جمہوریت کا چوتھا ستون ہی منہدم ہوگیا تو ۔۔۔۔۔؟ از: ایم، اے ، کلّاپو۔منگلورو

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 26th August 2016, 11:22 PM | مہمان اداریہ | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

’’اس ملک میں اظہارِ رائے نام کی ایک آزادی بھی ہے،جس کے تحت تحریر ، تقریر، دھرنا، احتجاج کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کئے جانے کا حق تمام کو ہے ہی۔ لیکن اس کے لئے سڑک پر ہنگامہ خیزی کرنے والوں کوپیدائشی حق سمجھنا خطرنا ک ہوگا۔ اس سلسلے میں ریاست کے کچھ میڈیا والوں کو دوبارہ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے‘‘

صحافت (میڈیا) کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتاہے۔ ایمانداری کے ساتھ سچی اور حقیقی خبریں شہری سما ج تک پہنچاکر سماجی امن کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری میڈیا پر ہے۔ حال ہی میں بنگلورو کے تھیالوجیکل کالج ہال میں ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کشمیری متاثرین کوانصاف دلانے کے لئے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا تھا، جس میں ملک مخالف نعرہ بازی  کے بہانے بھگوا قوتوں نے ورکشاپ کو روکنے کی خبریں ہمارے کچھ قومی (کنڑا)روزناموں میں شائع کرکے ہنگامہ برپا کیا ہے۔

متعلقہ خبر کی رپورٹنگ کرتے ہوئے کچھ اخبارات نے ورکشاپ کےانعقاد کوملکی مفاد کے خلاف لکھا اور جذبات کو مشتعل کرنے جیسی بتایا  تو کچھ روزناموں نے کشمیر میں فوجی کارروائی کے طریقے میں سب کچھ ٹھیک نہ ہونے کی بات کہی۔

’’اس ملک میں اظہارِ رائے نام کی ایک آزادی بھی ہے،جس کے تحت تحریر ، تقریر، دھرنا، احتجاج کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کئے جانے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے ۔ لیکن اس کے لئے سڑک پر ہنگامہ خیزی کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھنا خطرناک ہوگا۔ اس سلسلے میں ریاست کے کچھ میڈیا والوں کو دوبارہ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے‘‘

غورکرنےکی بات یہ ہے کہ متعلقہ ورکشاپ منعقد کرنے والی کالج اور ادارہ کے افراد جمہوریت میں یقین  رکھنے والے ذمہ دارشہری ہیں۔ وہاں ملک مخالف نعرہ بازی ہونے کی بات پرشک ہوسکتاہے لیکن اس کو مصدقہ کہہ نہیں سکتے ۔ اس سے قبل بھی جے این یو میں طلبا تنظیم کی طرف سے منعقدہ جلسہ میں اسی طرح کے نکمے الزامات عائد کرتے ہوئےمیڈیامیں  بائیں بازو کی تمام فکرکو ملک غدار ہونے کامعنی پہناتے ہوئے  کچھ لوگوں نے ہنگامہ برپا کرکے شرمندگی کا باعث بنے تھے۔

عدم تحمل (بربریت)کی حمایت کرنے جھوٹ پر جھوٹ بولنا پڑتاہے۔ کچھ عرصہ قبل کرناٹکا کے سندگی نامی مقام پر پاکستان کا جھنڈا لہرا نے والے ، ہبلی عدالت میں بم دھماکہ کرکے اقلیتوں پر ملک غداری اور دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگانے والے آج تک جیل کی ہوا کھائے بغیر اصلی دیش بھگت کی طرح میڈیا میں چہک رہےہیں۔ ایسوں کی کارستانیوں کو میڈیا والے ’’اخلاقی پولس گری ‘‘اور’’مذہبی ڈنڈا برسانے والے ‘‘کہہ کرانہیں مزید ترغیب دینے میں کوئی کمی نہیں کررہے ہیں۔

