پاکستان میں نوعمر مجرموں کے لیے نیاقانون ؛اب بچوں کے جرائم کے ہوں گے تین درجے

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 22nd September 2018, 11:50 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

اسلام آ باد22ستمبر ( آئی این ایس انڈیا؍ ایس او نیوز)  پاکستان کی مختلف جیلوں میں ہزاروں ایسے بچے اور نوعمر افراد مختلف سزائیں کاٹ رہے ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے یا جس وقت ان سے کوئی جرم سر زد ہوا تھا تو وہ 18 سال کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔

دنیا بھر میں ایسے بچوں کو سزا دیتے وقت نرمی برتی جاتی ہے اور ان کو حراست یا قید میں رکھنے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کے ضابطے اور قوانین بالغ افراد کی نسبت نرم ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس ضمن میں صورت حال کچھ مختلف ہے۔ تاہم ایک نیا قانون ایسے بچوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر مجرم بچوں سے متعلق جووینائل جسٹس ایکٹ 2018 نامی یہ نیا قانون اس سال نافذ ہو چکا ہے جس کے تحت دس سال سے کم عمر کا بچہ کوئی بھی جرم کرے تو وہ جرم تصور نہیں ہو گا اور دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے جرائم کا فیصلہ اس نئے قانون کے تحت کیا جائے گا۔اس قانون کی تشکیل کے تمام مراحل میں شامل اور جووینائل جسٹس ایکٹ 2018 کو ڈرافٹ کرنے والے منسٹری آف لا اینڈ جسٹس اور منسٹری آف ہیومن رائٹس کے سابق قانونی مشیر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے اٹارنی شرافت علی چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس قانون کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کی تشکیل سے پہلے امریکہ سمیت دنیا بھر کے کئی ملکوں کے متعلقہ قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ایک جامع قانون بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت بچوں کے جرائم کے تین درجے بنائے گئے۔ چھوٹے جرائم انہیں کہا گیا جن کی سزا تین سال سے کم ہے۔ بڑے جرائم وہ ہیں جن کی سزا سات سال ہے اور سنگین جرائم انہیں قرار دیا گیا جن کی سزا سات سال سے زیادہ ہے۔شرافت چوہدری نے بتایا کہ اس قانون کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو بالغوں کی جیل میں نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں بحالی اور اصلاح کے مراکز ’ جووینائل ری ہیب سینٹرز ‘میں رکھا جائے گا جس دوران ان کی تعلیم کو بھی جاری رکھا جائے گا اور انہیں اپنی عمر کے مطابق پیشہ ورانہ ہنر بھی سکھائے جائیں گے۔ اور قانون یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ ان کی ذہنی اخلاقی اور نفسیاتی تربیت اور ترقی کا بھی خیال رکھا جائے۔

ضمانت پر رہائی کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے شرافت علی چوہدری نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ قانون نافذ ہو جائے گا تو 95 فیصد سے زیادہ بچے جیلوں میں جائیں گے ہی نہیں۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت جرم کا مرتکب بچہ یا اس کے والدین یا اس کا کوئی بھی عزیز   پولیس کے سامنے جوں ہی یہ دعویٰ کریں گے کہ اس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے تو پولیس اس کی تفتیش نہیں کرے گی بلکہ ایک مخصوص کمیٹی اس کا معاملہ دیکھے گی اور اگر اس نے سنگین جرم نہیں کیا تو ایک ماہ کے اندر اندر اس کی رہائی کا فیصلہ کرے گی۔

