امیر شریعت سادسؒ ، نقوش و تاثرات :عروس جمیل در لباس حریر ۔۔۔۔۔ آز: فضیل احمد ناصری القاسمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th April 2017, 1:01 AM | اسپیشل رپورٹس | اسلام | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

امارت شرعیہ(بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ)ہندوستان کے ان سرکردہ اداروں میں سے ہے،جن پر اہل اسلام کو ہمیشہ فخر رہا۔یہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہندیہ کی قیادت بہتر انداز میں کرتی رہی ہے، یہ ادارہ’’ مفکر اسلام‘‘ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر ہے، اس کاقیام 1921ء میں ہوا۔ اس کی تاسیس اور کارناموں پر اب صدی گزرنے کو ہے۔ حق جل مجدہ نے اس عظیم ادارے سے عظیم الشان کام لئے، اس کافیضان ہنوز جاری اور اس کا جلوہ آج بھی برقرار ہے۔برطانوی اقتدار والے ہندوستان جیسے مسلم اقلیتی ملک میں امارت اور وہ بھی شرعی امارت کا خواب دیکھنا بھی بڑی بات تھی، چہ جائے کہ اسے شرمندہ تعبیر کرلینا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب نے صحرا میں چاہ کنی کا نادر المثال کا رنامہ انجام دیا۔

امارت شرعیہ کادائرہ کار اگرچہ چند صوبوں تک محیط ہے، لیکن اس کے اثرات ملک وبیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں سے کئی ایسے کارنامے انجام پائے جن کی تعریف وتوصیف کے ساتھ تقلید بھی کی گئی۔ بلند نگاہ شخصیات اور کوہ قامت ہستیوں کے بغیر’’ آگ کے اس دریا کو عبور کرنا ‘‘ قطعا ممکن نہ تھا،ازل سے تا امروز یہی طریقہ رہا ہے کہ قدرت کسی ادارے سے بڑے کام لینا چاہتی ہے تو اسے مخلص ،سنجیدہ اور باکمال افراد مہیا کرتی رہتی ہے۔ اس کی تاریخ پر نظر ڈالئے تو ایک سے بڑھ کر ایک نابعہ یہاں خیمہ زن ملیں گے،حضرت مولاناسید منت اللہ رحمانیؒ اور حضرت مولاناقاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ وغیرہ۔ انہیں نوابغ میں ایک’’ قد آور نام‘‘ امیر شریعت سادس ’’حضرت مولانا سید نظام الدین‘‘ گیاویؒ کا ہے۔

حضرت مولانا سید نظام الدینؒ (ولادت31؍ مارچ1927ء: وفات17؍اکتوبر2015ء)بہار واڑیسہ وجھار کھنڈ کے چھٹے امیر شریعت تھے۔ ان سے پیش تر بالترتیب حضرت مولانا عبدالرحمنؒ ،حضرت مولانامنت اللہ رحمانیؒ ،حضرت مولانا قمرالدینؒ ، حضرت مولانامحی الدینؒ اورحضرت مولانا بدرالدینؒ امیر رہے ہیں۔ مولانا مرحوم1991ء سے1998ء تک نائب امیر شریعت، پھر1998ء سے تا حیات’’ امیر شریعت‘‘ کے عظیم ترین منصب پر فائز رہے۔1965ء سے1998ء تک آپ امارت شرعیہ کے ناظم بھی رہے۔

