میں دلی سے نہیں ڈرتا۔ہم خودمختاری حاصل کرکے رہیں گے :فاروق

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd December 2018, 12:09 PM | ملکی خبریں |

بارہمولہ۔3/دسمبر (ایس او نیوز/یو ا ین آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اندرونی خودمختاری جموں وکشمیر کے لوگوں کا حق ہے اور ہم اس کو حاصل کرکے ہی دم لیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ دلی سے نہیں ڈرتے ہیں اور دلی میں بیٹھے حکمرانوں کو اٹانومی کی تجویز مسترد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر کہا کہ یہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور وہ کشمیر (پاکستان زیر قبضہ کشمیر) پاکستان کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ ہے اور کل بھی رہے گا۔فاروق عبداللہ اتوار کے روز یہاں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کررہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے لئے اندرونی خودمختاری کا حصول نیشنل کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا ہے ۔ جب ایک نامہ نگار نے نیشنل کانفرنس صدر سے پوچھا کہ دلی نے تو اٹانومی اور سلیف رول مسودوں کو مسترد کیا ہے تو فاروق عبداللہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اوراپنے جواب میں کہنے لگے اٹانومی کو یہاں کے لوگوں کو مسترد نہیں کرنا چاہئے ۔ مجھے دلی سے مت ڈرا۔یہ بات یاد رکھئے گا۔ اٹانومی ہمارا حق ہے ۔ اور ہم اس کو لے کر رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مجھ پر ہر بار الزام لگایا جاتا ہے ۔ یہ الزامات وہ لوگ لگا رہے ہیں جو سمجھ رہے ہیں کہ فاروق عبداللہ ڈر جائے گا۔ میں آج بھی کہتا ہوں کہ ہم ہندوستان کا حصہ ہیں اور کل بھی رہیں گے ۔ مگر پاکستان کے بارے میں ہمیں ہر بار کہا کہ ہم نے دوستی میں رہنا ہے ۔ فاروق عبداللہ آج بھی کہتا ہے کہ آزاد کشمیر (پاکستان زیر قبضہ کشمیر) ان کا حصہ ہے اور یہ حصہ ہمارا ہے ۔ہمیں دیوار (سرحدوں کو) کو گرانا ہے ۔ اور دیوار کو گراکے ان دونوں ملکوں کے لوگوں کو آزادی سے ملنے اور تجارت کرنے کا حق ہونا چاہئے ۔ ایسا لگنا چاہئے کہ یہ دو حصے الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی کا الگ راستہ ہے ، کانگریس کا الگ اور ہمارا الگ، لیکن ہم ریاست کے مفادات کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوگئے تھے ، آج آپ جموں وکشمیر بینک کا جو حال دیکھ رہے ہیں ، شاید اس حکومت کے قیام سے ایسا نہیں ہوا ہوتا۔اور ان لوگوں نے ریاستی مفادات کے خلاف جتنے بھی فیصلے لئے ہیں اُن کو ہم کالعدم قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمارے الگ الگ ارادے ہیں۔ پی ڈی پی کا الگ مقصد ہے ، نیشنل کانفرنس کا الگ راستہ ہے ۔ کانگریس کا الگ راستہ ہے ۔ ہم اس لئے ایک جٹ ہوگئے تھے کیونکہ آپ جموں وکشمیر بینک کا حل دیکھ رہے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا اگر ہماری سرکار ہوتی۔ جو باقی چیزیں انہوں نے کی ہیں، ہم ان کو بدل دیتے ۔ ہم نے پی ڈی پی کو باہر سے حمایت دینے کا وعدہ دیا تھا۔ اس کا مقصد ریاست کی خصوصی پوزیشن کا دفاع تھا۔ آپ جموں وکشمیر بینک کا حال دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے سپریم کورٹ میں دفعہ35اے کا حال دیکھا؟ ہم دفعہ370کو بچانے کی کوششیں کررہے ہیں یا نہیں کررہے ہیں؟ یہ صرف اسی مقصد کے لئے تھا۔ایک اور سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کوئی تھرڈ فرنٹ نہیں ہے ، بس چند بھاجپا کے اعلیٰ کار آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں، جو لوگ ہم پر اُنگلی اُٹھا رہے ہیں اور خاندانی سیاست کی رٹ لگا کے رکھی ہے وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اُن کو بھی تو اپنے والدین سے سیاست اور عہدے وراثت میں ملے ہیں، اگر ہم خاندانی سیاستدان ہیں تو وہ بھی ہم سے مختلف نہیں۔

انہوں نے کہاکہ سجاد لون کے بڑے الزامات ہیں۔ میں اگر الزام لگاؤں گا تو وہ جواب نہیں دے سکے گا۔ وقت آئے گا تو اس پر بھی الزامات لگاؤں گا۔ان کا کہنا تھاکہ جب مجھے جگ موہن نے برطرف کیا تو اس کے والد (خواجہ عبدالغنی لون) میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں پاکستان جارہا ہوں اور بندوق لاؤں گا۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر ان سے کہا کہ بندوق مت لایئے ۔ ہماری ماں بہنوں کی عزت نہیں رہے گی۔ ہمارے جوان مارے جائیں گے ۔ شہر برباد ہوجائیں گے ۔ مگر وہ بندوق لائے اور جب واپس آئے تو انہوں نے مجھ سے معافی مانگی۔ کہا ڈاکٹر صاحب ہم نے غلطی کی۔ سجاد لون اس کا جواب دیں؟۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