انڈین مجاہدین بم دھماکہ معاملہ چار ماہ میں مکمل کیئے جانے کا استغاثہ نےکیا دعویٰ ؛ ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر فیصلہ چار ماہ بعد ہوگا: گلزار اعظمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th August 2018, 12:09 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،8؍اگست (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) انڈین مجاہدین (گجرات ) مقدمہ میں ماخوذ گذشتہ ۹؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیددو مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران وکیل استغاثہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا منندر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ اگلے چار ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلی جائے گی لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہئے۔

وکیل استغاثہ کے بیان کو اپنے ریکارڈ پر لیتے ہوئے دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سکری اورجسٹس اشوک بھوشن نے جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ و سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال کو کہا کہ وہ ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر سماعت چار ماہ بعد کریں گے کیونکہ وکیل استغاثہ نے ٹرائل چار ماہ میں مکمل کیئے جانے کا دعو ی کیا ہے ۔

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے مطابق ملزمین عتیق الرحمن عبدالحکیم خلجی اورعمران احمد سراج احمد (کوٹا راجستھان) کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پرآج سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کے سامنے سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ امریندر شر ن نے عدالت کو مزید بتایا کہ 19؍ جولائی 2017ء کو گجرات ہائی کورٹ نے ملزمین کی ضمانت یہ کہتے ہو ئے مسترد کردی تھی کہ معاملے کی سماعت جاری ہے اور ایسے موقع پر ملزمین کو ضمانت پر نہیں رہا کیا جاسکتا ، جبکہ اس معاملے میں استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی کے لیئے 2800 گواہوں کو نامز د کیا جس میں سے ابتک 1000 گواہوں کی گواہی عمل میں آئی ہے اور معاملے کی سماعت اسی رفتار سے چلتی رہی تو اگلی ایک دہائی میں بھی یہ مقدمہ ختم نہیں ہوگا لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔ 

گلزار اعظمی نے کہا کہ حالانکہ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا منندر سنگھ نے معاملے کی سماعت چار ماہ میں مکمل کیئے جانے کا دعوی کیا ہے لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ چار ماہ میں استغاثہ کیسے معاملے کی سماعت مکمل کرتاہے ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ چار ماہ کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اگر معاملے کی سماعت مکمل نہیں کی گئی نیز یہ خوش آئندبات ہیکہ سپریم کورٹ نے ضمانت عرضداشت کو خارج نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے استغاثہ پر جلد از جلد ٹرائل ختم کرنے کا دباؤ بنا رہے گا ۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں ملک کے مختلف شہروں سے گرفتار80؍ اعلی تعلیم یافتہ ملزمین میں سے66؍ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء کررہی ہے ۔ 

گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ کے دفاعی وکلاء ایڈوکیٹ ایل آر پٹھان، ایڈوکیٹ ایم ایم شیخ، ایڈوکیٹ این اے علوی، ایڈوکیٹ جے ایم پٹھان ، ایڈوکیٹ الطاف شیخ اور ایڈوکیٹ خالد شیخ پر مشتمل ایک ٹیم عدالت میں ملزمین کے مقدمات کی پیروی کے لیئے مقرر کی گئی جو ملزمین پر قائم جھوٹے مقدمات کا دفاع کرنے میں مصروف ہے وہیں حسب ضرورت ملزمین کی سیشن عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک ضمانت عرضداشتیں بھی داخل کی جارہی ہیں ۔ 

ایک نظر اس پر بھی