پاکستان کو ’کلین چٹ‘ دینے پر چدمبرم برہم؛ پوچھا کہ کیا پٹھان کوٹ اور اُری ہندوستان میں نہیں ہیں ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th January 2019, 6:32 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 14/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس  کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کے اُن دعووں کی بخیا ادھیڑ دی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سال 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا۔ سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے   کانگریس لیڈر  پی چدمبرم نے ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’کیا وہ 2016 میں پٹھان کوٹ اور اُری میں ہوئے حملوں میں پاکستان کو کلین چٹ دے رہی ہیں؟‘‘ سابق مرکزی وزیر مالیات پی چدمبرم نے مزید لکھا ہے کہ ’’وزیر دفاع نے لکھا ہے کہ 2014 کے بعد سے پاکستان نے کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں کیا ہے؟ کیا وزیر دفاع ہندوستان کا نقشہ اٹھا کر بتا سکتی ہیں کہ پٹھان کوٹ اور اُری کہاں ہیں؟‘‘

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے قومی اجلاس کے دوسرے دن یعنی ہفتہ کے روز سیتارمن نے دعویٰ کیا تھا کہ 2014 کے بعد سے کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’ملک میں تباہی مچانے کی سبھی کوششوں کو سرحد پر ہی ختم کر دیا گیا ہے اور اس حکومت نے یقینی بنایا ہے  کہ دہشت گردوں کو امن ختم کرنے کا کوئی موقع نہ دیا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ پٹھان کوٹ فضائیہ اڈہ پر حملہ 2 جنوری 2016 کو ہوا تھا۔ اس معاملے میں 7 جوان ہلاک ہوگئے   تھے۔ وہیں اُری حملہ بھی اسی سال 18 ستمبر کو  ہوا تھا جب بھاری اسلحوں سے لیس چار دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے شہر میں ہندوستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،