حزب اختلاف اگر متحد ہوجائیں تو مودی لہر کو ناکام کیا جاسکتا ہے : ارون شوری کا اظہار خیال

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 29th May 2018, 4:49 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلور 28 مئی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)  سابق کابینہ وزیر ارون شوری کا خیال ہے کہ اگر اپوزیشن اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو دور کرکے ایک ساتھ آ جائے اور انتخابی حلقوں میں کام کرے تو 2019 میں نریندر مودی حکومت کو روکا جا سکتا ہے ۔

اپنی نئی کتاب میں ارون نے ہندوستانی عدلیہ پر شدید حملہ کیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے اقدامات بھی بتائے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کرناٹک انتخابات، اپوزیشن کی اتحاد اور 2019 انتخابات کو لے کر اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔کرناٹک انتخابات میں کانگریس۔جے ڈ ی ایس کے اتحاد کی جیت اور اس کامیاب ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کوئی اتحاد اچھا یا برا نہیں ہوتا ہے۔ یہ اتحاد کے رہنماؤں پر منحصر ہے۔ اسی طرح کی صورتحال کرناٹک میں بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہاں (کرناٹک) اب بھی وزیر کے عہدے اور نائب وزیر اعلی کو لے کر کئی لیڈرمیں عدم اتفاق ہے، جبکہ ملک خطرے میں ہے۔ واقعی اس کی صورتحال بہت ہی خراب ہے ۔ وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ اگربہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو ان کے اتحاد کو مسترد کردیا جائے گا ۔

ارون شوری آگے کہتے ہیں کہ آج مودی حکومت اسی موڑ پر ہے جہاں یو پی اے تھی لیکن بی جے پی ملک کو تقسیم کر رہی ہے اور یہ ملک کی سیکورٹی کے نظام کو خطرے میں ڈالے جانے کے مترادف ہے ۔ان تمام ہولناک صورتحال کے برعکس عوام تک یہ پیغام بھیجا جا رہا ہے کہ انہیں مودی کو واپس لانے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ہولناکی شدت اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اب ا س کو ٹالا یا اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے ا رون کہتے ہیں کہ آپ کو ساتھ آکر عہد کرنا ہوگا کہ ہر حلقہ میں بی جے پی کے خلاف صرف ایک ہی امیدوار اتارا جائے۔ بہت امیدوار اتارنے کا خمیازہ گجرات اور یوپی میں بھگتنا پڑا تھا ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد نے گواہی دی، دفاعی وکلاء عدالت سے غیر حاضر ، جرح اگلے ہفتہ متوقع

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج اس معاملے میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد کی گواہی عمل میں آئی

مثبت فکر اورتوانائی سے ملک کی ترقی ہوتی ہے:ارون جیٹلی 

مودی حکومت کے ناقدین کو بات بات پر احتجاج کرنے والا بتاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو ان پر جھوٹ گھڑنے اور ایک منتخب حکومت کو کمزور کرکے جمہوریت کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ طبی معائنہ کے لیے امریکہ دورہ پر گئے ارون جیٹلی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اظہار رائے کی ...

عد لیہ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار پر پابندی لگانے والی کئی تجاویزمستردکیں 

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار کے لئے لائسنس اور اس کاروبار پر پابندی لگانے والے کچھ تجاویز جمعرات کومنسوخ کردیئے۔ جسٹس اے کے سیکری کی صدارت والے بنچ نے مہاراشٹر کے ہوٹل، ریستوران اور بار ہاؤس میں فحش رقص پر پابندی اورعورتوں کے وقار کی حفاظت سے متعلق قانون 2016 کے کچھ دفعات ...

شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر ہزاروں عوام  شاہراہ روک کیا  احتجاج : مجموعی استعفیٰ کا انتباہ اور الیکشن بائیکاٹ کا اعلان

تعلقہ کے شرالی میں دن بدن قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر معاملہ گرم ہوتا جارہاہے۔ شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع 45میٹر سے کم کرکے 30میٹر کئے جانےکی مخالفت کرتے ہوئے جمعرات کو ہزاروں لوگو ں نے قومی شاہراہ روک کر سخت احتجاج درج کیا۔ اس دوران عوامی مانگوں کو منظوری نہیں دی گئی تو ...

بھٹکل انجمن بی بی اے کی طالبہ مریم حرا کو  کرناٹکا یونیورسٹی سطح پر دوسرا رینک

انجمن انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بھٹکل کی طالبہ مریم حرابنت ارشاد ائیکری ڈاٹا نے کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کے زیر اہتمام اپریل 2018میں منعقد ہوئی بی بی اے امتحانات میں پوری یونیورسٹی میں دوسرارینک حاصل کرتے ہوئے انجمن اور شہر کا نام روشن کیا ہے۔