گاڑیوں کی آمد ورفت پرنظر رکھنے کے لئے بھٹکل سمیت دیگرچیک پوسٹس پر نمبر پلیٹ پڑھنے والے خصوصی کیمروں کی تنصیب

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 11th October 2018, 5:37 PM | ساحلی خبریں |

کاروار10؍اکتوبر(ایس او نیوز) ضلع شمالی کینراکو دوسرے اضلاع سے جوڑنے والی سرحدوں کے چیک پوسٹس پر گاڑیوں کے نمبر پلیٹ پڑھنے اور ان کے فوٹو محفوظ رکھنے والے خصوصی کیمروں کی تنصیب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

ان خصوصی سی سی ٹی وی کیمروں کو آٹو میٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن (اے این پی آر)کیمرا کہا جاتا ہے جو ہر اس کی آنکھ کے دائرے سے گزرنے والی ہر گاڑی کا نمبرخودکار نظام کے تحت پڑھ لیتا ہے اور ا س کی امیج محفوظ کرلیتا ہے۔پہلے مرحلے کے طور پر گوا سے جوڑنے والے ماجالی چیک پوسٹ اور ضلع اڈپی سے جوڑنے والے بھٹکل چیک پوسٹ پر دو دو ایسے کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ان کیمروں کے ذریعے گاڑی کانمبر پڑھنے اورفوٹو قید کرنے کے بعد یہ ڈاٹا کاروار میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر میں لگے ہوئے سسٹم میں محفوظ ہوتا رہے گا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں دیگر اضلاع سے جوڑنے والے تمام تعلقہ جات کے سرحدی ناکوں پر ایسے کیمرے نصب کیے جائیں گے جس کی وجہ سے ضلع شمالی کینرا میں گاڑیوں کی آمد و رفت کی تفصیلات پر نظر رکھنا پولیس کے لئے آسان ہوجائے گا۔ 

ضلع شمالی کینرا کے ایس پی ونائیک پاٹل نے بتایا کہ ضلع کے سرحدی علاقے بہت ہی حساس علاقوں میں شامل ہیں۔اس لئے محکمہ پولیس نے ایسے تمام مقامات پر خودکار اور جدید ترین کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ بنایا گیاہے۔اس سے حادثات ، اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے سلسلے میں گاڑیوں کی شناخت اور تلاش پولیس کے لئے آسان ہوجائے گی۔پہلے مرحلے میں ماجالی اور بھٹکل میں کیمروں کی تنصیب ہوگئی ہے اور دو ایک دن میں یہ کیمرے کام کرنا شروع کردیں گے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں ضلع کے جن داخلی اور خارجی سرحدی ناکوں پرکیمرے نصب کیے جائیں گے ان میں انموڈچیک پوسٹ، بالے گولی کراس، کیروتّی، ہلیال، سرسی اور سداپور وغیرہ شامل ہیں۔

فی الحال پولیس کو سی سی کیمروں کے فوٹیج سے کسی بھی گاڑی کانمبر معلوم کرنے کے لئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ویڈیوفوٹیج کو زوم کرکے گاڑی کا نمبر پلیٹ دیکھنے کی کوشش کرنااور پھر اس کافوٹو لینا پڑتا ہے،جو کبھی کبھی صاف نظر نہ آنے کی وجہ سے مشکلات کا باعث بھی بنتا ہے۔ اب یہ جو جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں،اس کی قیمت فی کیمرا پانچ لاکھ روپے ہے۔ اس میں اے این پی آر والے خود کار نظام کے تحت گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر درج ہوجاتے ہیں۔اور اس کے فوٹو محفوظ ہوجاتے ہیں۔ پولیس کوتحقیق کے لئے صرف گاڑی کے رنگ کا کوڈ داخل کرنا ہوتا ہے اور لمحے بھر میں اس گاڑی کی تمام تفصیلات سسٹم میں ظاہر ہوجاتی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نئے سسٹم سے ساحلی علاقے میں مجرمانہ سرگرمیوں پر روک لگانے میں مدد ملے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی:مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں  ماہر نہال احمد اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیاکرناٹکا  (SIO) کے ریاستی صدر منتخب

گلبرگہ کے ہدایت سنٹر میں منعقدہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کرناٹکا کے اسٹیٹ ایڈوائزی کونسل کی انتخابی  نشست میں  اُڈپی ضلع  سے تعلق رکھنے والے ایس آئی اؤ کے فعال و متحرک ممبر نہا ل احمد کدیور کو ایس آئی اؤ کی اگلی میقات 20196-2020کے لئے ریاستی صدر کی حیثیت سے منتخب ...

بھٹکل میں کنٹیروا فرینڈ س کے زیراہتمام خوبصورت کبڈی ٹورنامنٹ : میزبان ٹیم نے ہی جیتا خطاب

مٹھلی گرام پنچایت حدود والے  تلاند کے کٹے ویرا مہاستی میدان میں کنٹیروا فرینڈس کے زیراہتمام منعقدہ تعلقہ سطح کے 55کلو   کبڈی ٹورنامنٹ میں میزبان  کنٹیرو فرینڈس  نے فائنل  میں مہاستی منونڈو ٹیم کو شکست دیتے ہوئے خطاب جیت لیا ۔

بھٹکل میں 1009آخری رسومات امداد کی عرضیاں  باقی : دوبرسوں سے عوام امداد کے انتظار میں

آخری رسومات منصوبے کے تحت اترکنڑا ضلع کو سال 2018-2019میں 38.10لاکھ روپئے کی امداد منظور کی گئی ہے، تیسری قسط کے طورپر 20.30لاکھ روپئے منظور کئے جارہے ہیں، کل 1009عرضیوں کو معاشی امداد  باقی رہنے کی ریاست کے وزیر تحصیل آر وی دیش پانڈے نے  سرمائی اجلاس کے دوران تحریری جانکاری دی ہے۔

کرناٹکا سے گوا کے لئے  مچھلی سپلائی پابندی میں ڈھیل:چھوٹی سواریوں کے ذریعے مچھلی سپلائی کی اجازت: دیشپانڈے کی کوشش رنگ لائی  

ریاست سے گوا کوچار پہیہ سواری سمیت چھوٹی سواریوں کےذریعے مچھلی   سپلائی پر کوئی پابندی نہیں ہونے کی ریاستی کابینہ کے اسکل ڈیولپمنٹ اور تحصیل وزیر آر وی دیش پانڈے نے جانکاری دی ہے۔

مینگلور میں سابق وزیر پلّم راجو نے کیا ریفائیل معاہدے کے سلسلے میں جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

سابق مرکزی وزیر پلّم راجو نے منگلورو میں میڈیا سے بات چیت کے دوران مطالبہ کیا کہ جنگی ہوائی جہاز ریفائیل کی خریداری میں ہوئی بدعنوانی کے تعلق سے تحقیقات کے لئے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے ۔