عراق: الحشد الشعبی ملیشیا کے رہ نما کی امریکی فوج کو دھمکی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2018, 8:54 PM | عالمی خبریں |

بغداد 12فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )عراق میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے رہ نما قیس الخزعلی نے عراق میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایک قبائلی کانفرنس کے دوران الخزعلی نے باور کرایا کہ وہ داعش تنظیم پر قابو پانے کے بعد عراق میں امریکی عسکری وجود کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہو گا۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی رواں ماہ کے اوائل میں اس امر کی تصدیق کر چکے ہیں کہ عراق میں بین الاقوامی اتحاد کی فوج کی تعداد میں بتدریج کمی کے لیے حکومتی منصوبہ موجود ہے۔ تاہم العبادی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق کو ابھی مذکورہ اتحاد کی فضائی کوششوں کی ضرورت ہے۔ادھر عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے بتایا کہ عراقی حکام کی جانب سے داعش تنظیم کے خلاف "فتح" کے اعلان کے بعد امریکی فوج نے عراق میں اپنی تعداد میں کمی کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ داعش کے خلاف معرکہ اختتام پذیر ہو چکا ہے جس کے بعد امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔ الحدیثی نے واضح کیا کہ "یہ انخلاء ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں اور یقیناًاس مرحلے میں حتمی انخلاء کے آغاز پر غور نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب دوسری جانب داعش تنظیم کے خلاف برسر پیکار اتحادی افواج کی کمان نے اعلان کیا تھا کہ اْس نے عراق میں اپنی کارروائیوں کا مشن تبدیل کر دیا ہے اور "اس سلسلے میں اب تمام تر توجہ جنگی کارروائیوں میں معاونت سے ہٹ کر داعش تنظیم کے خلاف عسکری فتح کو پختہ کرنے پر دی جائے گی"۔اتحاد کی جانب سے جاری سرکاری بیان کی کاپی العربیہ کو موصول ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ موصل کی فتح نے داعش کے خلاف اگلی کامیابیوں کو تیز کر دیا اور تنظیم اپنے قبضے میں موجود اراضی کے 98 فی صد حصّے سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ تاہم بیان میں خبردار کیا گیا کہ داعش تنظیم ممکنہ طور پر "بغاوت" کی کارروائیوں کی طرف جا سکتی ہے اور وہ اب بھی قتل کی کارروائیاں کرنے کی قدرت رکھنے کے سبب شہریوں اور امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران میں رواں سال تین کم سن بچوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا:یو این

ایران میں کم عمر افراد کو سزائے موت دیے جانے اور ان سزاؤں پر عمل درآمد میں ماضی کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال 2018 کے پہلے ڈیرھ ماہ میں ایران میں تین کم عمر افراد کو پھانسی دے کر موت سے ہم کنار کردیا گیا۔