امیر شریعت کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی، وہ میدانی شخصیت تھے۔فعال وجواں عزم۔ ضعف ونقاہت کے باوجود ان کا سفری سلسلہ تادمِ مرگ جاری رہا۔ ملت کی فلاح وبہبود کے لئے وہ کہاں کہاں نہ پھرے۔ فاطر ہستی ..نے انہیں علم وعمل دونوں خوبیوں سے نوازا تھا، وہ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے فیض یافتہ ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور ان اساتذہ کے صحبت یافتہ تھے جن کی کیمیا اثر نگاہیں تقدیریں بدل دیا کرتی تھیں۔ مرحوم کو خاکسار کے دادا حضرت مولانا مفتی محمود احمد ناصری(نستوی)کی شاگردی کا شرف بھی حاصل تھا۔1946ء میں دارالعلوم سے فراغت پائی اور1947 ء میں تخصص فی الادب کیا۔ سولہ برسوں تک انہوں نے مسند تدریس کو بھی رونق بخشی۔ مختلف تنظیموں اور اداروں سے ان کی وابستگی رہی۔متعدد اداروں کی سرپرستی بھی فرمائی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی کے ساتھ1991ء سے تا وفات اس کے جنرل سکریٹری رہے۔

امیر شریعت جب تک حیا ت رہے، علما وعوام کے لئے باعثِ صد رشک رہے۔ خوب زندگی گزاری۔ ان کاطرز عمل اسلام کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ رنجشوں اور تنازعات سے گریزاں رہتے۔ امیر شریعت رابع حضر ت مولانا منت اللہ رحمانی اور قاضی القضاۃ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب سے خوب جمی،ملت کے لئے سربہ کفن رہنا ان کا وظیفہ عمر تھا۔ بابری مسجد کی بازیابی میں ان کی کوششیں ناقابل فراموش ہیں۔ کم گو اور پر گو تھے۔دیدہ وراور دانش ور تھے۔ سوچ کر اور خوب تر فیصلے کرتے۔ ان کی چال چلن ، رہن سہن، ان کی ادائے دلبرانہ عجیب مقناطیسیت رکھتی۔ کم وبیش 89؍سال کی عمر پاکر2015ء میں آخرت کی راہ لی۔ان کے انتقال پر ملت بہت روئی۔ درد وکرب اور بے چینی واضطراب نے اسے بہت تڑپایا۔ تعزیتی جلسوں اور قرار داوں کا ایک طویل سلسلہ رہا۔ اخبارات نے ان کی موت کو عظیم خسارہ بتایا۔ اکابر امت نے ان کی وفات کو عظیم خلا سے تعبیر کیا۔شخصیتوں کے گزرنے کے بعد ان کی سیرت وسوانح پر کتابیں چھپنا عام بات ہے،یہ ہونا بھی چاہئے۔ یہی کتابیں پورے خدوخال کے ساتھ انہیں زندہ بھی رکھتی ہیں۔’’ شخصیت ناموں‘‘ سے جہاں صاحب سوانح کا مقام ومرتبہ اجاگر ہوتا ہے ،وہیں اس عہد کی علاقائی وملکی تہذیب ،معاشرت اور سیاسی حالات وواقعات بھی سامنے آجاتے ہیں۔امیر شریعت کے حالات زندگی پر بھی مواد کی شدید ضرورت تھی۔ ان کے چاہنے والے ان کی پوری زندگی پر نظر ڈالنا چاہتے تھے۔ مگر یہ کام بے حد مشکل اور کانٹوں پر چلنے جیسا تھا۔ مرحوم جس وضع اور انوکھی اداؤں کے مالک تھے، ان کے کارناموں کو اجاگر کرنا قطعی آسان نہیں تھا۔ وہ سراسر’’ اخفائی شخصیت ‘‘تھے۔ ان کے کارہائے شیشہ وآہن سے پردہ اٹھانا اور زندگی کے طویل دورانیے کی پر تیں ہٹانا خونِ گرم ، عز م جواں ا ورجوش جنوں کا متقاضی تھا۔ اللہ کا کرم کہ عزیزم’’ محمد عارف اقبال‘‘(ایم اے فائنل ائیر ،شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی، دہلی)کی شکل میں ایک جواں سال،محنت کش اور سیال صاحبِ قلم سامنے آیا، جس نے طالب علمی ہی کے دور میں خدا معلوم کس کس طرح تنکے تنکے سے آشیانہ وہ بھی شاندار آشیانہ تعمیر کردیا۔

