مکہ مسجد دھماکہ معاملہ: 11 سال بعد آج آ سکتا ہے عدالت کا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th April 2018, 12:27 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد، 16؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)   مکہ مسجد دھماکہ کیس میں 11 سال بعد آج فیصلہ آ سکتا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت میں دھماکہ سے منسلک معاملہ میں آج سزا سنائی جا سکتی ہے۔ 2007 میں حیدرآباد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکے میں نو افراد ہلاک جبکہ دیگر 58 زخمی ہو گئے تھے۔

کب ہوا تھا دھماکہ؟ اٹھارہ مئی 2007 کو جمعہ کی نماز کے دوران حیدرآباد مکہ مسجد میں ایک دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں 9 افراد ہلاک جبکہ دیگر 58 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی تھی جس میں پانچ اور لوگ مارے گئے تھے۔ اس واقعے میں 160 چشم دید گواہوں کے بیانات درج کیے گئے تھے۔

کون ہے ملزم؟ جانچ کے بعد اس واقعہ میں دس لوگوں کو ملزم بنایا گیا۔ اس میں ابھینو بھارت کے تمام ارکان شامل ہیں۔ سوامی اسیمانند سمیت دیویندر گپتا، لوکیش شرما عرف اجے تیواری، لکشمن داس مہاراج، موہن لال رتیشور اور راجیندر چوہدری کو اس معاملے میں ملزم قرار دیا گیا۔ دو ملزم رام چندرکالسانگرا اور سندیپ ڈانگے اب بھی فرار ہیں۔ تحقیقات کے دوران ہی آر ایس ایس کے سنیل جوشی کو گولی مار دی گئی تھی۔

جانچ میں کیا ہوا؟ مقامی پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا۔ سی بی آئی حکام نے 68 چشم دیدوں کی گواہی درج کی تھی۔ ان میں سے 54 گواہ اب گواہی سے مکر گئے ہیں۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ بھی داخل کی۔ بعد میں اس کیس کو اپریل 2011 میں این آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

ایئرٹیل کا منافرت آمیز فرقہ وارانہ’ قدم‘ مسلم نمائندہ سے صارف راضی نہیں تو نوکری سے کردیا فارغ 

ملک میں فرقہ ورایت کا زہر آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست ذیلی تنظیموں کی طرف سے پھیلایاگیا اب اس کا صاف اثر زندگی کے تمام شعبوں میں نظر آرہا ہے اسی ذیل میں ائیرٹیل کو اس وقت لوگوں کی بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک صارف کی مانگ پر ہندو نمائندہ بھیجنے کو تیار ہو گئی

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے ووہرا کی سفارش

کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں وکشمیر میں اتحادی حکومت سے الگ ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی۔پی ڈی پی کے موقع پرستانہ اتحاد نے ریاست میں آگ لگانے کا کام کیا اور ترقی پسند اتحاد حکومت کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

جموں کشمیر میں جلدالیکشن کرائے جائیں،صدرراج طویل نہ ہو، عمرعبداللہ نے گورنرسے ملاقات کی،بی جے پی ،پی ڈی پی بدحالی کی ذمہ داری قبول کریں

نیشنل کانفرنس کے ایگزیکٹو چیئرمین عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں گورنر راج کی آج حمایت کی اور ریاست میں نئے سرے سے جلد انتخابات کرائے جانے پر زور دیا تاکہ لوگ اپنی حکومت منتخب کر سکیں۔