سویڈن میں انتخابات: مہاجرت مخالفین کی نشستوں میں اضافہ متوقع

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th September 2018, 1:50 PM | عالمی خبریں |

دبئی،10؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یورپی ملک سویڈن میں آج اتوار کے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ان انتخابات میں دائیں بازو کی مہاجرت مخالف جماعت ’سویڈن ڈیموکریٹس‘ کی نشستوں میں اضافے کا امکان ہے۔ سویڈن کی پارلیمان کی کْل 349 نشستیں ہیں۔ سویڈن اْن چند یورپی ممالک میں شامل ہے جہاں حالیہ کچھ برسوں کے دوران قوم پرستی میں اضافہ ہوا ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق دائیں بازو کی قوم پسند جماعت ’سویڈن ڈیموکریٹس‘ ماضی کے مقابلے میں کافی زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔انتخابات سے قبل مرتب کیے جانے والے عوامی جائزوں کے مطابق بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے سیاسی اتحاد کو، جس کی قیادت موجودہ وزیر اعظم اسٹیفان لووین کر رہے ہیں، اپنے مخالف دائیں بازو کے اعتدال پسند چار جماعتی اتحاد ’الائنس‘ پر معمولی سبقت حاصل ہے۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق تاہم نئی حکومت کی تشکیل ایک پیچیدہ معاملہ ہو گا کیونکہ انتخابات میں شریک کسی بھی بلاک کو بھرپور اکثریت ملنے کا امکان کم ہی ہے۔ چار جماعتوں پر مشتمل اتحاد ’الائنس‘ کی کوشش ہے کہ کامیابی حاصل کر کے ماڈریٹ پارٹی کے سربراہ اْلف کرسٹرسن کو ملک کا وزیر اعظم بنایا جائے۔جائزوں کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت گرین پارٹی کو جسے حکومت میں بائیں بازو کی ’لیفٹ پارٹی‘ کی حمایت بھی حاصل ہے، کی عوامی حمایت میں نسبتاً کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف چار جماعتوں قدامت پسند ماڈریٹ پارٹی، لبرل پارٹی، سنٹر پارٹی اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل اتحاد ’الائنس‘ کی کوشش ہے کہ کامیابی حاصل کر کے ماڈریٹ پارٹی کے سربراہ اْلف کرسٹرسن کو ملک کا وزیر اعظم بنایا جائے۔تاہم اس تمام صورتحال کے حاشیے میں قوم پرست اور مہاجرت مخالف سویڈن ڈیموکریٹک پارٹی بھی موجود ہے جس کے بارے میں اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ اس کی پارلیمان میں نشستوں میں اضافہ ہو گا۔ 2014ء4 میں منعقد ہونے والے انتخابات میں اس جماعت کو 13 فیصد ووٹ ملے تھے۔ تاہم مہاجرت اور ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کو بنیاد بنا کر اس جماعت نے اپنی عوامی مقبولیت میں کافی اضافہ کیا ہے۔ پارلیمانی انتخابات کے لیے اہل ووٹرز کی مجموعی تعداد 7.4 ملین ہے۔ پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے کھلے ہیں اور پولنگ کا سلسلہ رات آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔آج اتوار نو ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے اہل ووٹرز کی مجموعی تعداد 7.4 ملین ہے۔ پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے کھلے ہیں اور پولنگ کا سلسلہ رات آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔ وفاقی پارلیمان کے نمائندوں کے علاوہ ووٹرز 20 کاؤنٹی کونسلوں اور 290 میونسپل اسمبلیوں کے لیے نمائندگان بھی چنیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

نوازشریف کو کچھ ہوا تو عمران ذمہ دار ہوں گے :شہباز

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ حکومت نواز شریف کی صحت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اوراہل خانہ کو انکی صحت سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کیا جا رہا، نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم ہوں گے،نیازی صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ہم نئے صوبہ بنائیں گے، ...

وینزویلا:حکومت کے حامی اور مخالفین سڑکوں پر

وینزویلا کے دارالحکومت کارکاس میں حکومت کے حامی اور مخالفین سڑکوں پر نکل آئے۔ایک طرف صدر مادورو کی اپیل پر ہاتھوں میں وینزویلا کے پرچم لئے مظاہرین سڑکوں پر تھے تو دوسری طرف حزب اختلاف کے لیڈر ہوان گوآئیڈو کے حامی۔مادورو کے حامی شاویز کے انقلابِ بولیوار کی 20 ویں سالانہ یاد کے ...

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ای وی ایم ہیک کئے گئے تھے: امریکن سائبر ایکسپرٹ کا دعویٰ؛ کیا ای وی ایم نے بی جے پی کو اقتدار دلایا ؟

 امریکہ میں مقیم ایک سائبر ماہر سید شجاع نے دعویٰ کیا ہے کہ   ہندستان میں    سال 2014میں ہوئےعام انتخابات میں استعمال کی گئی  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو  ہیک کیا گیا تھا۔ 543 سیٹوں والے اس الیکشن میں بی جے پی کو282 سیٹوں پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سن 1984 کے بعد پہلی ...

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...