امیر شریعت پر دوکتابیں آئیں ۔ایک ان کی حیات میں اور دوسری پس از مرگ ۔پہلی کتاب ’’باتیں میر کارواں کی‘‘ اور دوسری ’’امیر شریعت سادس، نقوش وتاثرات ‘‘جو زیر تبصرہ ہے۔ اول الذکر نے مرحوم کے اوصاف وکمالات سے جس طرح نقاب کشائی کی، قارئین چونک گئے، اس میں ملک کی چوٹی کی شخصیتوں کے تحسین نامے بھی تھے۔ دونوں کتابوں کے مؤلف یہی محمد عارف اقبال دربھنگوی ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب امیر شریعت کے کارناموں، ان کے بلند اخلاق، ان کی عالی ظرفی، روشن ضمیری، پاک نفسی، فراخ ذہنی، اولو العزمی اور ان کے حیرت انگیز شب وروز سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اس میں اکابر امت، درمیانی صف کے مستند اہل علم اور نوجوان خامہ برداروں کے مضامین،تاثراتی نظمیں،مرثیے اور اخباری تراشے جمع کئے گئے ہیں۔ ان تحریروں میں حضرت مرحوم کی ہشت پہلو شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ با ب اول میں حالات زندگی اور کارنامے، باب دوم میں اداروں سے وابستگی باب سوم میں بزرگوں اور رفقا سے تعلق، باب چہارم میں ادبی خدمات، باب پنجم میں باتیں میر کارواں کی پر اہل علم وادب کے تاثرات اور باب ششم میں سانحہ ارتحال پر مضامین و مقالات شامل کئے گئے ہیں ۔ مقالہ نگاروں میں اکثر نام مشہور ہیں۔ سعودیہ عربیہ ،دیوبند، دہلی، لکھنو اور بہار کے معروف اصحاب قلم کی نگارشات اس کتاب کی زینت ہیں۔کتاب کے آغاز میں چودہ صفحات پر مشتمل مصنف موصوف کا بسیط’’ مقدمہ‘‘ ہے۔اس مقدمے میں کتاب کے پس منظر، اس کی ترتیب کی روداد، اکابرِ امت سے اپنا شوقِ ملاقات، اپنے محسنین و معاونین کی شکر گزاری اور حضرت امیر شریعت سے اپنے تعلقات کا اظہار ہے۔یہ حصہ مصنف کی صلاحیت و صالحیت اور بزرگانِ دین سے ان کی شیفتگانہ اداں کا آئینہ دار ہے۔کتاب کا یہ حصہ پڑھ کر بے ساختہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے اور ان کے عزم و ولولے کو سلام کرنا پڑتا ہے۔مقدمہ کے بعد آٹھ دیگر شخصیات کی تاثراتی تحریریں ہیں، جن میں میرِ عصر ڈاکٹر کلیم عاجز، ادیبِ شہیر حضرت مولانا بدرالحسن صاحب کویت اور حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن فتح پوری صاحب زیادہ نمایاں ہیں۔تالیف کے 54؍صفحات تک ایسے ہی مضامین ہیں، جن میں امیرشریعت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ مصنف کی’’کوہ کنی‘‘کی داد دی گئی ہے۔مجموعے کا مقصودی حصہ’’باب اول‘‘سے شروع ہوتا ہے۔اس حصے کے آغاز میں مؤلف موصوف کے قلم سے’’زندگی نامہ‘‘ہے، جس میں حضرت مرحوم کی حیاتِ طیبہ کے اہم گوشوں پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔اس باب میں اس کے علاوہ 30؍دیگر مضامین بھی ہیں، جن میں حضرت مرحوم کی مثالی زندگی پر ممتاز اہلِ قلم نے خوب دادِ تحقیق دی ہے۔یہ حصہ سب سے بڑا ہے اور کتاب کے 223؍صفحات تک مبسوط و منشورہے۔باب دوم میں اداروں سے وابستگی پر چھ خوب صورت مقالات ہیں۔