عمران خان نے پاکستانی وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th August 2018, 10:54 AM | عالمی خبریں |

اسلام آباد 19؍ اگست (ایس اونیوز؍یو این آئی) پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ کو ملک کے22ویں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔صدر ممنون حسین نے ایوان صدر (پریسیڈنٹ ہاؤس) میں منعقدہ ایک سادہ تقریب میں مسٹر خان کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف دلایا۔ حلف برداری تقریب میں نگراں وزیر اعظم نصیر الحق، قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر، بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا، ایرچیف مارشل مجاہد انور خان اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر عباسی موجود تھے ۔ اس کے علاوہ موجود دیگر مشہور شخصیات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں سمیت ہندوستانی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، کرکٹر سے کمنٹیٹر بنے رمیز راجہ ، کرکٹ ہستی وسیم اکرم، پنجاب اسمبلی کے نو منتخب اسپیکر چودھری پرویز الہٰی، گلوکار سلمان احمد اور ابرارالحق اور اداکار جاوید شیخ شامل تھے ۔ اس سے پہلے ، جمعہ کو، 342رکنی قومی اسمبلی میں عمران خان نے 176ووٹ حاصل کیے جبکہ حریف مسلم لیگ (نواز) کے شہباز شریف نے صرف96ووٹ حاصل کیے ۔ قیصر نے گنتی کے بعد مسٹر خان کے رہنما منتخب ہونے کا اعلان کیا۔ خان نے اقتصادی بحران کا سامنا کرنے والے ملک میں غریبوں کی زندگی بہتر کرنے کے لئے 'اسلامی فلاحی ریاست ' کی تشکیل کی وکالت کی ہے ۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک 'نئے پاکستان' کی تعمیر کے لئے اپنا عہد بھی ظاہر کیا ہے ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف پارٹی، 25جولائی کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی ۔ تحریک انصاف نے 270نشستوں میں116 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ، چھوٹی جماعتوں نے مسٹر خان کی پارٹی کی حمایت کی ہے ۔پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں کہا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں گے اور کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے بعد اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے اراکین پارلیمان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور اسی تناظر میں عمران خان نے ’ہیڈفونز‘ پہن کر تقریر کی۔ ان کی اس مختصر تقریر میں مرکزی موضوع کرپشن کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دولت، جسے صحت، تعلیم اور انصاف کے شعبوں میں خرچ کیا جانا تھا، اسے چند افراد نے اپنی جیبوں میں ڈالا۔

اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا، ’’تمام افراد یہ بات سمجھ لیں کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔‘انہوں نے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے کہاکہ کئی حلقوں میں ان کی جماعت محض چند ہزار ووٹوں سے ہاری، تو ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی طاقت ان کی مدد کر رہی تھی؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جیسے چاہے احتجاج کر سکتی ہے۔ عمران خان کا بہ طور وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے اس اولین خطاب میں کہنا تھا، ’’اگر آپ دھرنا دینا چاہتے ہیں، تو بھی ہم آپ کی مدد کریں گے۔ ہم نے چار ماہ تک اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ آپ ایک ماہ تک دھرنا دے کر دکھا دیں، ہم آپ کی بات مان لیں گے۔ اس کے لیے کنٹینرز اور کھانا بھی ہم فراہم کریں گے۔‘‘ عمران خان نے اپنے اس مختصر خطاب میں اپنے نوجوان حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی بائیس سال کی محنت اور جدوجہد ہے کہ وہ آج منصب وزارت عظمیٰ تک پہنچ پائے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ انتخابات کو دنیا کے تمام اخبارات اور تنظیموں نے دھاندلی زدہ قرار دیا۔ انہوں کا یہ بھی کہنا تھا، ’’یہ کیسا الیکشن تھا، جس میں 16 لاکھ ووٹ مسترد ہوئے۔‘‘ شہباز شریف نے کہا کہ ان انتخابات کو پاکستانی قوم نے مسترد کر دیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ شفاف انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن مکمل طور پر ناکام رہا۔ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تفتیش کے لیے پارلیمانی کمیشن قائم کی جائے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ میں بھارتی طلباء کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال اضافہ

 بین الاقوامی تعلیمی ایکسچینج سے متعلق آج جاری اوپن ڈورس رپورٹ  2018  کے مطابق، گزشتہ سال میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد 5.4 فیصد بڑھکر 196،271 ہو گئی۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ ...

سویفٹ کا ایرانی بنکوں کو الگ کرنے کا اعلان

عالمی سطح پر رقوم کی ترسیلات کے سب سے بڑے نیٹ ورک "سویفٹ سسٹم" نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی بنکوں کو مرحلہ وار سسٹم سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی صدی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت 

امریکی صدر ڈونالڈ جمعے کی علی الصبح دورۂ یورپ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اور درجنوں دیگر عالمی سربراہان ’آرمزٹائس‘ معاہدے کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