شانزے لیزے میں خوف وہراس پھیلانے والا مبینہ داعشی

Source: S.O. News Service | Published on 21st April 2017, 5:00 PM | عالمی خبریں |

پیرس،21اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جمعرات کی شام فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک مشہور و مصروف شاہراہ پر قائم تفریحی اور کاروباری مرکز شانزے لیزے میں ہونے والی دہشت گردی کی وارادات کے بعد جس عجلت کے ساتھ ’داعش‘ کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کی گئی اس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ شانزے لیزے میں کلاشنکوف سے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک اور دو کو زخمی کرنے والے ملزم کے بارے میں ابھی تک فرانسیسی پولیس کچھ نہیں بتا پائی کیونکہ حملہ آور خود بھی پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا ہے۔ تاہم داعش کی جانب سے فوری طور پر رد عمل سامنے آیا اور دعویٰ کیا گیا کہ پیرس میں پولیس کی گاڑی پر حملہ اس کے ایک جنگجو نے کیا جس کا نام ’ابو یوسف البلجیکی‘ بتایا گیا۔داعش کی جانب سے تیزی سے سامنے آنے والے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائیٹس کو مانیٹر کرنے والی کارکن اور ’سائیٹ‘ کی ڈائریکٹر نے کہا کہ ’داعش کی جانب سے تازہ اعترافی بیان ماضی میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے مختلف ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعشی جنگجوؤں کے ہاتھوں کسی پولیس اہلکار کا قتل یا پولیس پر حملہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اگر یہ واقعی داعش ہی کی کارروائی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد کو ’آوارہ بھیڑیا‘ نہیں بلکہ داعش کے ریوڑ کا حصہ ہے اور وہ مسلسل داعش کی اعلیٰ کمان سے رابطے میں رہا ہوگا۔
 پیرس حملہ آور کے بارے میں جو معلومات ملی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ حملہ آور کی عمر 39 سال اور پیدائش فرانس کی ہے۔ وہ ماضی میں فرانسیسی پولیس کی حراست میں رہ چکا ہے۔ تاہم اس وقت بالیقین نہیں کہا جاسکتا کہ آیا حملہ اور وہی ابو یوسف البلجیکی ہے جو فرانسیسی پولیس کی تحویل میں رہا ہے یا کوئی اور ہے۔فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ اور بیلجین سے ریل گاڑی کے ذریعے پیرس پہنچا۔ بیلجین حکام نے فرانس کو ایک مشتبہ دہشت گرد کے بارے میں متنبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ممکنہ طور پر ایک دہشت گرد فرانس میں داخل ہوا ہے۔فرانسیسی پراسیکیوٹر جنرل فرانسو مولان نے کہا ہے کہ شانزے لیزے میں پولیس گاڑی پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کی شناخت کرلی گئی ہے تاہم فی الحال اس کی تفصیلات جاری نہیں کی جاسکتیں۔مسٹر مولان کا کہنا تھا کہ پیرس میں حملہ کرنے والا دہشت گرد مشہور ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی کیونکہ پولیس ابھی اس کے بارے میں تفتیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ آیا حملہ آور کے مزید ساتھی بھی علاقے میں موجود ہیں یا نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ترکی میں وکیپیڈیا کی بندش کی وجہ سامنے آ گئی

آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکیپیڈیا کو ترکی میں بند اس لیے کیا گیا کیونکہ اس کی ویب سائٹ پر موجود کچھ مواد میں یہ الزام عائدکیاگیاہے کہ ترکی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔

اوول آفس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سو دن:کیا کھویا، کیا پایا؟

ڈونلڈٹرمپ نے امریکی صدر کے طور پر اپنے پہلے ایک سو روز مکمل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ریاست پنسلوینیا میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ اور سابق صدر باراک اوباما پر تنقید کی اور اپنے اقدامات کو سراہا۔

چین کی انتہاپسندی جاری: ’محمد‘ نام پر پابندی

چینی حکام نے مسلمان اکثریتی مغربی ریاست ’مشرقی ترکستان‘ یعنی سنکیانگ میں انتہا پسندی سے نمٹنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے اور ریاست بھر میں نوموجود بچوں کینام ’محمد‘ اور ’جہاد‘ رکھنے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک ...

سیناء: مصری قبیلے نے داعشی کمانڈر کو زندہ جلا ڈالا

مصر میں سیناء کے قبائل نے دھمکی دی ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے عناصر کے تعاقب اور ان کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ سیناء کا علاقہ شدت پسندوں سے پاک ہو جائے۔اس دوران الترابین قبیلے کی جانب سے ایک وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں قبیلے کے افراد نے داعش کے ایک کمانڈر کو ...