ان میں بڑی وضاحت کے ساتھ دینی و ملی اداروں کے ساتھ حضرت کے والہانہ لگا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔صفحہ 290؍سے 339؍تک تیسرا باب ہے۔اس باب میں مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ ، امیرشریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ ، قاضی القضا ۃ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی ؒ اور برکۃ العصرحضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی سمیت 8؍اہم شخصیات سے مولانا کے قلبی لگا کو اور باہم احترام و تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔اس باب میں 8؍شان دار نگارشات ہیں۔باب چہارم کی شروعات 340؍سے ہو کر 419؍ پہونچتی ہے۔اس باب میں حضرت امیر شریعت کے ادبی پہلو پر بیش بہا مقالات ہیں۔حضرت مولانا سیدرابع حسنی ندوی، مولانا واضح رشید ندوی اور مرحوم ڈاکٹر کلیم عاجز کے خامہ عنبر شمامہ سے ان کی ادبی شخصیت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔یہ حصہ اہل ادب کے لیے خاصے کی چیز ہے۔اسی باب میں احقر فضیل احمد ناصری کا بھی ایک مضمون شامل ہے۔صفحہ 420؍سے 497؍تک پانچواں باب ہے۔اس باب میں خطوط، منظوم تاثرات، مقالات و رپورتاژ، مؤلف کی اولین کتاب’’باتیں میر کارواں کی‘‘کی رسم اجرا سے متعلق تفصیلات، اس پر اخبارات کے تراشے اور بعض رسالوں میں اس پر تبصرے درج ہیں۔باب ششم498؍سے 634؍تک پھیلا ہوا ہے۔اس باب میں حضرت امیر شریعت کی وفات پر چوٹی کی شخصیات کے تعزیت نامے شامل ہیں، جن میں ملک کے نائب صدر حامد انصاری، مولانا رابع حسنی ندوی، محترمہ سونیا گاندھی سمیت 7؍نمایاں نفوس ہیں۔اس کے بعد امیرشریعت کی وفات پر 22؍تاثراتی تحریریں ہیں، جن میں اصحاب قلم نے مرحوم سے اپنے لگاؤ، امت کے تئیں ان کی فکرمندی، حاضر دماغی، فکری بیداری اور حمیتِ دینی پر دل کھول کر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔اس کے بعد 7؍شعراے کرام کے منظوم تاثرات بھی ہیں۔اخیر میں اخباری بیانات کے ایک وقیع ضمیمے کا الحاق بھی ہے۔کتاب کا اختتام مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے مختصر احوال و کوائف پر ہوتا ہے۔بہت کم بلکہ شاذ ونادر ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ حضرت مرحوم اردو زبان وادب کا اعلی مذاق رکھتے تھے۔ انہو ں نے دارالعلوم میں طالب علمی کے دوران بزم سجاد کے دیواری پرچے ماہنامہ’’ البیان‘‘ کی ادارت بھی سنبھالی۔مسلم پرسنل لا بورڈ نے جب اپنا آرگن ’’خبر نامہ‘‘ شروع کیا تو ادارت کے لیے نظر انتخاب مولانا پر ہی پڑی۔مرحوم بلند پایہ شاعر بھی تھے، کتاب میں ان کے مذاق سخن پربھی متعدد مقالات موجود ہیں۔ حضرت مولانا رابع حسنی ندوی(لکھنو)اورمیر عصر ڈاکٹر کلیم احمد عاجز مرحوم جیسے رمز شناس ادیبوں کے رشحاتِ فکر بھی شامل ہیں۔’’شعر وسخن کا کوہِ طور ‘‘کے عنوان سے احقر فضیل احمد ناصری کا بھی نوصفحات پر مشتمل ایک مقالہ شریک ہے۔

