انڈونیشیا میں زلزلہ: اب بھی 5000 افراد لاپتہ،مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1944

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 9th October 2018, 5:19 PM | عالمی خبریں |

8اکتوبر ﴿ایس او نیوز﴾ انڈونیشیا میں آئے زبردست زلزلے اور سونامی میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1944 ہو گئی جبکہ پانچ ہزار لوگ اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ متاثرین کو تلاش کرنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔عرب نیوز نے ایک مقامی فوجی ترجمان کے حوالہ سے یہ اطلاع دی۔ ریلیف اور راحت رضاکاروں نے پیر کو ’ہوٹل رووا-رووا‘ میں تلاشی مہم کو ختم کردیا۔ گزشتہ 28 ستمبر کو آئے 7.5 شدت والے زلزلہ کے زوردار جھٹکوں اور سونامی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

پالو میں تلاشی اور ریلیف مہم کے فیلڈ ڈائرکٹر بمبانگ سوريو نے کہا، ’’ہوٹل رووا-رووا میں تلاشی مہم ختم ہو گئی ہے کیونکہ ہم نے پورے ہوٹل تلاشی مہم چلائی ہے اور ابھی تک کوئی متاثر نہیں پائے گئے ہیں‘‘۔حکومت نے کہا ہے کہ زلزلہ کی وجہ سے مسطح ہو چکے کچھ علاقوں کو اجتماعی قبر کے طور پر اعلان کیا جائے گا۔ زلزلہ سے متاثر 200,000 لوگوں تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے راحت کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کھانے اور صاف پینے کے پانی کی کم مقدار میں سپلائی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بوئنگ 737 طیاروں کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کی منظوری

 امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کے سافٹ ویئر کو بہتر بنانے اور پائلٹوں کی تربیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رپورٹ مقامی میڈیا نے دی ہے۔ دو بڑے حادثوں کے بعد کئی ممالک نے ان طیاروں کی پرواز پر روک لگا دی ہے۔

مفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملہ شرمناک، دہشت گردی انتہائی مذم عمل اوربزدلانہ حرکت 

پاکستان کے معروف عالم دین اور نامور محقق مولانا مفتی تقی عثمانی پر ہوئے قاتلانہ حملہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے معروف دانشور ڈاکٹر محمد منظورعالم نے کہاکہ یہ حملہ دہشت گردی اور بزدلانہ حرکت ہے جس کی کسی بھی سماج میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروئی ضروری ہے ...

اﷲ اکبراﷲ اکبرکی صداؤں سے گونج اٹھا نیوزی لینڈ حملے کے بعد پہلی نمازجمعہ کی ادائیگی ۔اجتماع میں وزیراعظم سمیت بڑی تعداد میں غیرمسلموں کی بھی شرکت

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر گزشتہ جمعہ ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی جانب سے خوفزدہ اور افسردہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی نے انسانیت میں انقلاب برپاکردیا ہے۔