عراق میں ’سائرون‘ کی قیادت میں سب سے بڑا پارلیمانی اتحاد تشکیل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 4th September 2018, 12:45 PM | عالمی خبریں |

بغداد 4ستمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے طویل جوڑ توڑ کے بعد ’سائرون‘ گروپ کی قیادت میں ایک نیا پارلیمانی اتحاد قائم کیا گیا ہے۔ عراق کے سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق نئے پارلیمانی اتحاد میں شامل ہونیوالے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 177 ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ’سائرون‘ کی قیادت میں تشکیل پانے والے پارلیمانی اتحاد میں الحکمہ والنصر، الوطنیہ، القرار، ترکمانی اتحاد، بیارق الخیر، مسیحی اور صبائی پارلیمانی جماعتیں شامل ہیں۔ ان کے مجموعی ارکان پالیمنٹ کی تعداد 177 ہے۔ پارلیمانی اتحاد کی تشکیل کے بعد معاہدے کی ایک نقل میڈیا کو جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عراق میں پارلیمانی اتحاد کا اعلان اتوار کی شام کیا گیا جس میں 16 منتخب پارلیمانی دھڑوں کے 177 ارکان شامل ہیں ۔

قبل ازیں نئے پارلیمانی اتحاد کی طرف سے ایک غیر رسمی بیان جاری کیا گیا تھا جس پر اتحاد میں شامل ہونے والے تمام گروپوں کے رہ نماؤں کے دستخط ثبت نہیں تھے۔ شیعہ مذہبی رہ نما مقتدیٰ الصدر اور وزیراعظم حیدر العبادی کی جماعت پر مشتمل یہ سب سے بڑا پارلیمانی اتحاد ہے۔ خیال رہے کہ عراق میں مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے مختلف پارلیمانی جماعتوں کیدرمیان اتحاد کی تشکیل پر بات چیت چلتی رہی ہے تاہم اس میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث حکومت سازی کاعمل تعطل کا شکار رہا ہے۔ نئے وجود میں آنے والے پارلیمانی اتحاد میں مقتدیٰ الصدر کا سائرون، حیدر العبادی کا ’النصر الائنس‘عمار الحکیم کا الحکمہ،نائب صدر ایاد علاوی کا نیشنل الائنس، بدر ھادی العامری کا فتح الائنس اور سابق وزیراعظم نوری المالکی کا ’دول? القانون ‘ سمیت کئی دوسرے گروپ شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکی رپورٹ کا خلاصہ؛ ہندوستان کی حکومت مسلم مخالف ! مسلم اداروں کے خلاف اقدامات؛ بی جے پی قائدین کی اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ جاری؛ شہروں کے مسلم نام بدلنے کا بھی حوالہ

مذہبی آزادی سے متعلق  امریکہ کے اسٹیٹ  ڈپارٹمنٹ کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان میں ہجومی تشدد، تبدیلی مذہب کی صورتحال، اقلیتوں کے قانونی موقف اور سرکاری پالیسیوں کا احاطہ کیا گیا  ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ  ہندوستان میں سال 2018 کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے ...

امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی دھماکہ خیز ،خطے میں جنگ کا خطرہ،ہندوستان سمیت مختلف ممالک نے کیاہرمز سے پروازوں کا ر استہ تبدیل، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

گزشتہ چنددنوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب ایران نے امریکہ کے ڈرون کو مارگرایا۔

امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو دھمکی روس سے ڈیل کی صورت میں دفاعی امداد محدود ہوجائے گی

امریکہ کی وزارت خارجہ کی افسر ایلس جی ویلس نے جمعہ کو کہا کہ ان کا ملک ہندوستان کی دفاعی ضروریات پورا کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن روسی ایس-400 نظام اس میں رکاوٹ بن رہا ہے- ہندوستان-روس ڈیل سے امریکہ کا تعاون محدود کردیا جائے گا -