دیا  ننھے ننھے معصوم لڑکیوں کو مادر رحم سے نکال کر خون کی ہولیاں کھیلی آج وہ ظالم یہ کہہ رہا ہے کہ "مسلم بہنوں کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا " آج اس ظالم کو انصاف اور  حقوق نظر آ رہے ہیں تو "ذکیہ جعفری "جیسی کئی مظلومہ انصاف کا  انتظار کر رہی ہے اسے انصاف دے ،مظفر نگر کے مظلومین کو انصاف دے۔ لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ "ظالم ہند "خود جیل کی سلاخوں میں چلا جائے گا۔ اگر انصاف دینا ہے تو گجرات کی "جسودا بین "کو انصاف دو اسکی جوانی جو کسی کے انتظار میں گزری ہے وہ لوٹا دو اور اسکو سہاگن کا حق لوٹا دو ۔

لیکن غور کیا جائے تو اس میں کچھ خامیاں ہماری بھی ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کو عصری تعلیم مغربی تہذیب میں دینا گوارہ کیا اور اسلامی تہذیب کو حقیر سمجھا بروز ہفتہ ۲۳ اکتوبر کو ایک عصری تعلیم یافتہ مجھ سے کہہ رہا ہیکہ میں مودی کی اس مہم میں ساتھ ہوں عورتوں کو حق ملنی چاہئے۔ جب اس ناچیز نے اسے سمجھایا تو وہ پھر دستخطی مہم میں ساتھ دیا۔ ایسے ہزاروں افراد ہوں گے لیکن انہیں سمجھائے گا کون ؟

برباد گلستاں کرنے کو ایک ہی الو کافی تھا 
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

از :محمد ولی اللہ ابن محمد زبیر قاسمی تیسی مدہوبنی 
شریک دورۂ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند
انچارج مجوزہ روزنامہ فاران دہلی 

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک اسمبلی الیکشن طے کرے گا پارلیمانی الیکشن کی سمت؛ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے اِس پار یا اُس پار کی جنگ

کرناٹک میں 12 مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں جس کے لئے پوری ریاست میں انتخابی ماحول گرم ہوچکا ہے، ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ کرناٹک کا الیکشن  ایک سال بعد آنےو الے پارلیمانی انتخابات  کی سمت طے کرے گا اور ملک کی ہوا کا رُخ کس سمت میں ہے، اُسے صاف طور پر ...

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا! ۔۔۔۔۔ از: ندیم احمد انصاری

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔

ہندوستانی فوجی جنرل نے جمہوری لائن آف کنٹرول کو پھلانگ دیا .... تحریر: مولانا محمد برہان الدین قاسمی

ہندوستانی افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے سیاسی جماعتوں پر تبصرہ کر کے ۲۱ فروری، بروز بدھ ملک میں ایک غیر ضروری طوفان برپا کر دیا۔ مولانا بدرالدین اجمل کی نگرانی میں چلنے والی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آسام کی ایک مقبول سیاسی جماعت ہے۔ جنرل بپن راوت نے دعوی کیاہے کہ ...

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...

بابری مسجد، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سید سلمان ندوی : سوشل میڈیا پر وائر ل سید سعادت اللہ حسینی کی ایک تحریر

بابری مسجد ،پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی صاحب وغیرہ سے متعلق جو واقعات گذشتہ چند دنوں میں پیش آئے ان کے بارے میں ہرطرف سے سوالات کی بوچھار ہے۔ ان مسائل پر اپنی گذارشات اختصار کے ساتھ درج کررہاہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی صحیح اور مبنی برعدل و اعتدال ، سوچ کی طرف رہنمائی ...