نئے قانون میں عمر کے تعین کے طریقے پر روشنی ڈالتے ہوئے ہائی کورٹ اسلام آباد کے اٹارنی شرافت علی چوہدری نے کہا کہ پرانے قانون میں جج کو بچے کے پیدائشی سرٹیفکیٹ یا متعلقہ دستاویز کو منظور یا مسترد کرنے کا کلی اختیار حاصل تھا، لیکن اس نئے قانون کے تحت اب اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت بچے کی پیدائش سے متعلق جو بھی دستاویز پیش کی جائے گی اسے قبول کیا جائے گا لیکن اس کی عمر کے حتمی تعین کے لیے اس کا میڈیکل ٹسٹ ضروری ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیدائش کی دستاویزی شہادت کے طور پر پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کا کوئی سرٹیفکیٹ یا کسی بھی ڈاکٹر کی جانب سے ماضی میں کسی بھی وقت کیے گئے علاج کے دوران کلینک یا اسپتال کے ریکارڈ میں درج کی گئی اس کی عمر کی دستاویز یا حتیٰ کہ والدین یا کسی بھی عزیز کی کسی پرانی ڈائری میں درج اس کی عمر کا ریکارڈ بھی قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن اس کی عمر کے حتمی تعین کے لیے بہر طور اس کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی ہو گا۔ شرافت علی کا کہنا تھا کہ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں یہ امکان کم ہو جائے گا کہ بچے کو اس کی عمر کے مطابق سزا یا رہائی نہیں دی گئی۔

جووینائل جسٹس پاکستان کی مختلف جیلوں میں ہزاروں ایسے بچے اور نوعمر افراد مختلف سزائیں کاٹ رہے ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے یا جس وقت ان سے کوئی جرم سر زد ہوا تھا تو وہ 18 سال کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔دنیا بھر میں ایسے بچوں کو سزا دیتے وقت نرمی برتی جاتی ہے اور ان کو حراست یا قید میں رکھنے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کے ضابطے اور قوانین بالغ افراد کی نسبت نرم ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس ضمن میں صورت حال کچھ مختلف ہے۔ تاہم ایک نیا قانون ایسے بچوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر مجرم بچوں سے متعلق جووینائل جسٹس ایکٹ 2018 نامی یہ نیا قانون اس سال نافذ ہو چکا ہے جس کے تحت دس سال سے کم عمر کا بچہ کوئی بھی جرم کرے تو وہ جرم تصور نہیں ہو گا اور دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے جرائم کا فیصلہ اس نئے قانون کے تحت کیا جائے گا۔

اس قانون کی تشکیل کے تمام مراحل میں شامل اور جووینائل جسٹس ایکٹ 2018 کو ڈرافٹ کرنے والے منسٹری آف لا اینڈ جسٹس اور منسٹری آف ہیومن رائٹس کے سابق قانونی مشیر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے اٹارنی شرافت علی چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس قانون کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کی تشکیل سے پہلے امریکہ سمیت دنیا بھر کے کئی ملکوں کے متعلقہ قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ایک جامع قانون بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت بچوں کے جرائم کے تین درجے بنائے گئے۔ چھوٹے جرائم انہیں کہا گیا جن کی سزا تین سال سے کم ہے۔ بڑے جرائم وہ ہیں جن کی سزا سات سال ہے اور سنگین جرائم انہیں قرار دیا گیا جن کی سزا سات سال سے زیادہ ہے۔

شرافت چوہدری نے بتایا کہ اس قانون کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو بالغوں کی جیل میں نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں بحالی اور اصلاح کے مراکز ’ جووینائل ری ہیب سینٹرز ‘میں رکھا جائے گا جس دوران ان کی تعلیم کو بھی جاری رکھا جائے گا اور انہیں اپنی عمر کے مطابق پیشہ ورانہ ہنر بھی سکھائے جائیں گے۔ اور قانون یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ ان کی ذہنی اخلاقی اور نفسیاتی تربیت اور ترقی کا بھی خیال رکھا جائے۔ضمانت پر رہائی کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے شرافت علی چوہدری نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ قانون نافذ ہو جائے گا تو 95 فیصد سے زیادہ بچے جیلوں میں جائیں گے ہی نہیں۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت جرم کا مرتکب بچہ یا اس کے والدین یا اس کا کوئی بھی عزیز  پولیس کے سامنے جوں ہی یہ دعویٰ کریں گے کہ اس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے تو پولیس اس کی تفتیش نہیں کرے گی بلکہ ایک مخصوص کمیٹی اس کا معاملہ دیکھے گی اور اگر اس نے سنگین جرم نہیں کیا تو ایک ماہ کے اندر اندر اس کی رہائی کا فیصلہ کرے گی۔

