سابق ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی انتقال کر گئے،3 روزہ قومی سوگ کا اعلان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th January 2017, 12:08 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

تہران،9؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کے سابق صدر اور ملک کی نامور سیاسی شخصیت علی اکبر ہاشمی رفسنجانی 82برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔اتوار کو تہران کے ہسپتال میں علی اکبر رفسنجانی کو لایا گیا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔ایران کی حکومت نے اُن کے انتقال پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور سابق صدر کی آخری رسومات تہران میں منگل کو ادا کی جائیں گی۔ اس موقع پر عام تعطیل ہو گی۔

سابق صدر ہاشم رفسنجانی سن 1934میں جنوب مشرقی ایران میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔وہ ایران میں سن 1989سے 1997تک صدارت کے عہدے پر فائز رہے تھے تاہم سن 2005میں انھیں محمود احمدی نژاد سے شکست ہوئی تھی۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے علی اکبر رفسنجانی سے اختلافات کے باوجود اُن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشکل اور ناقابلِ برداشت قرار دیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے علی اکبر رفسنجانی کو جد و جہد کا ساتھی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات اتنے طویل عرصے میں مختلف آرا اور اُن کے اظہار سے بھی دوستی ختم نہیں ہوئی۔

ہاشمی رفسنجانی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ تھے جس کا کام پالیمان اور شوریٰ نگہبان کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔اصلاح پسند بن جانے والے انقلابی رہنما رفسنجانی ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک ایسے رہنما ہیں، جنھوں نے مسلسل آٹھ برس تک عراق کی جانب شروع کی جانے والی جنگ کو ختم کروانے کے بعد ملک میں از سر نو تعمیری پروگرام شروع کیا۔انھیں سال 2013میں ملک کے 12ارکان پر مشتمل آئینی ادارے شورء نگہبان نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہ دیتے ہوئے نااہل قرار دے دیا تھا۔جس کے بعد انھوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے اصلاح پسند امیدوار حسن روحانی کی حمایت کا اعلان کیا۔سن 2005کی انتخابی شکست کے بعد ہاشمی رفسنجانی صدر کے سخت ترین ناقد بن گئے تھے۔

سن 2009کے انتخابات میں انھوں نے اصلاح پسندوں کا ساتھ دیا تھا تاہم ان انتخابات میں بھی سخت گیر احمدی نژاد دوسری بار صدر بنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔حسن روحانی اور ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ اُن دونوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔سابق ایرانی صدر کے انتقال کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران کے ہسپتال میں کا دورہ بھی کیا۔سابق صدر رفسنجانی کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جو سیاسی قیدیوں کی آزادی اور آئین کے اندر رہ کر کام کرنے والی سیاسی جماعتوں کو مزید آزادی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ہاشمی رفسنجانی کے بچے میں خبروں میں کافی نمایاں رہے۔ اُن کی بیٹی فیضی ہاشمی نے گذشتہ برس بہائی مذہبی اقلیت کے رہنما سے ملاقات کی۔ جنھیں گذشتہ سال ایران کی قیادت نے ملحد قرار دیا ہے۔اُن کے بیٹے مہدی حسن رفسنجانی کو سن 2015میں مالیاتی جرائم کی وجہ سے قید کی سزا سنائی گئی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپالٹی عمارت پر پتھراؤ اور توڑپھوڑ کے معاملے میں مزید 2گرفتار : گرفتاریوں کی تعداد بڑھ کر اب 9

بھٹکل میونسپالٹی عمارت پر ہوئے پتھراؤ اور توڑپھوڑ کے معاملے میں پولس نے مزید دو لوگوں کو گرفتارکرلیا ہے، جس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں گرفتارشدگان کی تعداد اب 9ہوگئی ہے۔

بھٹکل میونسپالٹی عمارت پرپتھراؤ اور پولس عملے پر حملہ وغیرہ معاملات کو لے کر عوام کے درمیان چل رہی ہیں چہ میگوئیاں؛ کیا سوچتے ہیں عوام ؟

جمعرات کو بلدیہ دفتر پر ہوئے پتھراؤ،ملازمین پر حملہ ، پولس کی طرف سے دائر کردہ مقدمات، اس کے بعد ملزمان کی گرفتاری جیسے معاملات کو لے کر ایک نئی بحث کا آغاز ہوتا دکھائی دے رہاہے۔ اس سلسلے میں مخالف ،موافق سطح پر ثبوت ، دلائل وغیرہ باتوں کو راہ دے رہی ہے۔

عدم تحفظ کا شکار بھٹکل میونسپالٹی ملازمین کا اسسٹنٹ کمشنر سے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ؛ چیف آفیسر ہنوز لاپتہ

جمعرات کو میونسپالٹی عمارت پر پتھراؤ کے 4دن مکمل ہوگئے ہیں مگر میونسپالٹی کے ملازمین اب  بھی کام کرنے میں خوف محسوس کررہے ہیں ۔ انہوں نے آج پیر کو بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مناسب حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