بابری مسجد کیس: وسیم رضوی کی سمجھوتہ کی تجویز ناقابل قبول : اقبال انصاری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th November 2017, 11:41 AM | ملکی خبریں |

اجودھیا، 13/نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بابری مسجد کے مدعی مرحوم حاجی محمد ہاشم انصاری کے جانشین محمد اقبال نے شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی کے بابری مسجد۔ رام مندر معاملے میں سمجھوتہ کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا۔بابری مسجد کے مدعی محمد اقبال نے آج یہاں یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی شیعہ اور سنی فرقہ کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لئے مندر مسجد تنازع کے حل کے لئے تجویز پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی دیکھ بھال سنی فرقہ کے لوگوں نے کی ہے۔ یہاں نمازیں بھی ادا کی ہیں۔

مسٹر اقبال نے کہا کہ وسیم رضوی سیاست کررہے ہیں۔ اپنی کرسی کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں جب معاملہ پہونچا ہے تو اچانک شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر بیچ میں کود پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آخر ان لوگوں نے شروع سے کیس میں پیروی کیوں نہیں کی۔ چونکہ وسیم رضوی کے خلاف کئی الزامات ہیں اور یوگی آدتیہ ناتھ حکومت ان کے خلاف انکوائری کراسکتی ہے اس لئے انہوں نے ریاست کی موجودہ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اجودھیا کا چکر لگانا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی نے انہیں کل شام بلایا تھا اور معاہدہ کی تجویز پر دستخط کرنے کی بات کہی تھی۔مسٹر اقبال نے کہا کہ مسلمانوں کو اجودھیا کے سادھوسنتوں اور مسلم مذہبی رہنماوں پر پورا بھروسہ ہے۔


وسیم رضوی کی مہنت نریندر گری سے ملاقات: دریں اثنا آج بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے صدر مہنت نریندر گری اور شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی کے درمیان الہ آباد میں تقریباً آدھے گھنٹے تک بند کمرے میں بات چیت ہوئی۔ جس کے بعد دونوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر اسی جگہ پرجہاں بابری مسجد تھی کرنے کے سلسلے میں کوئی تناز ع نہیں رہ گیا ہے۔ مندر کی تعمیر کا کام جلد ہی شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ میٹنگ میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ مسجد کی تعمیر اجودھیا اور فیض آباد کی سرحد سے باہر کسی مسلم آبادی میں کی جائے گی۔

مہنت گری نے مزید کہا کہ بابری مسجد کے نام پر ملک میں کہیں بھی کسی مسجد کی تعمیر نہیں کی جائے گی۔ کسی دیگر نام سے مسجد کی تعمیر میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔مسٹر رضوی نے کہا کہ دو چار دن میں متفقہ معاہدہ نامہ سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد عدالت کے فیصلہ کے ساتھ ہی مندر کی تعمیر میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں آئے گی۔انہوں نے دعوی کیا کہ بابری مسجد شیعہ مسجد ہے اور اس معاملے میں سنی فرقہ کے لوگوں کا مندر کی تعمیر کے سلسلے میں مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

مسٹر رضوی نے کہا کہ اگر سنی فرقہ کے نمائندہ چاہیں تو مندر کی تعمیر کے سلسلے میں مثبت خیالات کے ساتھ ہماری میٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے کہا کہ اجودھیا میں مندروں کے درمیان کسی طرح کی مسجد کی تعمیر کی بات کرنا بے معنی ہے۔ ایسا کرنے سے ہماری آنے والی نسلوں کے لئے یہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مندر اپنے مقرر ہ جگہ پر ہی ہونا چاہئے۔ مسجد کی تعمیر اجودھیا اور فیض آباد کی سرحد سے باہر کسی مسلم آبادی میں ہو۔

مسٹر رضوی نے دعوی کیا کہ مندر کی تعمیر کو قومی مفاد میں ہم لوگوں نے تقریباً حل کرلیا ہے اور اس مسئلے کو مزید طول دینا درست نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر میر باقی نے کرائی تھی اور وہ شیعہ تھے اور 1528سے لے کر 1944تک صرف شیعہ ایڈمنسٹریشن رہا ہے او رآخری متولی بھی شیعہ تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

مرکزی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لئے ٹی ڈی پی غیربی جے پی جماعتوں کے رابطے میں

آندھراپردیش کو خصوصی درجہ نہیں دےئے جانے اور دیگر مطالبات کو پورا نہیں کرنے سے ناخوش تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے آئندہ مانسون اجلاس میں مرکزی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے معاملہ میں غیربی جے پی اور غیرکانگریسی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کیلئے رابطہ کرنا ...

ائیر ہوسٹس انیشیا بترا کی موت : دو سال پہلے ہوئی تھی شادی ، اکثر ہوتی تھی شوہر سے لڑائی

ہلی کے حوض خاص علاقہ میں 39 سالہ ایئر ہوسٹس انیشیا بترا کی موت کے معاملہ میں اس کے بھائی کرن بترا نے اپنے بہنوئی مینک پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ اس نے کہا کہ مینک اس کی بہن کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا اور اس کا استحصال کرتا تھا۔ انیشیا کے فیس بک پیج کے مطابق دونوں کی شادی فروری 2016 ...

اترپردیش میں بیٹی پیدا ہونے پر ناراض شوہر نے بیوی کو دیا تین طلاق

یم کورٹ کے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دینے کے باوجود تین طلاق کے معاملات رک نہیں رہے ہیں۔ تازہ ترین معاملہ اتر پردیش کے شاملی کا ہے جہاں ایک مسلم عورت کو اس کے شوہر نے صرف اس وجہ سے تین طلاق دے دی کیونکہ اس نے بیٹی کو جنم دیا تھا۔