15دن، 250چھاپے اور 540کروڑ کا کی بلیک منی برآمد

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 20th April 2017, 10:56 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 19؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )مودی حکومت کے نوٹ بند ی کے فیصلے کے بعد بلیک منی کے خلاف چل رہی مہم کا کچھ اثر ہوتا نظر آرہا ہے۔وزیر اعظم غریب فلاح و بہبود اسکیم (پی ایم جی کے وائی )کے 31؍مارچ کو بند ہونے کے بعد محکمہ انکم ٹیکس نے اس کے اگلے 15دنوں کے دوران ملکی سطح پر ٹیکس چوری روکنے کی مہم کے تحت 540کروڑ روپے کی بلیک منی کا سراغ لگایا ہے۔حکام نے بتایا کہ ٹیکس حکام نے نئے مالی سال کے آغاز یعنی یکم اپریل سے انٹری آپریٹروں ، ماسک کمپنیوں، سرکاری حکام، ریئل اسٹیٹ کھلاڑیوں اور دیگر علاقوں کے خلاف کئی چھاپہ ماری اور سروے کی کارروائی ہے۔محکمہ کی طرف سے 15؍اپریل تک جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ،محکمہ نے اس دوران 250چھاپہ ماری اور سروے کی کارروائی کی، اس دوران ٹیکس حکام نے کم از کم 300مکھوٹا کمپنیوں پر چھاپہ ماری کر کے 540کروڑ روپے سے زیادہ کی بلیک منی کا پتہ لگایاہے ۔غور طلب ہے کہ ملک میں غیر اعلانیہ دولت کا اعلان کرنے والی اسکیم 31؍مارچ کو ختم ہو چکی ہے۔انکم ٹیکس محکمہ نوٹ بند ی کے بعد سے مسلسل وارننگ دے رہا تھا کہ اگر وقت رہتے ہوئے لوگ وزیر اعظم غریب فلاح و بہبود اسکیم کے تحت اپنی بلیک منی کا اعلان نہیں کرتے ہیں ، تو پکڑے جانے پر بھاری جرمانہ وصول کیا جائے گا۔خزانہ بل 2017کے ذریعے کی گئی تبدیلی سے انکم ٹیکس ایکٹ میں یکم اپریل 2017سے نئے قوانین لاگو ہوں گے۔اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی ٹیکس دہندہ کے 2007تک کے اکاؤنٹ بکس کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔دراصل یہ تبدیلی ٹیکس میں بے ضابطگی کو جانچنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔محکمہ انکم ٹیکس نے اس اسکیم کے تحت کئے گئے اعلانات کو مکمل طورپر خفیہ رکھنے اور متعلقہ قوانین (گمنام قانون وغیرہ)سے حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔پی ایم جی کے وائی کے تحت نامعلوم آمدنی کا 25فیصد لازمی طور پر جمع کیا جائے گا، جمع رقم سود سے پاک ہوگی اور چار سال کی لاک ان مدت کے بعد ہی استعمال کی جا سکے گی۔انکم ٹیکس محکمہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس آپ کے تمام ڈپازٹ کی مکمل معلومات پہلے سے دستیاب ہے۔بلیک منی رکھنے والوں کو اس کی دی گئی چھوٹ کی مدت اب سے کچھ گھنٹوں میں ختم ہو جائے گی، لہذا جنہوں نے ان چند گھنٹوں میں اپنی بلیک منی کی اطلاع نہیں مہیا کرائی ہے، ان کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی