وزیر اعظم کے قتل کی سازش معمولی بات نہیں، اس کے ملزمین کو سخت سزا ملنی چاہئے: یوٹی قادر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd September 2018, 11:59 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو2؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر ہاؤزنگ یوٹی قادر نے کہا ہے کہ ہر تین ماہ میں ایک بار یہ دعویٰ کہ وزیر اعظم مودی کی جان کو خطرہ ہے، انہیں مارنے کی سازش رچائی گئی ہے اس سے ملک کی سیکورٹی ایجنسیوں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، اگر واقعی کسی نے وزیراعظم کو مارنے کی سازش رچی ہے تو اس کی نشاندہی کرکے اے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ غیر ضروری طور پر ہر دو تین ماہ میں ایسا ڈرامہ کرنا وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو جان سے مارنے کی سازش رچانا معمولی بات نہیں ہے اس کی سخت الفاظ میں نہ صرف مذمت کرنی چاہئے بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں کو یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ ایسی حرکت کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ کون ہے وہ ملک کا دشمن جو وزیر اعظم کو قتل کردینا چاہتاہے۔ اس سازش کے پیچھے کونسی طاقتیں کار فرما ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی سیکورٹی کے لئے جو ایجنسی ذمہ دارہے اس کا شمار دنیا کی اعلیٰ ترین سیکوریٹی ایجنسیوں میں کیا جاتاہے ، اگر ایسی ایجنسی وزیر اعظم کو قتل کرنے کی سازش کا پتہ لگانے میں ناکام ہے تو اسے سیکوریٹی ایجنسی کی کمزوری سے تعبیر کیا جائے گا۔بارہا اس طرح کی خبریں اڑائی نہ جائیں۔

انہوں نے کہاکہ وقفے وقفے سے اس قسم کی خبریں عام کرکے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عوام سے ہمدردی مل جائے گی تو وہ خام خیالی ہے۔ دراصل اس طرح کی خبریں اڑانے سے عوام پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ جس حکومت میں وزیر اعظم ہی محفوظ نہیں وہاں عوام کیوں کر محفوظ ہوں گے؟۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس تشہیری کمیٹی کے نئے صدر ایچ کے پاٹل نے عہدہ کا جائزہ لے لیا ملک کواچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار پرآئی بی جے پی کے لیڈروں نے ملک کوبے روزگاروں کا مرکز بنا دیاہے:وینو گوپال

سابق ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل نے آج کرناٹک پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے عہدہ کاجائزہ لے لیا ۔

بی جے پی کوابھیشک منوسنگھوی نے کہا ، کرناٹک میں کھلواڑہوتاتوقانونی منصوبہ تیارتھا

کرناٹک کے تازہ سیاسی واقعات کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو کہا کہ اگر بی جے پی ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنے ’آپریشن لوٹس‘پر آگے بڑھتی تو اس کومنہ توڑجواب دینے کے لیے کانگریس نے منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