نئے قانون میں عمر کے تعین کے طریقے پر روشنی ڈالتے ہوئے ہائی کورٹ اسلام آباد کے اٹارنی شرافت علی چوہدری نے کہا کہ پرانے قانون میں جج کو بچے کے پیدائشی سرٹیفکیٹ یا متعلقہ دستاویز کو منظور یا مسترد کرنے کا کلی اختیار حاصل تھا، لیکن اس نئے قانون کے تحت اب اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت بچے کی پیدائش سے متعلق جو بھی دستاویز پیش کی جائے گی اسے قبول کیا جائے گا لیکن اس کی عمر کے حتمی تعین کے لیے اس کا میڈیکل ٹسٹ ضروری ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیدائش کی دستاویزی شہادت کے طور پر پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کا کوئی سرٹیفکیٹ یا کسی بھی ڈاکٹر کی جانب سے ماضی میں کسی بھی وقت کیے گئے علاج کے دوران کلینک یا اسپتال کے ریکارڈ میں درج کی گئی اس کی عمر کی دستاویز یا حتیٰ کہ والدین یا کسی بھی عزیز کی کسی پرانی ڈائری میں درج اس کی عمر کا ریکارڈ بھی قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن اس کی عمر کے حتمی تعین کے لیے بہر طور اس کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی ہو گا۔ شرافت علی کا کہنا تھا کہ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں یہ امکان کم ہو جائے گا کہ بچے کو اس کی عمر کے مطابق سزا یا رہائی نہیں دی گئی۔جووینائل جسٹس ایکٹ 2018 کے ڈرافٹر اٹارنی شرافت علی نے کہا کہ یہ قانون بچوں کو دہشت گردی کے قانون کے تحت سزا پانے کے عمل سے بھی چھٹکارا دے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اٹھارہ سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے کے خلاف دہشت گردی کی کسی کارروائی کا الزام ہو تو بھی اب اس کے خلاف دہشت گردی کے کسی قانون کے تحت قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی اور اس کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی صرف اور صرف اسی نئے قانون کے تحت انجام پائے گی۔ کیوں کہ بقول ان کے بچوں کے جرائم کے ضمن میں یہ قانون 2018 سے پہلے کے قوانین کی جگہ لے لے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

داعش کے ہاتھوں اغوا130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم "داعش" کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر "البحرہ" پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ٹرمپ کا وزیر دفاع جم میٹس کو ہٹانے کا اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وزیر دفاع جم میٹس کو بھی اْن کے عہدے سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز امریکی ٹیلی وژ ن چینل سی بی ایس کے پروگرام 60 Minutes میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اْنہیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ جم میٹس عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔

ریاستی وزارت سے مہیش کا استعفیٰ منظور

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش ناکام ہوجانے کے نتیجے میں ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بی ایس پی کے وزیر این مہیش کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے میں جے ڈی ایس قیادت کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے مہیش کا ...

ای اسٹامپ پیپر اب آن لائن دستیاب ہوگا

کسی طرح کے دستاویزات تیار کرنے کے لئے درکار ای اسٹامپ کاغذ کی دستیابی اب تک ایک بہت بڑا مسئلہ ہوا کرتی تھی، 100 روپے کے اسٹامپ پیپر کے لئے بھی بھاری رقم ادا کرکے اسے حاصل کرنا پڑتا تھا،

ساحلی علاقے میں موسلادھار بارش۔ آسمانی بجلیوں سے نقصانات

ساحلی علاقے میں اور خاص کر جنوبی کینرا ضلع میں اتوار کی شام سے رات دیر گئے تک زبردست بارش ہوئی ہے۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بجلیوں کے کڑکنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بعض مقامات پر بجلی گرنے سے گھروں کونقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

بھٹکل میں زائد منافع کالالچ دے کر 100کروڑ سے زائد رقم کی دھوکہ دہی کا الزام : کمپنی مالکان کے گھروں کا گھیراؤ اور احتجاج

شہر کے آزاد نگر میں واقع فلالیس نامی کمپنی کے مالکان  پر سو کروڑ سے زائد رقم لے کر فرار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سینکڑوں لوگوں نے آج اُن  کے مکانوں  کا گھیراو کیا اور اپنی رقم واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔  احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ   فلالیس نامی جعلی کمپنی ...