سعودیہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی نکلی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th November 2017, 9:34 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،17؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے واضح کیا ہے کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔وہ ریاض سیکیورٹی فورسز افسران کلب میں پریس کانفرنس کے دوران شاہی مہلت اور غیرقانونی قیام سے متعلق سرکاری بیان اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ شاہی مہلت سے فائدہ اٹھانے والوں میں 20 فیصد پاکستانی ، 10 فیصد ہندوستانی، 12 فیصد مصری، 10 فیصد ایتھوپین، 8 فیصد مراکشی، 7 فیصد بنگلہ دیشی، 6 فیصد سوڈانی، 6 فیصد یمنی، 4 ، 4 فیصد ترکی و الجزائری، 2 ، 2 فیصد انڈونیشی، فلپائنی اور عراقی شامل تھے۔ ان میں سے 37 فیصد ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور بری سرحدی چوکیوں سے براہ راست وطن واپس ہوئے۔ بیشتر حج ، عمرہ، زیارت یا ٹرانزٹ ویزوں پر مملکت آئے تھے۔ مہلت کے دوران 60 فیصد غیرقانونی تارکین ادارے ترحیل کے توسط سے واپسی کی کارروائی کرکے وطن گئے۔

منصور الترکی نے توجہ دلائی کہ 3 فیصد نے ابھی تک سعودی عرب سے سفر نہیں کیا امید ہے کہ ویزوں کی میعاد ختم ہونے سے قبل یہ لوگ مملکت کو خیرباد کہہ دیں گے۔ الترکی نے کہا کہ مملکت میں ایسے تارکین وطن بھی ہیں جو ڈیوٹی سے غیرحاضر ہیں یا کئی برس سے اقامہ کی تجدید کرائے بغیر رہ رہے ہیں۔ بعض کے پاس اقامہ ہی نہیں ہے۔ بہت سارے درانداز بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ غیرقانونی طور پر مقیم مصریوں کیلئے 6 ماہ کی مہلت ابھی باقی ہے انہیں مہلت کے اندر خودبخود روانہ ہونا ہوگا تاکہ مہلت کی بدولت منفی آثار سے محفوظ رہیں۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں موجود وزارت محنت کے ترجمان خالد ابالخیل نے بتایا کہ 800 انسپکٹرز محنت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ کیلئے فیلڈ میں کام کررہے ہیں۔ سرکاری اداروں سے بھی تعاون حاصل کیا جارہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