اپنے مخالفین کی اعلیٰ شخصیات ، مخالف گروہ کے معصوم نوجوانوں ، دوسرے دھرم کے معصوم ذات والوں کی موت ہوتی ہے تو واٹس اپ پر پیغامات ارسال کرتے ہوئے خوشی سے ناچنے والے کیا صحت مند سماج کے شہری ہونگے۔ دہوں پہلے ایک ہندوتوا ادیب نے ریاستی اخبار نویسوں سے سر گوشی کے ذریعے کہا تھا کہ ’’ہندوتوا کے حق میں اخباری رپورٹنگ کریں ‘‘ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا آج وہ ناٖفذ تو نہیں کی جارہی ہے؟میڈیا والے اس سلسلے میں دوبارہ غور کریں توبہتر ہوگا۔

                                                                                                                                      بشکریہ : کنڑا روزنامہ ’’ وارتا بھارتی ‘‘

ایک نظر اس پر بھی

حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا،

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اگست ،ستمبرمیں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں از:حکیم نازش احتشام اعظمی

لگ بھگ سات برسوں سے قومی دارلحکومت دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اورملک کے لگ بھگ سبھی صوبوں کو ڈینگو،چکن گنیا،اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر مہلک ترین فلوٗ نے سراسیمہ کررکھا ہے۔

مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک کے لئے مودی حکومت اور بی جے پی پر کڑی تنقید۔۔۔ نیویارک ٹائمز کا اداریہ

مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بیف کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں سر زد ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز نے17جولائی کو جو اداریہ تحریر کیاہے اس کا ...

گائے اور ہندُوتو: جھوٹ اور سچ - آز: شمس الاسلام

'رام'، 'لو جہاد' اور 'گھر واپسی' (مسلمانوں و عیسائیوں کو جبریہ ہندو بنانا) جیسے معاملات کے بعد ہندُتووادی طاقتوں کے ہاتھ میں اب گئو رکشا کا ہتھیار ہے۔ مقدس گائے کو بچانے کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو متشدد بھیڑ کے ذریعے گھیر کر مارپیٹ یہاں تک کہ قتل کر ڈالنے، ان کے اعضاء کاٹ ...

ریاست میں موسلادھار بارش کا قہر جاری،بیدر، گدگ اور کلبرگی میں سات اموات

ریاست بھر میں بارش کی تباہ کاریوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گدگ میں بارش کے سبب تین اموات ہوئیں ، جبکہ بیدر میں بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ کلبرگی میں ایک شخص کی اسی طرح موت ہوگئی۔

دبئی میں ڈاکٹر اسماعیل قاضیا کے نئے ملٹی اسپشلٹی کلنک کا شاندار افتتاح

دبئی میں ڈاکٹر اسماعیل قاضیا کے نئے  ملٹی اسپشلٹی کلنک کا شاندار افتتاح ہوا جس میں ایک عرصہ سے دبئی کے کرامہ میں خدمات انجام دینے والے بھٹکل کے معروف ڈاکٹر اسماعیل قاضیا اپنے فرزندان کے ساتھ  مریضوں کا علاج کریں گے۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر اسماعیل قاضیا کے چاروں فرزند ڈاکٹر ہیں، ...

کل اتوار کو ہوگا بنگلور میں پی ایف آئی کا عظیم الشان جلسہ ’’ہمیں بھی کچھ کہنا ہے ‘‘ : ساحل آن لائن پر ہوگا پروگرام کا لائیو ٹیلی کاسٹ

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیراہتمام 15اکتوبر بروز اتوار کو دوپہر 2بجے بنگلورو کے پیالیس گراؤنڈ میں ’’ ہمیں بھی کچھ کہنا ہے ‘‘ کے مرکزی موضوع پر ایک اہم جلسہ منعقد ہونے کی پی ایف آئی کے ذمہ دار محمد حنیف گنگولی نے جانکاری دی ہے۔