جنیوا : انسانی حقوق کونسل میں یمن میں بچوں کی بھرتی کا معاملہ زیر بحث

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th March 2018, 5:15 PM | عالمی خبریں |

پیرس6مارچ(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 4 رپورٹیں پیش کی گئی ہیں جن میں یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیوں کی جانب سے پیش کی گئی ان رپورٹوں میں تا دم مرگ تشدد، صحت، دہشت گردی کے پھیلاؤ اور بچوں کی بھرتی سے متعلق امور کو بیان کیا گیا ہے۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے اسکول کے بچوں کو زبردستی بھرتی کیا جاتا ہے اور پھر انہیں تربیت کے بغیر ہی لڑائی کے محاذوں پر جھونک دیا جاتا ہے۔اقوام متحدہ میں بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر اسٹریڈ اسٹیوکیلبرگر نے یمن میں بچوں کی بھرتی کے بارے میں پریزینٹیشن پیش کی۔ انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ "یمن میں بھرتی کیے جانے والے بچوں کو جن میں 40 فیصدی لڑکیاں ہوتی ہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ لڑائی میں حصّہ لینے کے لیے جا رہے ہیں۔ ان بچوں کو گھروں اور اسکولوں تک واپس لانا ایک دشوار مشن ہے کیوں کہ انہیں جبری طور پر بھرتی کیا جاتا ہے ۔جیلوں اور حراستی مراکز میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے تشدد کیجرائم کے نتیجے میں گزشتہ برس 28 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تمام افراد کسی عسکری سرگرمی میں شریک نہیں تھے۔یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے والے اتحاد کے رکن براء شیبان نے بتایا کہ ہم نے حوثیوں کی جیلوں میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں کا پورا معاملہ آگے پیش کر دیا ہے اور اب ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی کا انتظار ہے تا کہ حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول جیلوں میں تشدد کے جرائم سے متعلق تفصیلات سامنے آ سکیں ۔ادھر یمن میں حوثیوں کی کارستانیوں کے سبب 5 ہزار طبّی ادارے تباہی اور نظر اندازی کا شکار ہو گئے۔ اس کا نتیجہ 10 ہزار افراد کی موت اور 35 ہزار کے زخمی ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔گزشتہ برس اگست میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق یمن میں 2.6 کروڑ کی مجموعی آبادی میں 80% افراد کو فوری طور پر انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...