کنہیا کمار اور جگنیش میوانی پر پھینکی گئی سیاہی، ملزم گرفتار

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 19th November 2018, 10:06 PM | ملکی خبریں |

گوالیار:19/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جواہر لال نہرو یونیورسٹی، (جے این یو) طالب علم یونین کے سابق صدر اور طالب علم رہنما کنہیا کمار اور گجرات کے ممبر اسمبلی جگنیش میواي پر پیر کو یہاں ایک پروگرام کے دوران ہندو سینا کے ایک کارکن نے سیاہی پھینک دی۔موقع پر تعینات پولیس نے فوری طور پر اس کارکن کو گرفتار کر لیا۔اس دوران تھوڑی دیر کے لئے افراتفری پھیل گئی۔آئین بچاؤ یاترا کے دوران گوالیار میں پیر کو چیمبر آف کامرس کی عمارت میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔اس کی اجازت یاتراکے کنوینر دیواشیش جریریا نے انتظامیہ سے لے رکھی تھی۔ اس سیمینار کے انعقاد کی مخالفت میں ہندوسینا نے ایک دن پہلے اتوار کو پتلا جلا یا تھا۔اس کی وجہ سے پروگرام کے دوران پولیس پہلے سے فعال تھی۔ہندو سینا کے 20 کارکنوں کو پولیس نے پہلے ہی حراست میں لے لیا تھا۔سوماور کو جیسے ہی کنہیا کمار اور جگنیش میوانی دوپہر کے چیمبر آف کامرس عمارت میں پہنچے، ایک نوجوان نے دونوں کے اوپر سیاہی پھینک دی۔سیاہی پھینکنے والے نوجوان کو پولیس نے فوری طور پر گرفتار کر لیا۔اضافی پولیس سپرنٹنڈنٹ ستیندر سنگھ تومر نے بتایا کہ سیاہی پھینکنے والے نوجوان مکیش پال کو گرفتار کیا گیا ہے۔انتظامیہ کے حکم کے مطابق واقعہ کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی گئی ہے۔تومر نے بتایا کہ منتظمین کی جانب کسی قسم کی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