کتاب اپنی معنوی خوبیوں کے ساتھ ظاہری کشش سے بھی خوب مزین ہے۔ بہتر ین کاغذ ، دیدہ زیب سرورق، خوب صورت سیٹنگ، عمدہ ڈیزائننگ اور معیاری طباعت اس کتاب کی اہمیت کو دوبالا کرتی ہے۔ بہار کے قدیم ترین دینی ادارے ’’مدرسہ امدادیہ دربھنگہ‘‘ نے اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مدرسہ امدادیہ نے یہ مجموعہ چھاپ کر اپنے ایک نامور فرزند کو خوب صورت خراج تحسین پیش کیا ہے۔مرتب کتاب محترم محمد عارف اقبال صاحب اس کتاب کی اشاعت پر لائق صد تبریک ہیں۔ ان کی اس کوشش نے’’ امیر شریعت شناسی‘‘ کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے ۔ ہر اہل علم کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

( مضمون نگار  فضیل احمد ناصری القاسمی ، جامعہ امام محمد انور شاہ ،دیوبند میں استاذ حدیث ہیں)

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ .................آز: مولانا سید احمد ومیض ندوی

سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔حالانکہ س سیرت کی ...

حضرت علی بن ابی طالب کرّم اللہ وجہہ : ایک سنی نقطۂ نظر ..... تحریر: ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الشریف جامع کمالات تھے۔وہ نوجوانوں اور مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے ۔ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق حضور پاکؐ کی بعثت پیر کے روز ہوئی اور حضرت علی صرف ایک دن بعد یعنی منگل کو ایمان لائے ۔اس وقت آپ کی عمر مشکل سے آٹھ یا دس سال ...

سدنہ بیت اللہ اور کلید کعبہ کا قصہ!

سدنہ بیت اللہ وہ قدیم پیشہ اور مقدس فریضہ ہے جس میں خانہ کعبہ کی دیکھ بحال، اسے کھولنے اور بند کرنے، اللہ کے گھر کو غسل دینے، اس کا غلاف تیار کرنے اور حسب ضرورت غلاف کعبہ کی مرمت کرنے جیسے امور انجام دیے جاتے ہیں۔سدانہ کعبہ کا شرف صدیوں سے الشیبی خاندان کے پاس چلا آرہا ہے۔

*ماہ صیام صبر و مواسات کا مہینہ* ازقلم! *ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﻋﯿﻨﯽ قاسمی*

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻋﻄﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ،  ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ...

بھٹکل کے قریب منکی میں زمین کو لے کر ایک شخص کاقتل، بیوی زخمی؛ ملزم گرفتار

پڑوسی تعلقہ ہوناور کے منکی میں زمین کے معاملے کو لے کر ایک بھائی نے دوسرے بھائی کا قتل کردیا جبکہ اُس کی بیوی جو بیچ بچائو کرنے کی کوشش کررہی تھی،  زخمی ہوگئی، واردات آج پیر دوپہر کو منکی کے  تالمکّی میں  پیش آئی ۔

بھٹکل میں یوم آزادی کے موقع پر ویژن انڈیا مشن فاؤنڈیشن کے زیراہتمام تحریری مقابلہ؛ جیتنے والوں کو انعامات کی تقسیم

ویژن انڈیا مشن فاؤنڈیشن کے ذریعے ہائی اسکو ل طلبہ کے لئے جو تحریری مقابلہ منعقد کیاگیا تھااس میں اول دوم اور سوم مقام پانے والے طلبہ کو جشن آزادی کے موقع پرمنکولی میں واقع فاؤنڈیشن کے دفتر میں منعقدہ پروگرام کے دوران انعامات تقسیم کیے گئے۔

مڈکیری میں سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے دورہ کے وقت ہی زمین کھسک گئی؛ ایم پی اور ایس پی بال بال بچ گئے

ضلع کورگ کے مڈکیری عرف مرکیرہ کے رکن اسمبلی اپاجو رنجن کے  بارش سے متاثرہ علاقوں کا  دورہ کرنے کے موقع پر اچانک زمین کھسکنے کی واردات پیش آئی ہے، بتایا گیاہے کہ ان کے ہمراہ ضلع کورگ کی ایس پی ڈاکٹڑ سومنا پنّیکر بھی موجود تھی۔