ایران اقتصادی طور پر چاروں شانے چِت ہو سکتا ہے: ماہرین

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 8th October 2018, 8:30 PM | عالمی خبریں |

تہران 8اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ) ایران میں معاشیات کے 50 ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے ایرانی معیشت کے ڈھیر ہو جانے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی نظام کی قیادت کو متنبہ کیا جائے کہ صورت حال ان کے تصور سے زیادہ خراب اور خطر ناک ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں کے مطابق مذکورہ ماہرین معاشیات نے ایک کھلے خط میں باور کرایا ہے کہ مقامی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ نے جو تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں ان کی نظیر گزشتہ 75 برسوں میں نہیں ملتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ملک میں افراطِ زر کی اعلی ترین شرح کی صورت میں سامنے آئے گا۔خط میں کہا گیا ہے کہ خطرے کی گھنٹی بجائی جا رہی ہے.. حالات تصور سے زیادہ خطرناک اور دشوار ہیں کیوں کہ چوتھی بار کرنسی کے قدر میں شدید کمی کے اثرات نے ہر چیز کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کرنسی کے نرخوں میں گراوٹ کے مسئلے کے ساتھ غلط طریقے سے نمٹا گیا اور یہ افراطِ زر میں 60% سے زیادہ اضافے کا سبب بنا۔حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر ایرانی ریال کے مقابل امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔ ایک ڈالر 1.2 اور 1.3 لاکھ ایرانی ریال سے بڑھ کر 2 لاکھ ریال تک پہنچ گیا۔ (ایک ریال 10 تومان کے برابر ہوتا ہے)۔اگرچہ حکومت کی جانب سے ایرانی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر پر روک لگانے کے لیے اقدامات کیے گئے تاہم اس کے باوجود قابل ذکر بہتری نہ آ سکی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی ایک ڈالر 1.4 سے 1.5 لاکھ ایرانی ریال کے مساوی چل رہا ہے۔ماہرین معاشیات کی جانب افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور ایرانی معیشت کے ڈھیر ہو جانے کے حوالے سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ میں بنیاد پرست ارکان وزراء کی اکثریت سے پوچھ گچھ اور ان پر عدم اعتماد ظاہر کر کے صدر حسن روحانی کی حکومت کو گھر بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...